BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 February, 2005, 11:19 GMT 16:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منٹو: نصف صدی کا قصہ 2

News image
لاہور کے ہم پانچ نوجوانوں کے لیے 1967 کا سال دو وجوہات کی بنا پر بڑا اہم تھا۔ ایک تو اس برس سوویت انقلاب کی گولڈن جوبلی منائی جا رہی تھی کیونکہ انقلابِ روس کو پچاس سال پورے ہو چکے تھے اور دوسرا بڑا واقعہ یہ تھا کہ لاہور میں منٹو میموریل سوسائٹی کا قیام عمل میں آیا تھا۔

یہ سوسائٹی چونکہ ہم دوستوں کے ایماء پر بنی تھی اس لئے صدر، سیکریٹری اور خزانچی وغیرہ کے عہدے بھی خود ہی آپس میں بانٹ لیے تھے۔

البتہ پیڈ چھپوانے کے بعد سب سے اہم سوال یہ سامنے آیا کہ منٹو میموریل سوسائٹی کرے گی کیا؟

چنانچہ اغراض و مقاصد کی ایک فہرست تیار کی گئی اور انھیں ایک قرارداد کی شکل میں لکھ کر تمام معروف ادیبوں اور شاعروں سے اُس پر دستخط لینے شروع کر دئیے۔

احمد ندیم قاسمی ، صفدر میر اور ایرک سپرین نے ہماری بہت حوصلہ افزائی کی اور ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔ ہماری سوسائٹی کا اولین مقصد یہ قرار پایا کہ منٹو کی قبر دریافت کی جائے۔ اصل میں ہم وہ کتبہ پڑھنے کے لئے بے چین تھے جس پر درج تھا کہ منوں مٹی تلے پڑا منٹو اب بھی سوچ رہا ہے کہ وہ بڑا افسانہ نگار ہے یا خدا؟

میانی صاحب کے قبرستان پہنچ کر ہم نے وہاں کے دفتر سے رابطہ کیا تو پتا چلا کہ وہاں کوئی بھی منٹو کے نام سے واقف نہیں ہے اور اُن کے رجسٹروں میں 1960 سے پہلے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے چنانچہ ہم نے ہال روڈ اور بیڈن روڈ کے سنگم پر واقع منٹو صاحب کے فلیٹ کا رخ کیا۔

News image
دروازے پر دستک دی تو دِل زور زور سے دھڑک رہا تھا ’معلوم نہیں کوئی گھاس ڈالے گا یا نہیں ‘۔ لیکن صفیہ منٹو جو کہ انتہائی سادہ اور بھلے مانس خاتون تھیں بڑی شفقت سے پیش آئیں۔ ہم نے صفیہ منٹو کے نام سے جو ایک آدھ تحریر پڑھ رکھی تھی اُس کی روشنی میں خاتون کو جانچا تو مایوسی ہوئی کیونکہ ہم ایک تیز طرار انٹلکچول قسم کی عورت کا تصور لیے ہوئے گئے تھے۔

باتوں باتوں میں جب اُن کی تحریر کا ذکر چلا تو انھوں نے صاف صاف بتا دیا کہ وہ رائٹر نہیں تھیں اور انھوں نے کبھی کچھ نہیں لکھا۔ البتہ ضرورت کے تحت ایک دو تحریروں پر اُن کا نام ضرور چھاپا گیا تھا۔

بیگم صفیہ منٹو کو ہم نے اس امر پر تیار کر لیا کہ وہ یومِ منٹو کی تقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کریں۔

جوں جوں منٹو کا یومِ پیدائش قریب آرہا تھا ہمارا جوش و خروش بڑھتا جا رہا تھا۔ ہم نے منٹو کے سبھی ہم عصر ادیبوں سے ملاقات کر کے منٹو پر مضامین لکھوائے، اور مال روڈ پر ایک سرکاری آڈیٹوریم بھی ہمیں جلسہ کرنے کے لئے مل گیا۔

یومِ منٹو کا پروگرام پاک ٹی ہاؤس میں بیٹھ کر تیار ہوا جسکے مطابق ہمیں اُس روز صبح سویرے منٹو کی قبر پر جانا تھا ۔ وہاں پھول چڑھانے اور فاتحہ پڑھنے کے بعد واپس ٹی ہاؤس آ کر شام کے جلسے کی تیاری کرنی تھی۔

