BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 October, 2004, 02:51 GMT 07:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تاریک دور میں تاریک مزاح

اظہر عثمان
اظہر عثمان کے مزاح میں سکیورٹی کا موضوع بھی نمایاں ہے
گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ میں جو ایک غیر متوقع چیز دیکھنے میں آئی ہے وہ مسلمانوں کے بارے میں اور ان ہی کی طرف سے ہونے والا مزاح ہے۔ اس مزاح کو اب امریکی سامعین کی ایک بڑی تعداد بھی پسند کرنے لگی ہے۔

میں جنوبی کیرولائنا میں کولمبیا کے کینان تھیٹر میں ’اللہ میڈ می فنی‘ کا شو دیکھنے کے لیے کھڑا یہ سوچ رہا تھا کہ کیا مسلم مزاح بھی کوئی چیز ہے؟۔

یہ مسلمان مزاح یا طربیہ نگاروں کے لیے ایک نامناسب مقام بھی لگتا ہے۔ کیونکہ جنوبی کیرولائنا ’اولڈ ساؤتھ‘ کا دل ہے جہاں اب بھی کنفیڈریٹ سپاہی کا مجسمہ اور کنفیڈریٹ جھنڈا جیسی غلامی کی علامات ہیں۔ میں نے ایک سفید فام امریکی کو انہیں سلیوٹ (سلام) کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ جنوب بدل بھی رہا ہے۔ کولمبیا کے مسلمان ’اللہ میڈ می فنی‘ دیکھنے کے لیے کافی تعداد میں آئے۔

چٹکلے دو طرح کے تھے۔ ایک تو مسلمانوں کے متعلق تھے کہ آپ کے ساتھ مسجد میں بیٹھا دوسرا شخص کس طرح نماز پڑھتا ہے، اور جب آپ دفتر کے غسل خانے کے بیسن میں وغو کرتے ہوئے اپنے پاؤں دھو رہے ہوں اور آپ کا باس آ جائے تو کیسی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے۔

دوسرے چٹکلے ملک میں سکیورٹی جیسے معاملات کے بارے میں تھے۔

شکاگو کے رہائشی اظہر عثمان، جن کے آباؤ اجداد ہندوستان سے امریکہ آئے تھے، کالا چوغہ پہنے اور کالی داڑھی رکھے، سامعین کو بتاتے ہیں کہ کس طرح جب وہ ہوائی جہاز میں بیٹھتے ہیں تو لوگوں کے منہ بن جاتے ہیں اور جیسے ہی جہاز لینڈ کرتا ہے لوگ سکھ کا سانس لیتے ہیں۔

کولمبیا میں لوگوں کو اس طرح کا مزاح بہت پسند ہے۔ اس سے ذہنی تناؤ میں کمی آتی ہے اور حال قہقہوں سے گھونج اٹھتا ہے۔

تسہ حامی
’اگر میرے مزاح پر نہ ہنسے تو یرغمال بنا لوں گی

یہ سگمنڈ فرائڈ ہی تھے جنہوں نے کہا تھا کہ ہمارا مزاح کافی حد تک بتاتا ہے کہ ہم کون ہیں۔

یہی حال ثقافتوں کا بھی ہے۔

روایتی امریکی مزاح بہت مختلف ہے۔

تاہم امریکی مسلم مزاح اصل میں غلط فہمیوں کے متعلق ہے، سٹیریوٹائپ کے تصادم کے متعلق ہے۔

امریکہ میں سب سے زیادہ جانی پہچانی مسلمان کمیڈین ایرانی نژاد تسہ حامی ہیں۔ تسہ ایران میں پیدا ہوئیں لیکن اب بوسٹن میں رہتی ہیں اور وہی کام کرتی ہیں۔

وہ سر سے پیر تک کالے کپڑے پہنتی ہیں۔ ان کے مزاح کا بھی آج کل موضوع سکیورٹی ہی ہے۔ وہ ہوائی اڈوں پر ہونے والی جامہ تلاشی پر بہت برا محسوس کرتی ہیں جس میں سارا جسم بھی چیک کیا جاتا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’میں یہ سب کچھ ہنی مون کے لیے بچانا چاہتی تھی‘۔

تاریک دور میں تاریک مزاح ہی پیدا ہوتا ہے۔

تسہ حامی سامعین کو خبردار کرتی ہیں کہ اگر وہ ان کے چٹکلوں پر نہ ہنسے تو وہ انہیں یرغمال بنا لیں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد