BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 July, 2005, 11:27 GMT 16:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تاریخ ، ادب اور بالی وڈ

دیوداس
سنجے لیلا بھنسالی کی دیوداس نے باکس آفس پر ریکارڈ قائم کیے
انارکلی، تاج محل، جودھا اکبر، منگل پانڈے۔دی رائزنگ، پر تھوی راج، پری نیتا، پہیلی، بنارس 1918، منٹو، صاحب بی بی اور غلام، دیوداس، یہ نام تاریخ یا ادب کی کتابوں کے نہیں بلکہ بالی وڈ کی فلموں کے ہیں۔ ان میں سے کچھ بن چکی ہیں تو کچھ زیرِ تکمیل ہیں۔ یعنی کہ بالی وڈ میں تازہ ہوا ادب اور تاریخ کی ہے۔

پری نیتا، پہیلی، بنارس 1918، منٹو، صاحب بی بی اور غلام، اور دیوداس جیسی فلمیں جہاں بالی وڈ کی ادب کے ساتھ پنپنے والی نئی نئی محبت کا نتیجہ ہیں تو انارکلی، تاج محل، جودھا اکبر، منگل پانڈے۔دی رائزنگ اور پر تھوی راج جیسی فلمیں بتا رہی ہیں کہ ممبئی کی فلم انڈسٹری کے اہم فلمسازوں اور ہدایتکاروں کو اپنی تاریخ کتنی شدت سے یاد آنے لگی ہے۔

بنگالی ادیب سرت چندرا چیٹر جی کے ناول پر بنی ’پری نیتا‘ کے فلمساز ودھو ونود چوپڑا اس سے قبل ’ 1942 اے لو سٹوری‘ اور ’مشن کشمیر‘ جیسی فلمیں بنا چکے ہیں اور اس فلم کے ہدایتکار پردیپ سرکار اشتہاری فلموں کے ایک جانے مانے نام ہیں۔ نیشنل ایوارڈ یافتہ سیف علی خان اور سنجے دت جیسے ستاروں والی یہ فلم پسند بھی خوب کی جا رہی ہے۔

News image
پری نیتا میں 1960 کے عشرے کاہندوستان دکھایا گیا ہے

ہندی کے افسانہ نگار اور ناولسٹ وجیدان دیتھا کے افسانے ’دوویدھا‘ پر بنی فلم’پہیلی‘ تو خود شاہ رخ خان نے بنائی ہے۔ اس فلم کے ہدایتکار امول پالیکر ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ اتنی بڑی سٹار کاسٹ کے باوجود یہ فلم عوام کے لیے ایک پہیلی ہی رہی اور اب سینما گھروں سے اتر رہی ہے۔

’بنارس 1918‘ منشی پریم چند کے ناول ’ بازارِ حسن‘ پر بن رہی ہے۔ اوم پوری اور سابقہ مس انڈیا رشمی گھوش اس فلم کے اہم اداکاروں میں شامل ہیں۔ یہ فلم ابھی ریلیز نہیں ہوئی ہے۔ اسی طرح ’مقبول‘ والے وشال بھردواج آج کل رسکن بونڈ کے ناول’ بلیو امبریلا‘ کو پردہ سیمیں پر اتارنے میں مصروف ہیں۔

سارت بابو کی پری نیتا ہو یا وجیدان دیتھا کی دوویدھا دونوں پر پہلے بھی فلمیں بن چکی ہیں ، ویسے ہی جسیے دیوداس، صاحب بی بی اور غلام یا امراؤ جان ادا پر پہلے بھی کام کیا جا چکا ہے۔

 بالی وڈ کی اس نئی محبت کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کہ اگلے چند برس تک تاریخ اور ادب کے نئے چہرے سے رو برو ہونے کے لیے بس سینما کا ٹکٹ خریدنا ہی کافی ہوگا

اس چلن پر جانے مانے ہدایتکار پرکاش جھا کہتے ہیں کہ ’نئے سبجیکٹ کی تلاش لوگوں کو پرانے افسانوں کی طرف لے جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ادب اور تاریخ سے اٹھائے جا رہے یہ سبجیکٹ زیادہ تر آزمائے ہوئے ہیں اور کردار جانے پہچانے‘۔

تاریخ کی بات کی جائے تو شیام بینیگل کی ’ بوس۔ دی فارگاٹن ہیرو‘ تو ریلیز ہو چکی ہے اور اب ’منگل پانڈے‘ اور ’تاج محل‘ نمائش کے لیے تیار ہیں۔

کیتن مہتا جیسے ہدایتکار کی کافی مہنگی فلم ’منگل پانڈے۔ دی رائزنگ‘ 1957 کی جنگِ آزادی کے پہلے سپاہی کی کہانی ہے۔ اس فلم میں کئی سال بعد عامر خان پھر پردے پر نمودار ہو رہے ہیں۔

فیروز خان اور سنجے خان کے چھوٹے بھائی اکبر خان کی ’تاج محل‘ بننے میں بھی خاصا وقت اور کافی پیسہ تو لگا ہی ہے، اس فلم میں ہندی فلموں کے بزرگ اور عظیم موسیقار نوشاد کی دھنیں ایک بار پھر سننے کو ملیں گی۔

News image
عامر خان لگان کے بعد پہلی بار سکرین پر نمودار ہو رہے ہیں

تاریخی فلموں کے اس رواج پر فلمی صحافی پمی سومل کا کہنا ہے کہ ’ اصل میں شہید بھگت سنگھ اور دیوداس کے بعد تاریخی کرداروں اور ادب کی جانب لوگوں کا جھکاؤ بڑھتا دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ انڈسٹری اپنی بھیڑ چال کے لیے بھی مشہور ہے۔ اس لیے ’پہیلی ‘ اور ’بوس‘ دیکھنے کے بعد لوگ اپنے قدم واپس بھی کھینچ سکتے ہیں‘۔

ادب اور تاریخ پر بنی فلموں پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ ان میں کرداروں اور کہانی کے ساتھ انصاف نہیں کیا جاتا لیکن پرکاش جھا کہتے ہیں کہ’ یہ مسئلہ مختلف لوگوں کی سوچ اور تخلیق کی بات ہے جس کے دم پر اسے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ کتنی سینمائی آزادی لے کہ اس کا مذاق نہ اڑے‘۔

بالی وڈ کی اس نئی محبت کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کہ اگلے چند برس تک تاریخ اور ادب کے نئے چہرے سے رو برو ہونے کے لیے بس سینما کا ٹکٹ خریدنا ہی کافی ہوگا۔

66عامر کی منگل پانڈے
جنگِ آزادی پر بنی فلم لوکارنو فلم فیسٹیول میں
66فلم کا منٹو کون ؟
افسانوں میں دکھائی دینے والا یا افسانے بنانے والا
66ڈان اور شعلے
کلاسیکی ہندی فلموں کو دوبارہ بنانے کی تیاریاں
66کامیڈی کا رواج
بولی وڈ میں کامیڈی کا دور شروع
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد