سشمیتا:ہالی ووڈ نہیں چین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق ملکہ کائنات سشمیتا سین بہت جلد چین کے تعاون سے ایک فلم بنائیں گی جس کی تیاریاں انہوں نے مکمل بھی کر لی ہیں۔ اپنے اس پروجیکٹ پر وہ بہت خوش ہیں ان کا کہنا ہے کہ آئندہ دس برسوں میں چین سپر پاور بن کر ابھرے گا اور ہندوستان اس کا دوست ہوگا۔ نیلے رنگ کی جینز اور سفید ٹی شرٹ پہنے سشمیتا کو بارش بہت اچھی لگتی ہے۔ انہوں نے کہا’ یہ رومانی موسم ہے اور میں ایک جذباتی لڑکی ہوں‘۔ انہوں نے کہا’مجھے ہالی وڈ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور میں چین کے تعاون سے ہند۔چین بینر تلے بہت جلد فلم بناؤں گی‘۔ سشمیتا کو لوگوں کو ہنسانا اچھا لگتا ہے وہ کہتی ہیں ’میں دکھی ہو کر لوگوں کو رلانا نہیں چاہتی‘۔ انہوں نے بتایا فلم ’میں نے پیار کیوں کیا‘ کے سیٹ پر سہیل ،ارشد وارثی اور اس پر ڈیوڈ دھون کے ساتھ کام کرنے میں بہت مزہ آیا۔ ’شاٹ او کے ہو جاتا تھا لیکن میری ہنسی نہیں رکتی تھی‘ ۔ یہ سلمان خان کی ہوم پروڈکشن فلم ہے اس لیے ان کا پورا گھر وہاں موجود رہتا تھا (گھربھی قریب ہے ) اور پھر کترینا کیف بھی اس فلم میں ہیں جو ان کی نجی زندگی میں ان کی اچھی دوست ہیں ۔ سشمیتا کا کہنا ہے ’کترینا کے حسن میں سادگی ہے ‘۔ سشمیتا نے بتایا اس فلم کی شوٹنگ کے لیے سلمان کو گھر سے اٹھا کر لایا جاتا تھا ۔’سیٹ پر ارشد کے لطیفے اور فرح خان کی ڈانٹ سننے کو ملتی تھی کیونکہ میرے لئے ساڑی پہن کر ڈانس کرنا بہت مشکل تھا اور فرح نے مجھ سے کام لیا‘۔ سشمیتا کہتی ہیں کہ جب سلمان کی فلم میں نے پیار کیا ریلیز ہوئی تو وہ محض گیارہ برس کی تھیں اور انہوں نے اپنے بیڈ روم میں سلمان کے ساتھ ہیروئین بھاگیہ شری کی وہ تصویر لگائی تھی جس میں دونوں کے ساتھ سفید کبوتر ہے۔ اس تصویرکو دیکھ کر وہ اپنی ماں سے کہتیں’ دیکھنا ایک دن میرے لیے بھی کوئی سپنوں کا سوداگر آئے گا ‘۔ سشمیتا ہنس کر کہتی ہیں کہ سولہ سال بعد اب میں سلمان کے ساتھ کام کر رہی ہوں اور ان کے مقابلے میں کترینا کیف ہیروئین ہیں۔ ’میں البتہ فلم میں خوابوں میں ان کے ساتھ ایک گیت ضرور گاتی ہوں اور وہ بھی ساڑی پہن کر‘۔ سشمیتا کو دکھ ہوتا ہے جب ان کی اچھی فلمیں نہیں چل پاتی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں ’مجھے ’میں ایسا ہی ہوں‘ میں اپنا کردار بہت اچھا لگا تھا ۔ایسا کم ہی ہوتا ہے جب آپ کو آپ کا من پسند کردار ملے ۔ مجھے ملا اور میں نے کام کیا لیکن افسوس کہ فلم باکس آفس پر چل نہیں پائی‘
انہوں نے بتایا کہ وہ مہاراشٹر کے ایک گاؤں میں گئی اور وہاں لوگوں نے فلم ’میں ایسا ہی ہوں ‘ اور ’سمے‘ میں ان کے کام کی تعریف کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے مجھے احساس ہوا کہ فلمیں اچھی تھیں لیکن لوگ فلمیں ٹی وی پر دیکھ لیتے ہیں اس لئے فلمیں تھیئٹر میں نہیں چل پاتی ہیں ۔ سشمیتا کہتی ہیں’ میں اپنے کراچی دورے کا وہ منظر بھول نہیں پاتی جس میں جب ہم کراچی پہنچے تو ایئر پورٹ پر لڑکے فلم ’میں ہوں ناں‘ کے اس پوز میں ملےجس میں شاہ رخ خان باہیں پھیلائے بیٹھے رہتے ہیں اور سامنے سے کیمسٹری ٹیچر آتی ہے ۔ سشمیتا کہتی ہیں’ میں وہاں کے لوگوں کا وہ انداز بھول نہیں پاؤں گی۔ لوگ ہمیں پردے پر دیکھتے ہیں اور دل میں جگہ دیتے ہیں‘ ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||