BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 December, 2005, 16:24 GMT 21:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئے رجحانات اور بدلتے رشتوں کی فلموں کا سال

امیتابھ اور ابھیشک بچن
ممبئی کی فلم نگری میں یہ سال بچن خاندان کے نام رہا
دو ہزار پانچ میں بالی وڈ کو کئی نشیب و فراز سے گزرنا پڑا ہے۔ سال کے آغاز میں واشو بھگنانی کی فلم’وعدہ‘، پوجا بھٹ کی’روگ‘ اور وکرم بھٹ کی’اعلان‘ جیسی کئی فلموں سے شائقین کو بڑی امیدیں وابستہ تھیں لیکن یہ تمام فلمیں سپر فلاپ ثابت ہوئیں۔

شومین سبھاش گھئی کی فلم’ کسنا‘ کے تو بڑے تذکرے تھے لیکن بڑے بجٹ کی ان کی بھی یہ فلم ناظرین کو پسند نہیں آئی۔

تھوڑے دن بعد ہی مہیش بھٹ پروڈکشن کی فلم ’ زہر‘ ریلیز ہوئی۔ یہ فلم بھی کچھ خاص نہیں تھی لیکن ہیرو عمران ہاشمی اور ہیروئن اودتا گوسوامی کے ’ہاٹ‘ سین فلم شائقین کو ایک مرتبہ پھر سنیما گھر تک کھینچ لانے میں کامیاب ہوئے۔

کسنا شائقین کی دلچسپی حاصل کرنے میں ناکام رہی

اس کے بعد مدھر بھنڈارکر کی فلم’پیج تھری‘ آئی۔ کم بجٹ کی اس فلم سے اس برس کامیاب فلموں کی ابتداء ہوئی۔ ’ پیج تھری‘ ایک خاص سماج میں پنپتے نئے رجحانات پر مبنی فلم تھی جس نے امیر ترین اور ممبئی کے اپر کلاس طبقے کے پول کھولنے کا کام کیا۔ اس فلم میں’ کاؤچ کاسٹنگ‘ یعنی فلمی اداکاراؤں کے جنسی استحصال سے لیکر امیر ترین طبقے کے نام نہاد لائف سٹائل تک کا لیکھا جوکھا تھا۔ ناظرین کو یہ فلم پسند آئی۔ فلم نے باکس آفس پر خوب کمائی کی اور تفریحی زمرے میں اس برس کے نیشنل فلم ایوارڈ سے بھی اسے نوازا گیا۔

’پیج تھری‘ جہاں خود ایک خاص سماج کی عکاس تھی وہیں اس نے بالی وڈ کو معاشرے میں پنپنے والے نئے رجحانات اور بدلتے رشتوں پر بننے والی فلموں کا ایک نیا ٹرینڈ بھی دیا۔اس ضمن میں ’ہزاروں خواہشیں‘،’ کل یگ‘، ’اپہرن‘ اور ’سلام نمستے‘ اس برس کی کامیاب فلمیں رہیں۔

پیچ تھری کی ہیروئن کونکنا سین

ہدایت کار سدھارتھ راج آنند نے ’لِو اِن ریلیشن شپ‘ یعنی بغیر شادی کے مقبول ہوتے آزادانہ جنسی رشتوں پر مبنی فلم ’سلام نمستے‘ بنائی اور فلم کو کافی سراہا گیا۔

موضوع کے اعتبار سے بھٹ پروڈکشن کی ’کل یگ‘ اس برس کی نئی فلم ہے۔یہ فلم ’پرونوگرافی‘ یعنی جنسی فلموں کے متعلق ہے۔ اس برس ہندوستان میں خفیہ طور پرذاتی زندگی کے فلمانے کے کئی واقعات ہوئے تھے اور میڈیا سمیت سماج کی ہر جانب سے اس پر نکتہ چینی ہوئی تھی۔

فلم تجزیہ کار اندو میرانی کہتی ہیں کہ اب ناظرین کو حقیقی زندگی پر مبنی فلمیں پسند ہیں۔ وہ کہتی ہیں’ چند برس قبل حقیقی واقعات پر مبنی فلمیں بالکل نہیں چلتی تھیں لیکن اب لوگوں کو اس میں کافی دلچسپی ہے۔ ایسی پرانی قدروں پر مبنی فلم جنہیں جدید دور میں چیلنج کا سامنا ہے لوگوں کو پسند آتی ہیں اور اب مصالحہ فلموں کا دور ختم ہوچکا ہے‘۔

مرکزی خیال کی مناسبت سے اس برس کی یبشتر فلمیں شہری زندگی پر ہی مبنی تھیں اور اصل بھارت کے دیہات کی جھلکیاں کم دیکھنے کو ملیں۔ فلم تجزیہ کار امود مہرا کہتے ہیں کہ ’تجارتی نکتہ نظر سے فلموں کا بڑا بازار اب شہروں تک محدود ہے۔ اب ٹکٹ بہت مہنگے ہیں اور فلمیں ملٹی پلیکسز کے مطابق بنائی جاتی ہیں اس لیے دیہات کا ذکر کم ہوتا ہے‘۔

’بلیک‘ دنیا کی پانچویں بہترین فلم قرار پائی

بالی وڈ کے کئی ہدایت کاروں نے یہ کوشش ضرور کی کہ فلمیں تفریح طبع کے ساتھ ساتھ سماج کے لیے ایک پیغام بھی ثابت ہوں۔ اس ضمن میں سنجے لیلا بھنسالی کی ’بلیک‘، انوپم کھیر کی ’میں نے گاندھی کو نہیں مارا‘ اور ناگیش ککنور کی ’اقبال‘ قابل ذکر فلمیں ہیں۔

سنجے لیلا بھنسالی کی فلم’ بلیک‘ کی تیاری میں بھاری رقم صرف ہوئی۔ ابتداء میں یہ فلم نہیں چلی لیکن لیکن آہستہ آہستہ فلم لوگوں کی سمجھ میں آئی اور بیشتر فلمی نقادوں نے بھی اسے سراہا۔ رانی مکھرجی اور امتیابھ بچن نے اس فلم میں کمال کی اداکاری کی۔ امریکی جریدے ٹائم نے اس فلم کو 2005 کی دس بہترین فلموں میں شمار کیا ہے۔

اس صنف میں اس برس کی سب سے کامیاب فلم ’اقبال‘ رہی۔ سبھاش گھئی پروڈکشن کی اس فلم نے بالی وڈ میں تہلکہ مچا دیا۔ بجٹ سستا، کم کپڑوں میں ناچتی گاتی کوئی ہیروئین نہیں اور ہیرو بھی گونگا، لیکن ناظرین پھر بھی فلم کے دیوانے۔

’اقبال‘ کی کامیابی سے سماجی فلمیں بنانے والوں کو تقویت پہنچی

اپنی اس فلم کے متعلق ہدایات کار ناگیش ککنور کا کہناہے کہ’ایسی فلموں کی کامیابی سے لگتا ہے کہ سنیما ایک بار پھر معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال ہوگا‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ساٹھ کی دہائی میں بالی وڈ کی اکثر فلمیں سماجی مسائل کی جھلکیاں پیش کرتی تھیں اور ایک بار پھر وہ دور آئےگا جب آرٹ فلم اور کمرشل فلموں میں فرق کم رہ جائےگا‘۔

اس برس کامیڈی فلموں کا بھی خوب بول بالا رہا اور ہر دوسری آنے والی فلم طنز و مزاح کا خزانہ تھی۔ عام طور پر کامیڈی فلموں کا بجٹ کم ہوتا ہے اور باکس آفس پر وہ اپنی قیمت بھی بآسانی وصول کر لیتی ہیں۔ اس صنف میں ’میں نے پیار کیوں کیا‘، ’نو انٹری‘ اور’گرم مصالحہ‘ سب سے مقبول فلمیں رہیں جو باکس آفس پر بھی اچھا بزنس کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

نو انٹری کامیاب کامیڈی فلم رہی

فلم تجزیہ کار امود مہرا کا کہنا ہے کہ’اب سنجیدہ موضوع کے بجاۓ تفریحی مواد لوگوں کو بہت پسند ہے۔ سماج میں تناؤ بہت ہے اور ایسے میں لوگ خوشی کے چند پل کی تلاش میں رہتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اکثر کامیڈی فلمیں اچھا بزنس کرتی ہیں‘۔

ایک تخمینے کے مطابق اس برس ممبئی فلم نگری سے تقریبا ڈیڑھ سو فیچر فلمیں ریلیز ہوئی ہیں۔ لیکن یہ تعداد جتنی بڑی ہے کامیاب فلموں کی فہرست اتنی ہی کم ہے۔ پردیپ سرکار کی ’پری نیتا‘، امول پالیکر کی’پہیلی‘، شاد علی کی’ بنٹی اور ببلی‘، سدھیر مشرا کی ’سلام نمستے‘، رام گوپال ورما کی’سرکار‘ اور مہیش منجریکر کی ’ورودھ‘ باکس آفس پر اس برس کی کامیاب فلمیں رہیں۔

پری نیتا میں ودیا بالن کی اداکاری کو خوب سراہا گیا

’پری نیتا‘ ایک رومانوی فلم ہے جس کی کہانی ایک بنگلہ ناول سے لی گئی ہے اور اس پر پہلے بھی ایک فلم بن چکی تھی۔ یہ فلم تکنیکی و جمالیاتی دونوں اعتبار سے اپنے آپ میں مکمل تھی۔ ڈائریکٹر پردیپ سرکار کی اس فلم میں کلاسیکی سنیما کی جھلک بھی دکھتی ہے۔

تفریحی فلموں میں اس برس کی سب سے مقبول و مشہورفلم ’ بنٹی اور ببلی‘ بھی ہے۔ شاد علی نے اپنی پہلی فلم ’ساتھیا‘ سے ہی ثابت کردیا تھا کہ ان میں کچھ نیا کرنے کا جذبہ ہے۔ اس فلم کی کہانی ، پیش کش کا انداز ، انسانی رشتے جذبات، طنز و مزاح سب کچھ کمال کا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس فلم کے تقریبا سبھی نغمے سپر ہٹ ہوئے ہیں۔

امود مہرا کے مطابق’اس برس یہی ایک فلم ہے جو بڑے شہروں سے لےکر گاؤں تک ہر طرح سے مقبول ہوئی ہے‘۔

رانی مکھر جی اس سال بالی وڈ کی ’رانی‘ رہیں

امول پالیکر کی’پہیلی‘ کا ذکر اس لیے ضروری ہے کیونکہ یہ قدرے تجرباتی فلم تھی جس میں اصل کرداروں کے ساتھ ساتھ کٹھ پتلیوں کا بھی خوب استعمال کیا گیا ہے۔ رانی مکھرجی کے ساتھ شاہ رخ خان نے اس میں ڈبل رول کیا ہے۔ اس فلم کو آسکر ایوارڈ کے لیے بھی بھیجا گیا ہے لیکن فلم ناقدین کا کہنا ہے کہ دوسری بہترین فلموں کی موجودگی میں ’پہیلی‘ کو بھیجنا خود ایک پہیلی ہے۔

ہمیشہ نئے فارمولے کی تلاش میں رہنے والی ممبئی فلم نگری کو ’لگان‘ اور ’بھگت سنگھ‘ جیسی کامیاب فلموں کے بعد ’پیریڈ فلمز‘ یعنی تاریخی فلموں کا دور شروع ہوا ہے۔ پروڈیوسرز کے لیے کامیابی کا یہ ایک نیا نسخہ ہے اور تاریخی فلموں کا ایک رواج سا چل پڑا ہے۔

اس برس بھی تین بڑی تاریخی فلمیں ریلیز ہوئیں لیکن اگر یہ کہا جائے کہ تاریخی کہانیوں پر مبنی بڑے بجٹ کی فلموں کی ناکامی کا سلسلہ جاری رہا تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ شیام بینیگل کی ’دی فار گاٹن ہیرو‘ ، عامر خان کی ’منگل پانڈے‘ اور اکبر خان کی ’تاج محل‘ جیسی تاریخی فلمیں باکس آفس پر چاروں شانے چت ہوگئیں۔

’منگل پانڈے دا رائزنگ‘ کے نغموں کو سننے کے بعد ایسا لگا کہ ہدایت کار کیتن میہتا اور عامر خان کی جوڑی بالی وڈ میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے میں کامیاب ہوگی لیکن ایسا نہیں ہوا اور ’منگل پانڈے‘ شائقین کی بھیڑ تھیٹر تک کھینچنے میں ناکام رہی۔ بالی وڈ کی تاریخ میں یہ سب سے بڑے بجٹ کی فلم تھی لیکن یہ اس برس کی سپر فلاپ فلم بتائی گئی ہے۔

منگل پانڈے کی موسیقی سپر ہٹ رہی

’منگل پانڈے‘ کی ناکامی پر فلم تجزیہ کاروں کی بحث ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایک اور تاریخی فلم ’تاج محل‘ ریلیز ہوئی۔ مغل شہنشاہ شاہ جہاں اور ان کی بیوی ممتاز محل کے پیار و محبت پر مبنی اکبر خان کی اس فلم کے تذکرے کافی دنوں سے جاری تھے لیکن جس شہرت سے یہ فلم تھیٹر تک پہنچی اسی خاموشی سے اتر بھی گئی۔

چالیس برس قبل بھی اسی موضوع پر تاج محل نام کی ایک فلم بنی تھی تو پھر اکبرخان نے دوبارہ اس پر ستّر کروڑ روپے کیوں خرچ کیے۔ بی بی سی سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ’ تاج محل کی خوبصورتی اور اسکی کہانی کے متعلق میں نے اپنے جذبات کے اظہار کے لیے یہ فلم بنائی ہے‘۔

فلم تجزیہ کار اندو میرانی نے اس فلم کی ناکامی کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ ’تاج محل میں کوئي اچھا اداکار نہیں تھا اور آج کل فلموں میں فیس ویلیو کی بڑی اہمیت ہے۔ اکبر خان نے اس میں ستّر کروڑ روپے خرچ کیے ہیں لیکن میرے نزدیک تاج محل صرف تین کروڑ کی فلم ہے‘۔

تاج محل میں نوشاد جیسے ماہر موسیقار نے کام کیا اور اپنی انوکھی موسیقی کے انمٹ نقوش بھی چھوڑ نے میں بھی کامیاب رہے لیکن ان کی آخری فلم باکس آفس پر اپنا جادو نہ چلا سکی ۔

نوشاد نے ’تاج محل‘ کی موسیقی دی

گزشتہ برس ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بدلتے رشتوں پر مبنی کئی فلمیں ریلیز ہوئی تھیں لیکن اس برس اس موضوع پر بھی کوئی فلم نہیں آئي۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سال دونوں ملکوں کے فنکاروں اور فلم انڈسٹری کے درمیان تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔

لالی وڈ کے کئی فنکاروں نے بالی وڈ میں اپنے جوہر دکھائے ہیں۔ سال کی شروعات میں ہی مہیش بھٹ کی فلم زہر میں عاطف اسلم میر جہاں ایک نغمہ گا کر شائق‍ین کا دل جیتنے میں کامیاب ہوئے وہیں دوسرے پروڈیوسرز نے ان کی آواز کو پسند کیا اور اپنی فلموں کے لیے انہیں پھر سائن کیا۔

عاطف کے اس نغمے کا خمار ابھی لوگوں کے دماغ سے اترا بھی نہ تھا کہ بھٹ پروڈکشن کی فلم ’نظر‘ میں اداکارہ میرا نے دھوم مچا دی۔ ’نظر‘ میں بوس و کنار کے مناظر کے سبب میرا پر نکتہ چینی بھی ہوئی لیکن فلم کے باکس آفس پر درمیانہ بزنس کرنے کے سبب ان کی اداکاری کو کافی سراہا گیا۔

میرا کی ’نظر‘ نے درمیانے درجے کا بزنس کیا

میرا کے نقش قدم پر چلنے والی دوسری پاکستانی اداکارہ ثناء تھیں۔ بالی وڈ میں قدم رکھتے ہی ثنا کو سنّی دیول جیسے بڑے ہیرو کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور یہ سلسلہ ایسے چلا کہ بالی وڈ کے بھی کئی ادا کار آج کل لالی وڈ میں اپنی قسمت آزمائی کرہے ہیں۔

اندو میرانی حال ہی میں پاکستان دورے سے واپس آئی ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں فلم انڈسٹری کچھ خاص نہیں ہے لیکن ٹی وی کے اداکاروں اور رائٹرز میں بلا کی صلاحیت ہے۔ ایسے لوگوں کو بھارت بلانا چاہیے اور اگر دونوں جانب کے فنکار و ادیب ایک دوسرے سے ملتے رہیں تو انڈسٹری کو بہت فائدہ ہوگا‘۔

بالی وڈ میں پاکستانی فنکاروں کی کار کردگی کا اگر جائزہ لیا جاۓ تواس فہرست میں راحت فتح علی خان کا ذکر ضروری ہے جن کی سحر انگیز آواز کا جادو آج کل سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ سال کے آخری مہینے میں ریلیز ہوئی فلم ’کلیگ‘ کی کامیابی کا راز راحت کے ایک نغمے ہی کے سر ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ سال کی شروعات میں عاطف اسلم نے جس آواز کا جادو جگایا تھا اسے راحت آئندہ برس تک قا‏ئم رکھنے میں کامیاب ہونگے تو غلط نہ ہوگا۔

عاطف اسلم کی آواز کا جادو سر چڑھ کر بولا

اس برس کی اور بھی بہت ایسی فلمیں ہیں جنہیں شہرت خوب ملی لیکن باکس آفس پر وہ درمیانہ بزنس ہی کرسکیں۔’اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو‘ ، ’شبد‘ ، ’بے وفا‘، ’ٹینگو چارلی‘ ’ہزاروں خواہشیں‘، ’عاشق بنایا آپ نے‘، ’اجنبی‘
، ’انسان‘، ’ یقین‘، ’فریب‘، ’سحر‘ اور ’برسات‘ جیسی فلمیں اسی زمرے میں شامل ہیں۔ لیکن بجٹ کم ہونے کے سبب فلمسازوں کو ان فلموں سے نقصان نہیں اٹھانا پڑا۔

سال دو ہزار پانچ اختتام کے ساتھ ہی اپنے پیچھے فلموں کی ایک بڑی تعداد چھوڑ گیا ہے۔ لیکن اس میں یادگار فلموں کی تعدار بہت کم ہے۔ اس برس کی خاص بات یہ رہی کہ بڑے بجٹ کی تقریبا سبھی فلمیں باکس آفس پر نام کام ہوگئیں۔

سیف علی خان کے لیے یہ برس کامیابی کی نوید لایا

گزشتہ برس کے مقابلے سیف علی خان کی اداکاری میں اس برس مزید نکھار دیکھا گیا۔ ’پری نیتا‘ میں بہترین اداکاری کے سبب انہیں نیشنل فلم ایوارڈ سے نوازا گیا اور ’سلام نمستے‘ میں بھی انہوں نے شائقین کو مایوس نہیں کیا۔

’نو انٹری‘ میں سلمان خان، ’بلف ماسٹر‘ میں ابھیشیک بچن اور منگل پانڈے میں عامر خان جیسے اداکار بھی فل انرجی میں نظر آئے لیکن دو ہزار پانچ اگر کسی کے نام ہے تو وہ ہیں بالی وڈ کے شہنشاہ امتیابھ بچن۔

اطلاعات ہیں کہ ’ بلیک‘، ’سرکار‘، ’ورودھ‘ اور ’بنٹی اور ببلی‘ جیسی فلموں بہترین اداکاری کے لیے اس برس کے فلم فیئر ایوارڈ کے لیے انہیں نامزد کیا جا رہا۔ سال کے آخری مہینے میں بیماری کے سبب بھی امتیابھ سرخیوں میں رہے لیکن دو ہزار پانچ میں ان کی ایک درجن سے زائد فلمیں ریلیز ہوئيں اور کئی کامیاب ہوئیں۔

’پہیلی‘، ’بلیک‘ اور’بنٹی اور ببلی‘ میں رانی مکھرجی نے بھی بہترین اداکاری کی اور اگر پورے سال کا جائزہ لیا جائے تو اس بار رانی مکھرجی ہی بالی وڈ کی اصل رانی رہی ہیں۔ ’پیچ تھری‘ کی اداکارہ کونکونا سین، پری نیتا کی ہیروئن ودیا بالن اور ’سلام نمستے‘ میں پریتی زنٹا کی اداکاری کے کافی تذکرے رہے۔

’اپہرن‘ میں بپاشا باسو ایک نئے روپ میں نظر آئیں

سیکسی امیج والی اداکارہ بپاشا باسو ’اپہرن‘ میں بالکل نئے رول میں نظر آئیں اور اپنی شبیہ کی تبدیلی سے وہ کافی خوش بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’میری امیج ایک سیکسی لڑکی کی ہے کیونکہ زیادہ تر فلموں میں میرا رول ہی ایسا ہے لیکن ڈائریکٹر پرکاش جھا نے’اپہرن‘ میں مجھے بالکل الگ طرح کا رول دیا ہے۔ میں تبدیلی سے خوش ہوں‘۔

بالی وڈ میں اس برس کئی شادیاں بھی ہوئیں اور زید خان ، فردین خان اور عامر خان نے اپنی اپنی گرل فرینڈز کے ساتھ بیاہ رچا لیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب یہ ستارے مزید چمکتے ہیں یا ذاتی زندگی میں مصروفیات کے سبب پھیکے پڑتے ہیں۔

فلم شائقین کے لیے دو ہزار چھ میں بھی تفریح کے لیے بہت کچھ ہے۔ آنے والی فلموں میں راکیش اوم پرکاش مہرہ کی’رنگ دے بسنتی‘، انل مہتا کی ’انجانے‘، وینسٹ سلوا کی ’ایک حسینہ ایک دیوانہ‘، آلوک سری واستو کی ’جانے کیا ہوگیا‘، منیش شرما کی ’جوانی دیوانی‘، گورو پانڈے کی ’ لپس‘، اسلم صدیقی کی ’نہلے پہ دہلا‘ اور نمبس پروڈکشن کی ’سرحد پار‘ جلد ہی ریلیز ہونے والی ہیں۔

عامر خانعامر خان کی شادی
شادی کا منصوبہ میڈیا سے پوشیدہ رکھا گیا
عامر خانعامر کی منگل پانڈے
جنگِ آزادی پر بنی فلم لوکارنو فلم فیسٹیول میں
ہدایتکار سدھیرمشرا
بالی وڈ میں کاؤچ کاسٹنگ انہونی بات نہیں
عامر خانتاریخ،ادب اور بالی وڈ
برصغیر کی تاریخ اور ادب، فلمسازوں کی پسند
کھٹے میٹھے رشتے
بالی وڈ اور لولی وڈ میں ایک رشتہ قائم ہو رہا ہے
اسی بارے میں
عامر خان کی دوسری شادی
28 December, 2005 | فن فنکار
بالی وڈ میں کامیڈی
06 July, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد