BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کوئی تجھ سا کہاں‘ کامیاب ترین

بطور فلمساز اور ہدایتکارہ ریما کی یہ پہلی فلم ہے۔
سال دو ہزار پانچ کے دوران پاکستان میں کل اڑتالیس فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں پشتو کی پچیس، پنجابی کی تیرہ، اردو کی دس شامل ہیں۔ اس سال سب سے کامیاب فلم ریما کی ’کوئی تجھ سا کہاں‘ تھی۔ بطور فلمساز اور ہدایتکارہ ریما کی یہ پہلی فلم ہے۔

دوسری طرف پاکستان کی فلمی تنظیمیں گزشتہ چند برسوں سے سینما گھروں میں بھارتی فلموں کی نمائش کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔ سال دو ہزار پانچ میں بھی اس حوالے سے کوششیں عروج پر رہیں مگر کچھ حاصل نہ ہوا اور یہ سال بھی بھارتی فلموں کی نمائش کے لیے حکومتی اجازت نامے کے انتظار میں ہی گزر گیا۔اس سلسلے میں پہلی کوشش ایشوریا رائے کی فلم’برائیڈ اینڈ پریجوڈس‘ کی نمائش کے لیے کی گئی جو تمام تر کوششوں کے باوجود کامیاب نہ ہو سکی۔

اس کے بعد فلم ’مغلِ اعظم‘ کی نمائش کے حوالے سے خبریں آنا شروع ہو گئیں- حتیٰ کہ ایک خبر میں صدر پرویز مشرف کی طرف سے بھی اس فلم کی نمائش کے لیے رضامندی ظاہر کی گئی مگر سال کے اختتام تک ’مغلِ اعظم‘ کی بھی نمائش کی اجازت نہ مل سکی۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کی طرف سے سارا سال بھارتی فلموں کی نمائش کے حوالے سے متضاد بیانات آتے رہے۔

نیہا دھوپیا اور معمر رانا
پاکستان فلم انڈسٹری کے نمائندہ افراد پر مشتمل ایک وفد نے اسلام آباد میں وزیر اعظم شوکت عزیز سے بھی ملاقات کی۔ وفد کے اراکین کے مطابق وزیر اعظم نے یقین دلایا کہ وہ اس بارے سنجیدگی سے غور کریں گے۔ سال کے اختتام تک وزیر اعظم کی طرف سے بھی غور کے سوا کچھ نہ کیا گیا۔ اس کے بعد بھارت کے سیکرٹری کلچر اور پاکستان کے سیکرٹری کلچر کے درمیان اسلام آباد میں ملاقات ہوئی جس میں تجویز دی گئی کہ پہلے بھارت میں پاکستانی فلم فیسٹیول ہو گا اور بعد میں پاکستان میں بھارتی فلم فیسٹیول ہوگا۔ سال کے اختتام تک اس تجویز پر بھی عملدرآمد نہ ہوسکا۔

پاکستان کی فلمی تنظیمیں لالی وڈ کی بقا کا راز بھارتی فلموں کی نمائش میں تلاش کر رہی ہیں۔ اس نظریے اور سوچ کے سب سے بڑے حامی پاکستان فلم ایگزیبیٹرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین ضوریز لاشاری کا کہنا ہے کہ سال دوہزار پانچ میں بھارتی فلموں کی نمائش کے لیے بہت کوششیں ہوئیں جن میں ایک بڑی کوشش وزیراعظم سے ملاقات تھی۔

یہ بات باعث حیرت ہے کہ سینما میں تو بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت نہیں دی گئی مگر کارا فلم فیسٹیول میں بھارتی فلمیں دکھائی گئیں جس میں صدر پرویز مشرف مہمان خصوصی تھے۔ اس دوہرے معیار پر فلم انڈسٹری کو سخت مایوسی ہوئی۔

’مغلِ اعظم‘ کی بھی نمائش کی اجازت نہ مل سکی۔
’میں نے سیکرٹری ثقافت جلیل عباس کو خط بھی لکھا کہ بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی ہے اس لیے کارا فیسٹیول میں بھی اس کی اجازت نہ دی جائے۔ مجھے اس خط کا ابھی تک جواب موصول نہیں ہوا۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ بھارت کے پیاز‘آلواور بکریاں کھانے سے تو بدہضمی نہیں ہوتی لیکن بھارتی فلمیں ہمیں ہضم نہیں ہوتیں۔‘

اگرچہ سال دو ہزار پانچ کے دوران بھارتی فلموں کی نمائش اجازت تو نہ مل سکی تاہم دونوں ملکوں کی فلمی شخصیات کا آنا جانا لگارہا۔ کچھ پاکستانی فنکاروں نے بھارتی فلموں میں کام کیا اور کچھ بھارتی فنکاروں نے پاکستان میں۔ کراچی میں دو دفعہ کارا فیسٹیول ہوا جس میں مہیش بھٹ، پوجا بھٹ، اوم پوری، عرفان خان اور انوپم کھیر شریک ہوئے۔ اداکارہ’کم کم‘ دو دفعہ پاکستان آئیں ایک دفعہ ٹی وی ڈرامے کی ریکارڈنگ کے لیے کراچی اور دوسری دفعہ لاہور میں ایک تاجر کی بیٹی کی سالگرہ میں شرکت کے لیے۔ نصیرالدین شاہ شعیب منصور کی فلم ’خدا کے لیے‘ کی عکسبندی کے لیے آئے۔ شترو گن سنہا اس سال تین بار پاکستان آئے۔ سبھاش گئی بھی آئے۔ راج ببر جہانگیر بدر کی کتاب کی تقریب رونمائی میں شریک ہوئے۔ ملائکہ اروڑہ اور امریتا اروڑہ نے لاہور میں ایک شادی میں پرفارم کیا۔ قطرینہ کیف اور یانا گپتا دو دفعہ لاہور آئیں ایک دفعہ شادی کی تقریب میں اور دوسری دفعہ فورٹریس سٹیڈیم میں شو میں پرفارم کرنے کے لیے۔ اس شو میں سیف علی خان نے بھی شرکت کی مگر ورک پرمٹ نہ ہونے کی وجہ سے پرفارم نہ کر سکے۔ عامرخان شوکت خانم کی فنڈ ریزنگ کے لیے ڈنر میں شرکت کے لیے آئے۔

پاکستان سے جوفلمی شخصیات بھارت گئیں ان میں میرا، ثنا، شہزاد رفیق، جاوید شیخ، سیدنوراور جاوید رضا شامل ہیں۔ میرا نے اس سال دو بھارتی فلموں ’نظر‘ اور ’کسک‘ میں کام کیا۔ ثنا بھارتی فلم ’قافلہ‘ میں کام کر رہی ہیں۔ جاوید رضا نے اپنی فلم کا ایک گانا نیہا دھوپیا پر عکسبند کیا۔

اس سال لالی ووڈ کی کچھ شخصیات دنیا سے رخصت ہو گئیں ان میں موسیقار امجد بوبی، اداکار رنگیلا، خلیفہ نذیر اور گلوکار پرویز مہدی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
ریما کی پیشکش
08 February, 2004 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد