BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 May, 2005, 15:36 GMT 20:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سعادت حسن منٹوانگریزی میں

News image
اُردو کہانی کار کے طور پر نام پیدا کرنے سے پہلے سعادت حسن منٹو فرانسیسی اور روسی ادب کے شہ پاروں کو اُردو میں منتقل کرچکا تھا۔ ظاہر ہے یہ ادب پارے اس نے انگریزی تراجم کی شکل میں پڑھے تھے اور اسطرح وہ نو عمری ہی میں وکٹرہیوگو، دوستوفسکی، چینحوف، پوشکن، گوگول اور میکسم گورکی کے نام سے متعارف ہو چکا تھا۔ علاوہ ازیں منٹو نے آسکر وائیلڈ کے ’ویرا‘ کو بھی انگریزی سے اُردو میں منتقل کیا تھا۔

منٹو کسی انگریزی لفظ کے صحیح اُردو متبادل کی تلاش میں جس طرح سر گرداں رہتا، وہ صحتِ زبان کے بارے میں اسکی احتیاط کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی غمازی ہے کہ وہ اصل متن کو پوری ایمانداری سے اُردو قارئین تک پہنچانا چاہتا تھا۔

آج جب منٹو کی اپنی تحریریں انگریزی میں ترجمہ ہو کر مغربی قارئین تک پہنچ رہی ہیں تو ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہئیے کہ کیا آج کے مترجمین بھی اُردو متن کو انگریزی میں ڈھالتے وقت اسی احتیاط اور دّقتِ نظر سے کام لے رہے ہیں؟۔

News image
منٹو کے انگریزی تراجم کا کام اس کی زندگی ہی میں شروع ہو گیا تھا اور اوّلین انگریزی ترجمے ان کے بھانجے حامد جلال نے کئے تھے۔ اُن کے بعد خشونت سنگھ، طاہرہ نقوی، جے رتن، مشیرالحسن، خالد حسن اور الوک بھلاّ کے نام آتے ہیں۔ منٹو کی سب سے زیادہ ترجمہ ہونے والی کہانی ٹوبہ ٹیک سنگھ ہے۔ یہ حشونت سنگھ کی پسندیدہ کہانی معلوم ہوتی ہے۔ پہلی بار انھوں نے اسکا ترجمہ Exchange of Lunatics ( پاگلوں کا تبادلہ ) کے نام سے کیا تھا، لیکن بعد میں انھوں نے اصل نام بحال کر دیا۔

منٹو کے انگریزی ترجموں کی اوّلین کتاب Black Milk (از حامد جلال ) میں صرف چھ کہانیاں شامل تھیں البتہ 1985 میں امریکی مصنفہ لیزلی فلیمنگ نے منٹو پر تحقیقی مقالہ لکھا جسکا عنوان تھا:
The Life and Works of Saadat Hassan Manto

اس مجموعے میں طاہرہ نقوی کی ترجمہ کردہ سترہ کہانیاں شامل تھیں۔ اگرچہ یہ شاہکار ترجمے نہیں کہلا سکتے لیکن زبان کے لحاظ سے درست ہیں ۔ البتہ جہاں کہیں لیزلی فلیمنگ نے خود ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے، منہ کی کھائی ہے۔

News image
منٹو کی ایک ابتدائی کہانی میں ریلوے سٹیشن پر رات کے وقت ٹرین آکر رکتی ہے تو تھوڑی دیر کے بعد انجن کی بتی گُل ہو جاتی ہے اس کا ترجمہ لیزلی نے یوں کیا ہے:

and the light became a flower

بھارتی مترجم جے رتن نے منٹو کی پندرہ کہانیوں کا ترجمہ The Best of Manto کے نام سے کیا ہے لیکن جس مترجم کو سب سے زیادہ شہرت ملی وہ یقیناً خالد حسن ہیں۔

انھوں نے منٹو ہی کے ایک ٹائیٹل ’بادشاہت کا خاتمہ‘ کو اپنے مجموعے کے لئے چُنا اور 1987 میں Kingdom's End کے نام سے یہ کتاب لندن سے شائع ہوئی۔ بعد میں خالد حسن نے ’ سیاہ حاشیے‘ کا بھی ترجمہ کیا جسکا نام رکھا :

