BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 June, 2005, 06:45 GMT 11:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پہیلی‘نمائش کےلیے تیار

پہیلی
’کیا ایک عورت ایک مرد کے ساتھ صرف اس لیے زندگی گزار دے کہ اس سے اس کی شادی ہوئی ہے‘
امیتابھ بچن کے بعد بولی وڈ شہنشاہ شاہ رخ اس سال پردہ سیمیں پر چھائے رہنا چاہتے ہیں۔ اب ان کی ہوم پروڈکشن ‘ریڈ چلیز انٹرٹینمینٹ‘ کی فلم ’پہیلی‘ نمائش کے لیے تیار ہے۔

فلم کی کہانی راجستھان کی لوک کہانی ‘دوہری زندگی’ پر مبنی ہے۔ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ کہانی کار وجےدان دیتھا کی اس کہانی پر 1973 میں منی کول نے فلم ‘دودھا’ (کشمکش) بنائی تھی۔

فلم کے ہدایت کار امول پالیکر ہیں۔ انہیں اب تک چھ فلم فیئر ایوارڈ اور تین قومی ایوارڈز مل چکے ہیں۔

فلم کی کہانی راجستھانی لڑکی ‘لچھی’ کی ہے جس کی شادی ایک ایسے نوجوان سے ہوتی ہے جسے صرف روپیہ کمانے کی ہوس ہوتی ہے اور اسی لیے وہ شادی کی رات ہی اپنی دلہن کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔

لوگ اسے مردہ سمجھ لیتے ہیں ۔

یہیں سے اس لڑکی کی زندگی میں ایک’بھوت‘ شاہ رخ خان آتا ہے جس سے لڑکی کو محبت ہو جاتی ہے۔

شاہ رخ کے پیار میں ڈوبی لچھی کو اس وقت شدید ذہنی جھٹکا لگتا ہے جب یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کا شوہر شاہ رخ نہیں کوئی اور ہے اور وہ پانچ برس بعد واپس آگیا ہے۔

فلم میں اسی پہیلی کو سلجھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔

شاہ رخ خان نے فلم کی کہانی کے ماحول کو برقرار رکھنے کی خاطر بڑی بڑی مونچھیں لگائی ہیں اور بڑی سی پگڑی بھی پہنی ہے۔

شاہ رخ کہتے ہیں ’میں اس فلم میں بھوت بنا ہوں لیکن فلم میں میرے خون بھرے دانت اور ڈراؤنی آنکھیں نہیں ہیں میں ایسا بھوت ہوں جس سے رانی پیار کرتی ہے‘ ۔

لیکن ان کا کہنا ہے’ آپ میری مونچھیں دیکھنے نہیں بلکہ فلم کی کہانی دیکھنے آئیے یہ ایسی کہانی ہے جو آپ کے دل کو چھو لے گی‘۔

شاح رخ نے بتایا کہ یہ فلم عورت کے اُن ان چھوئے جذبات کی کہانی ہے جنہیں وہ بہت ارمان کے ساتھ سجاتی ہے۔

انکا کہنا تھا ’اس فلم کی کہانی سوال کرے گی کہ کیا ایک عورت ایک مرد کے ساتھ صرف اس لیے زندگی گزار دے کہ اس سے اس کی شادی ہوئی ہے کیا اسے اپنی مرضی سے زندگی جینے کا حق نہیں ہوتا‘۔

شاہ رخ نے بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ وہ عورتوں سے یہ فلم دیکھنے کی گزارش کرتے ہیں کیونکہ یہ فلم ان کی اپنی زندگی اوراپنی دنیا میں ان کی شخصی آزادی کی کہانی ہے۔

فلم میں شاہ رخ کو اونٹ پر بیٹھنا پڑا اور یہ شاٹ ان کے لیے بہت تکلیف دہ تھے ’ آپ اونٹ کو تو ہدایت نہیں دے سکتے اس لئے چوالیس ڈگری درجہ حرارت پر تپتے ریگستان میں انتظار کرنا پڑتا تھا کہ کب اونٹ کی ’کل‘ صحیح ہو اور شاٹ کو او۔کے کہا جائے‘۔

فلم کے ہدایت کار امول پالیکر نے اب تک ’آرٹ فلمیں‘ ہی بنائی ہیں اور یہ ان کے لیے پہلا موقع ہے کہ جب وہ ایک کمرشل فلم بنا رہے ہیں۔

امول پالیکر کا کہنا تھا سنیما ہمیشہ مقصد کے لیے بنایا جانا چاہئیے اور انہوں نے ایسا ہی کیا ہے۔

فلم کی شوٹنگ پینتالیس دنوں میں مکمل ہوئی ہے اور فلم پر اب تک چودہ کروڑ روپے خرچ کیے جاچکے ہیں ۔فلم کے لئے ہیروں کی کمپنی ’تنیشک‘ نے زیورات ڈیزائن کئے ہیں۔

فلم میں روایتی راجستھان کی مکمل تصویر پیش کی گئي ہے۔

رانی مکھرجی کی اداکاری روز بروز نکھرتی جا رہی ہے اس فلم میں انہوں نے انتہائی جذباتی رومانی لڑکی کا کردار نبھایا ہے۔ رانی کا کہنا ہے ’اب لوگ انہیں اور ان کی اداکاری کو سراہنے لگے ہیں انہوں نے کہا’میں اب بہت سوچ سمجھ کر فلمیں سائن کر رہی ہوں کیونکہ اب شائقین کی توقعات بھی مجھ سے بڑھ گئی ہیں‘۔

فلم کے دیگر ستارے امیتابھ بچن ، سنیل شیٹی اور جوہی چاؤلہ ہیں۔

فلم چوبیس جون کو نمائش کے لیے پیش کی جارہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد