شاہ رُخ کی پہیلی: ایک بامقصد فلم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بامقصد سنیما کے بارے میں جب بھی لکھا جائے گا اس میں امول پالیکر کی فلم ’پہیلی‘ کو ضرور شامل کیا جائے گا کیونکہ یہ کہانی ہندوستان کی ان کروڑوں لڑکیوں کی ہے جن کی زندگی ان کی مرضی جانے بغیر انجان مردوں کے حوالے کر دی جاتی ہیں ۔جہاں ان کے جذبات کو سمجھنے والا کوئی نہیں ہوتا اور ان سے کہہ دیا جاتا ہے کہ خوبصورت لباس مہنگے زیورات پہن کر وہ زندگی کے دن کاٹ سکتی ہیں۔ ہیروں کے زیورات سے لدی پھندی دلہن لچھی (رانی مکھرجی) اور باراتی جب سستانے کے لئے اجاڑ حویلی میں قیام کرتے ہیں تو وہیں بھوت دلہن کو دیکھ لیتا ہے اور اس کا عاشق بن جاتا ہے۔ بھوت کے جذبات کو سمجھانے کے لئے دو کٹھ پتلیاں دکھائی گئی ہیں جنہیں آواز نصیرالدین شاہ اور ان کی بیوی رتنا پاٹھک نے دی ہے۔ شادی کی رات دلہن کا گھونگھٹ الٹ کر دولہے کو حساب یاد آجاتا ہے اور وہ اسے چھوڑ کر حساب کرنے لگ جاتا ہے۔ دوسری صبح ہی وہ کمانے کے لئے گھر سے چلا جاتا ہے اور بھوت اس کی جگہ گھر واپس آجاتا ہے۔ دونوں کی محبت پروان چڑھتی ہے۔ اس دوران بھوت کئی چمتکار کرتا ہے ۔
فلم کے پہلے حصہ میں کہانی کی رفتار سست ہے ۔گلزار کے نغمے بامعنی ہیں اور موسیقی راجستھانی لوک گیتوں کے پس منظر میں اچھی لگتی ہے ۔امول پالیکر نے جگہ جگہ اپنی چھاپ چھوڑی ہے ۔پالیکر عورتوں کے جذبات کو بہت اچھی طرح پیش کرتے ہیں ۔فلم میں کئی جگہ ہیروئین لچھی کے مکالمے دل کو چھو جاتے ہیں ۔جیسے ’آج تک کسی نے میری مرضی نہیں پوچھی‘ یا جوہی چاؤلہ کا یہ کہنا کہ اکیلے پن کا درد مجھ سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔ اصل ہیرو کی واپسی پر لچھی کے آنسو اور اس کا درد ہندوستانی عورت کی اصل تصویر پیش کرتے ہیں ۔ فلم میں چند باتیں قبول کرنے کا دل نہیں چاہتا جیسے اگر ہیرو بھوت ہے تو ہیروئین ماں کیسے بن سکتی ہے اور اصل ہیرو کے آنے کے بعد گاؤں والے لچھی اور اس کے بچے کو کیسے اپنا لیتے ہیں اور پھر یہ کہتے ہیں کہ اس میں اس کا کوئی قصور ہی نہیں تھا ۔ہیرو اسے کیسے اپنا لیتا ہے کیونکہ یہ باتیں ہمارے سماج میں آج بھی قابل قبول نہیں ہیں ۔ کہانی میں آخر تک تجسس برقرار رہتا ہے اور یہی ایک منجھے ہوئے ہدایت کار کی خوبی ہے ۔ شاہ رخ اور رانی کی اداکاری اچھی ہے لیکن جوہی چاؤلہ اور سنیل شیٹی جیسے منجھے ہوئے اداکاروں کے کرنے کے لئے کچھ تھا ہی نہیں ۔امیتابھ بچن پردے پر چند منٹ رہے لیکن اپنی چھاپ چھوڑی اس فلم کے لئے انہوں نے شاہ رخ سے پیسے بھی نہیں لئے ۔ پرینیتا کے بعد یہ ایک اچھی صاف ستھری فلم ہے جو یہ کہنے پر مجبور کرتی ہے کہ رومانی کہانی بھی اتنے اچھے انداز میں پیش کی جاسکتی ہے اور ناظرین آج بھی اسے پسند کرتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||