Partition: Sketches and Stories

جے رتن پر یہ اعتراض کیا گیا تھا کہ اس کا ترجمہ اصل متن کو لفظ بہ لفظ منتقل کرنے پر قادر نہیں ہے اور جہاں کہیں مناسب انگریزی لفط نہیں ملتا وہاں متن میں وہ تھوڑی بہت تبدیلی کر دیتا ہے۔

منٹو کے مترجمین
 حامد جلال، خشونت سنگھ، طاہرہ نقوی، جے رتن، مشیرالحسن، خالد حسن اور الوک بھلاّ
چونکہ جے رتن کے ترجمے محدود حلقوں میں پڑھے گئے اس لئے یہ تنقید بھی محدود دائرے میں رہی۔ البتہ خالد حسن کے ترجمے فوراً ہی مغربی دنیا میں مقبول ہو گئے بلکہ ان ترجموں کی بدولت مغربی دُنیا میں منٹو کو ایک نئی زندگی ملی۔ تاہم مقبولیت بڑھنے کے ساتھ ساتھ خالد کے ناقدین بھی بڑھتے چلے گئے اور یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ ان کے ترجمے آج تک کے بہترین ترجمے ہیں، ناقدین یہ اعتراض بھی کر رہے ہیں کہ خالد حسن ایک ایماندار مترجم کا کردار ادا نہیں کر رہے۔

سب سے پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ وہ کہانیوں کے عنوان بدل دیتے ہیں۔ مثلاً منٹو کی معروف کہانی ’ٹھنڈا گوشت‘ کا ترجمہ انھوں نے Colder Than Ice کیا ہے۔ اگر یہ عنوان مناسب ہوتا تو منٹو خود ہی اپنی کہانی کا نام ’ برف سے ٹھنڈا ‘ رکھ دیتا۔ لیکن اس عنوان میں ’ گوشت‘ کا لفظ اس لئے ضروری ہے کہ کہانی میں بات انسان کے گوشت کی ہو رہی ہے اور کہانی کی جو بہیمّیت گوشت کے لفظ سے ادا ہوتی ہے وہ اور کسی لفظ سے نہیں ہو سکتی۔

اسی طرح فسادات میں گینگ ریپ کا شکار ہونے والی سکینہ کی کہانی کا انگریزی نام The Return رکھا گیا ہے جوکہ کسی طرح بھی ’کھول دو‘ کی نمائندگی نہیں کرتا۔

منٹو کی کہانی ’ سرکنڈوں کے پیچھے‘ کا ترجمہ بھی آسانی سے
Behind The Reeds ہو سکتا تھا لیکن بغیر کسی معقول وجہ کے خالد حسن نے اسکا نام The Wild Cactus رکھ دیا ہے۔

عنوانات کے تراجم پر یہ اعتراضات منٹو کے محقّق محمد اسدالدین نے کئے ہیں جنہیں یہ بھی شکایت ہے کہ ’ نیا قانون ‘ کے ترجمے میں منگو کوچوان کے بارے میں منٹو کے بیان کا بہت سا حصّہ مترجم نے حذف کر دیا ہے، نیز کہانی ’سراج‘ اور ’سو کینڈل پاور کا بلب‘ میں منٹو کے طویل اور دلچسپ بیانیے کا محض خلاصہ پیش کر دیا ہے۔ یہ اعتراض اپنی جگہ درست ہیں لیکن خالد حسن مترجمین کی اس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں جو متن کے لفظ بہ لفط تبادلے سے زیادہ اس بات کو اہمیت دیتے ہیں کہ جن لوگوں کے لئے ترجمہ کیا جا رہا ہے وہ اپنے لسانی اور ثقافتی تناظر میں بات کو کہاں تک سمجھ سکیں گے۔ چنانچہ کہانی ’یزید‘ کا ترجمہ کرتے ہوئے خالد حسن نے منٹو کے بیان کا خلاصہ کرنے کی بجائے ایسے اضافے کئے ہیں جن کی بدولت برطانوی، امریکی اور انگریزی دنیا کے دیگر قارئین واقعہء کربلا کا پس منظر بھی سمجھ جائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد