سعادت حسن منٹو کی زندگی پر فلم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زندگی بھی سرخیوں میں رہنے والے اردو کے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا ایک بار پھر چرچا ہو رہا ہے کیونکہ چانکیہ، میگا سیریل اور پنجر جیسی فلم بنانے والے ڈائریکٹر چندر پرکاش، اردو کے سب سے بڑے افسانہ نگار سعادت حسن منٹو پر فلم بنا رہے ہیں۔ چندر پرکاش کا کہنا ہے کہ وہ منٹو ہی کے نام سے بنائی جانے والی جانے والی اس فلم میں منٹو کی زندگی کی کہانی ان کے افسانوں ہی سے ترتیب دے رہے ہیں۔ اس میں ان کی کہانی ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو اور ٹھنڈا گوشت جیسے افسانوں کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ فلم میں منٹو کی زندگی کے وہ آخری سال دکھائے جائیں گے جب وہ پاگل خانے میں پہنچ گئے تھے۔ ان کہنا ہے کہ فلم میں اس مرحلے پر منٹو کے افسانے ہی کہانی کو آگے بڑھائیں گے۔ منٹو نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ممبئی میں گزارا اور اس دوران انہوں نے فلمیں بھی لکھیں اور انہیں ممبئی سے بہت پیار تھا۔ دو سال پہلے آنے والی چندر پرکاش کی فلم پنجر کو خاصہ پسند کیا گیا تھا۔ پنجابی کی مشہور افسانہ نگار امرتا پریتم کے ناول پر بنائی جانے والی یہ فلم کئی بین الاقوامی فلمی میلوں میں دکھائی گئی اور اس نے کئی ایوارڈ بھی حاصل کیے اس کے علاوہ اسے ہندوستان میں چار ملے۔ منٹو کے پروڈیوسر انیش رنجن خود بھی ایک ادیب اور صحافی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ منٹو کی زندگی جس طرح کی رہی اس کی وجہ سے اس بات کا بہت خطرہ ہے کہ ان کی زندگی کا کوئی بھی پہلو بہت آسانی سے نظر انداز ہو سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو یہ منٹو کے ساتھ انتہائی بے ایمانی ہو گی۔ فلم جرنلسٹ اجے نرم بھاتمج کہتے ہیں کہ سعادت حسن کی زندگی پر فلم بنانا کوئی آسان کام نہیں کیونکہ بحث مباحثے، تلخ نکتہ چینی اور ہنگاموں نے منٹو کی زندگی اور ان کے افسانوں کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔ ان کے افسانوں کو زندگی کے قریب مانا جاتا ہے اور منٹو کا خود بھی کہنا تھا کہ وہ جو لکھتے ہیں اس میں زندگی کی تلخ سچائی ہوتی ہے اور ان کی کہانیاں کہیں آسمان سے اتر کر نہیں آتیں۔ اس فلم کا اعلان پچھلے دنوں ممبئی کے ایک ہوٹل میں کیا گیا۔ اس دوران ڈاکٹر چندر پرکاش نے کہا کہ جب کسی آدمی کی زندگی پر فلم بنائی جاتی ہے تو اس کی زندگی کے سچے واقعات سے کھیلا نہیں جا سکتا اس لیے سکرپٹ لکھنے میں بڑی احتیاط سے کام لیا گیا ہے۔ انیش رنجن جو اس سے پہلے تبو اور منوج واجپئی کے ساتھ فلم ’دل پہ مت لے یار‘ بنا چکے ہیں۔ اس بارے میں کہتے کہ منٹو بہ یک وقت سکیولر بھی تھے اور مذہبی بھی۔ ان کی تحریروں میں اس بات کی گنجائش ہے کہ انہیں بڑی آسانی سے مذہب کے خلاف قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلم میں اس سے بچنا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ رنجن کا کہنا ہے کہ فلم کا واحد مقصد ایک ایسے شخص کی تصویر بنانا ہے جس کی بغاوت اور آزاد خیالی اس وقت بھی ایک بہتر سماج کے لیے تھی اور آج بھی وہ اسی کے لیے ہے۔ اب انڈسٹری اور منٹو سے دلچسپی رکھنے والے یہ جاننے کے لیےبے چین ہیں کہ فلم میں منٹو کا کردار کون نبھائے گا۔ انیش کا کہنا ہے کہ اس کردار کے لیے اداکار کی تلاش میں انہیں بہت مشکل پیش آ رہی ہے۔ اس سلسلے میں ہندی فلموں کے کئی اداکاروں پر غور کیا گیا ہے لیکن اب تک کوئی اس پر پورا نہیں اترا کیونکہ منٹو کے کردار کے لیے ان کے قد کاٹھ اور مینرازم کا حامل اداکار چاہیے۔ چندر پرکاش اس کے علاوہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ منٹو کا کردار کرنے والا اداکار منٹو کو جانتا بھی ہو اور سمجھتا بھی ہو۔ ان تمام تر باتوں کے باوجود توقع کی جا رہی ہے کہ فلم اس سال تیار ہو جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||