چونکہ سوسائٹی کے اکثر ارکان سیکولر خیالات کے حامل تھےاس لئے قبر پر ادا کی جانے والی رسومات کی مخالفت شروع ہو گئی۔ ایک ستم ظریف نے تو یہاں تک کہ دیا کہ عطرِ گلاب کا چھڑکاؤ بے کار ہے، اُس قبر پر ٹھّرے کا چھڑکاؤ ہونا چاہیے۔ اور پھر اُس نے دیسی شراب کی بوتل عطیے کے طور پر دینے کی پیشکش بھی کی۔ شراب پاشی کی تجویز پر سنجیدگی سے غور ہو رہا تھا کہ ٹی ہاؤس کے ازلی ابدی باسی زاہد ڈار نے مداخلت کی اور شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ’یوں شراب کو ضائع ہوتے دیکھ کر اسکی روح بے چین ہو جائے گی، بہتر ہے وہ بوتل کسی ’ضرورت مند‘ کو دے دو۔‘

زاہد ڈار جیسے خاموش طبع آدمی کے منہ سے اتنا لمبا جملہ سن کر منٹو میموریل سوسائٹی کے ارکان ششدر رہ گئے اور انھوں نے قبر پر شراب چھڑکنے کا منصوبہ ترک کر دیا۔

ابھی تیاری یہیں تک پہنچی تھی کہ حبیب جالب ٹی ہاؤس میں داخل ہوئے۔ وہ حسبِ معمول حکومت کے زیرِ عتاب تھے۔ اور جیل میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ جالب اس بات پر ناراض تھے کہ ہم نے شرکائے جلسہ میں ان کا نام نہیں لکھا۔ ’بھلا منٹو کا جلسہ ہو اور میں کچھ نہ بولوں۔ اس کی اصل دوستی تو مجھ سے تھی۔‘

حبیب جالب نے ہم سب کو معنی خیز نظروں سے دیکھا۔ ہماری تحقیق کے مطابق منٹو اور جالب کا آپس میں کوئی تعلق نہ بنتا تھا لیکن وہ بضد تھے تو ہم نے اُن کا نام بھی جلسے کے اُس اشتہار میں شامل کر لیا جو ٹی ہاؤس کے دروازے پر چسپاں تھا۔

آخر اٹھارہ جنوری انیس سو اڑسٹھ کا وہ دن بھی آن پہنچا جسے ہم سب کی زندگی میں ایک یادگار دن بننا تھا منٹو کے کچھ واقف کاروں نے مشورہ دیا کہ قبر ڈھونڈنے کے لئے کوئی مستند راہنما ساتھ لے جاؤ ورنہ دوسری بار بھی ناکامی ہو گی۔ چنانچہ ہم کھوج لگا کر منٹو کے ایک ایسے مدّاح کا پتہ معلوم کرنے میں کامیاب ہو گئے جو باقاعدگی سے منٹو کی قبر پر جایا کرتا تھا۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ شخص ایک حجام ہے اور ایم اے او کالج کے سامنے اس کی دکان ہے وہاں پہنچے تو حجام کی بجائے چائے کا ایک کھوکھا نظر آیا۔ وہ شخص اپنا پیشہ تبدیل کر چکا تھا۔

بہر حال بڑے خلوص سے ملا۔ کہنے لگا ’ منٹو صاحب بہت مشہور شاعر تھے جناب‘ بڑی مشہور ہستی تھے - - - میرے بھتیجے کو گورنمٹ کالج میں داخلہ نہیں مل رہا تھا بس منٹو صاحب کے ایک اشارے پر مل گیا - - - بہت بڑے شاعر تھے۔‘

پھر اس حجام / چائے فروش کے بتائے ہوئے پتے پر ہم راونہ ہو ئے اور سیدھے منٹو کی قبر پر جا کر دم لیا۔

ہمارا خیال تھا کہ بارہ برس سے وہ قبر ویران پڑی ہے جھاڑ جھنکار کے سوا وہاں کچھ نہیں ملے گا۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ قبر کی صفائی ابھی ابھی کی گئی ہے اور کوئی مدّاح ہم سے پہلے آ کر وہاں تازہ تازہ پھول چڑھا گیا ہے۔

ایک جھٹکا البتہ ہمیں ضرور لگا: قبر پر لگے کتبے کی عبارت وہ نہیں تھی جسکی ہم توقع کر رہے تھے۔ یہ ایک ترمیم شدہ کتبہ تھا جس میں غالب کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے منٹو اپنے اس یقین کا اظہار کر رہا تھا کہ وہ لوحِ جہاں پر حرفِ مکرر نہیں ہے۔

بہر حال قبر پر فاتحہ خوانی اور تصویر کھینچنے کا مرحلہ تو بخوبی طے ہو گیا لیکن اُسی شام منٹو کی یاد میں ہونے والے تاریخی جلسے نے ہمیں اتنا پریشان کیا کہ ہماری راتوں کی نیند حرام ہو گئی۔ اور یہ سب کیا دھرا تھا حبیب جالب کا۔

( جلسے کی دلچسپ تفصیلات نیز صدر ایوب خان، حبیب جالب اور منٹو کے باہمی تعلق پر ہماری اگلی قسط ملاحظہ کیجئے)۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد