شاہ رخ’میٹھی کتاب‘لکھیں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شاہ رخ نے جو آجکل اپنی سوانح عمری لکھنے پر توجہ دے رہے ہیں، اپنے نوجوان مداحوں کو مشورہ دیا ہے کہ ماضی میں جمے رہنے، مستقبل کی بہت زیادہ منصوبہ بندی اور منفی رویہ زندگی کے لیے اچھا نہیں ہوتا۔ لیکن شاہ رخ نے اپنے قارئین کو مشورہ دیا ہے کہ انہیں اس سوانحِ عمری سے زیادہ اچھے کی امید نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ ان کی لکھنے کی صلاحیتیں محدود ہے۔ شاہ رخ کے مطابق وہ مطالعے کے شوقین ہیں اور جو لوگ ان کی خود نوشت پڑہیں گے ’انہیں میری زندگی کے بارے میں میرے خیالات سے آگاہی ہو گی۔‘ شاہ رخ خان کو ایم ٹی وی کے نوجوان کا ہیرو قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے انڈیا کی سب سے مہنگی فلم دیوداس میں ہیرو کا کردار ادا کیا ہے۔ شاہ رخ خان کا کہنا ہے کہ خود نوشت لکھنے کے لیے انہیں مشہور فلمساز مہیش بھٹ نے 1998 میں مائل کیا تھا۔ اس وقت وہ فلم ’ڈپلیکیٹ‘ میں کام کر رہے تھے۔ پہلے وہ معاملے پر زیادہ توجہ نہیں دے سکے لیکن اب وہ سنجیدہ ہیں۔ اپنی سوانح عمری کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر فلم کی طرح اس کا بھی ایک آغاز ہو گا، درمیان ہو گا اور پھر اختتام ہو گا۔ انہوں نے کہا اس کتاب میں وہ تمام واقعات تفصیل کے ساتھ تحریر ہوں گے جو ان کی زندگی پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ شاہ رخ نے کہا وہ ایک ’میٹھی کتاب‘ کی توقع کر سکتے ہیں جس میں ان کی فلمی زندگی کے بارے میں باتیں ہوں گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||