BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 February, 2005, 14:36 GMT 19:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منٹو کو گئے آدھی صدی بیت گئی

News image
سعادت حسن منٹو کو ہم سے جدا ہوئے پچاس برس پورے ہو چکے ہیں پاکستان میں اُن کی پچاس سالہ برسی پر کئی شہروں میں تقریبات منعقد ہو چکی ہیں ـ اس مضمون کا مقصد نہ تو اُن تقریبات کا جائزہ لینا ہے اور نہ ہی منٹو کی افسانہ نگاری کے عیوب و محاسن بیان کرنا ، بلکہ یہ محض ذاتی یادوں پر مبنی ایک تحریر ہے جسے آپ زیادہ سے زیادہ ’نستالجیا‘ کا شاخسانہ قرار دے سکتے ہیں۔

منٹو کو میں نے پہلی اور آخری بار آٹھ برس کی عمر میں دیکھا تھا اور وہ بھی کوئی دو سو فٹ کے فاصلے سے البتہ اُن کی آواز میں نے دس فٹ کے فاصلے سے ضرور سنی تھی۔

ہم اُن دنوں لاہور میں مال روڈ کی گنگا رام بلڈنگ کے ایک بالائی فلیٹ میں رہتے تھے اور جیسا کہ مجھے برسوں بعد معلوم ہوا، منٹو صاحب کا گھر وہاں سے پندرہ منٹ کے پیدل فاصلے پر تھا۔ اگرچہ یہ مختصر فاصلہ بھی وہ سالم ٹانگے کے بغیر طےنہ کرتے تھے

غالباً 1954 کا زمانہ تھا اور میں دوسری جماعت کا طالبِ علم تھا۔اتوار کی سہ پہر تھی جب دروازے پر دستک ہوئی اور ایک باریک مگر قدرے کھردری آواز آئی ’وقار بھائی‘۔

 سرخ لیٹر بکس، سفید لباس اور خالی ٹانگے کا یہ منظر اب ہمیشہ کے لئے میری یاداشت میں محفوظ ہو چکا ہے
ملازم نے دروازے پر جا کر کچھ بات کی اور وہ شخص واپس چلا گیا اُن دنوں والد صاحب شاید روزنامہ آفاق سے وابستہ تھے اور ہمارے گھر میں ملاقاتیوں کا تانتا بندھا رہتا تھا جو اپنے بچوں کو ملازمت دلوانے، بھارت میں چھوڑی ہوئی جائیداد کا کلیم داخل کرانے، بے قصور پکڑے جانے والے کسی عزیز رشتے دار کو پولیس کے چُنگل سے چھڑانے یا اس طرح کی کوئی اور سفارش کرانے آ جا تے تھے۔

میرا خیال تھا کہ آج کا ملاقاتی بھی انہی میں سے ایک ہو گا۔ لیکن جب والد صاحب واپس آئے اور ملازم نے بتایا کہ منٹو صاحب آئے تھے تو وہ اُس پر برس پڑے: ’تم نے اُنہیں بٹھایا کیوں نہیں؟‘ اور والد صاحب تیزی سے نیچے کی طرف دوڑے۔ تب مجھے احساس ہوا کہ آج کا ملاقاتی کوئی خاص آدمی تھا۔
تھوڑی دیر کے بعد میں نے بالکونی سے دیکھا کہ سڑک کے کنارے تکونے باغ کے سرے پر سرخ لیٹر بکس کے پاس والد صاحب ایک شخص سے باتیں کر رہے ہیں جو سفید کرتے اور پجامے میں ملبوس ہے اُس کے ہاتھ میں کوئی کاغذ ہے جو وہ والد صاحب کو دکھا رہا ہے اور سامنے ایک خالی ٹانگہ کھڑا ہے......تو یہ تھے منٹو صاحب !

سرخ لیٹر بکس، سفید لباس اور خالی ٹانگے کا یہ منظر اب ہمیشہ کے لئے میری یاداشت میں محفوظ ہو چکا ہے۔

 پہلی مرتبہ سعادت حسن منٹو کا نام کہانی کار کے طور پر سنا، لیکن اِس اِنتباہی نوٹ کے ساتھ کہ انتہائی فحش اور مخربِ اخلاق کہانیاں ہیں اور نوجوانوں کو اُن سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے
جب میں آٹھویں جماعت میں پہنچا تو پہلی مرتبہ سعادت حسن منٹو کا نام کہانی کار کے طور پر سنا، لیکن اِس اِنتباہی نوٹ کے ساتھ کہ انتہائی فحش اور مخربِ اخلاق کہانیاں ہیں اور نوجوانوں کو اُن سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔
نویں جماعت میں پہنچا توزندگی کا ایک’اہم علمی اور ادبی واقعہ‘ پیش آیا یعنی زیورِ طبع سے آراستہ ہونے والی میری اولین تحریر منصّہ شہود پر آگئی۔

یہ ایک مضمون تھا، سعادت حسن منٹو کے خلاف! جس میں منٹو کو ایک اخلاق باختہ مُصنّف قرار دیتے ہوئےاس کی کہانیوں کومعاشرے کے لئے انتہائی مضرت رساں قرار دیا گیا تھا یہ مضمون شاہ عالمی دروازے سے شائع ہونے والے ایک ہفت روزہ میں چھپا تھا جس کا نام غالباً نوروز ویکلی تھا۔ مضمون کی اہم ترین خصوصیت یہ تھی کہ مضمون نگار نے اُس وقت تک منٹو کی ایک بھی کہانی نہیں پڑھی تھی اور یہ سارا مضمون سنی سنائی باتوں پر مبنی تھا۔ (یونیورسٹی کی سطح پہ پہنچے تو پتہ چلا کہ بڑے بڑے جیّد نقّاد بھی اس تکنیک سے استفادہ کرتے ہیں)

تو منٹو کے بارے میں اگلا اہم واقعہ دسویں جماعت میں پیش آیا جب میرے کلاس فیلو طیب بخاری نے انکشاف کیا کہ سعادت حسن منٹو 1937 میں قائدِ اعظم محمد علی جناح کا ڈرائیور ہوا کرتا تھا۔ تحقیق پر پتا چلا کہ بخاری نے منٹو کے مضمون ’میرا صاحب ‘ کا سرسری سا مطالعہ کرنے کے بعد ہر طرف اس گوہرِ تحقیق کے چمکارے مارنے شروع کر دیئے تھے۔ جبکہ منٹو کا قصور محض اتنا تھا کہ اُس نے جناح صاحب کے ڈرائیور آزاد کی کہانی صیغہ واحد متکلم میں لکھی تھی۔ اس موقع پر اصلی اور بڑے بخاری صاحب یعنی احمد شاہ پطرس کا وہ پیش لفظ یاد آتا ہے جس میں انہوں نے اپنے مضامین کے راوی سے اپنے قارئین کو پوری طرح روشناس کراتے ہوئے بتا دیا تھا کہ مضامین کا واحد متکلم
’ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے‘۔

بہر حال سعادت حسن منٹو کاہماری زندگی میں صحیح طور پر عمل دخل 1967 میں شروع ہواجب لاہور کے پانچ نوجوانوں نے مل کر منٹو میموریل سوسائٹی قائم کی، منٹو کی بھُولی بسری قبر کو دریافت کیا، منٹو کے گھر جا کر اُن کی بیگم صفیہ منٹو سے ملاقات کی، منٹو کے پرانے دوستوں سے بات چیت کرکے اسکی برسی کو شایانِ شان طریقے سے منانے کا اہتمام کیا اور منٹو کی کہانیوں کے انگریزی ترجمے ’بلیک ملک‘ کو منظر عام پر لانے کا عہد کیا۔

(ان واقعات کی تفصیل کے لئے اس مضمون کی اگلی قسط ضرور ملاحظہ کیجیے )

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد