سعادت حسن منٹوانگریزی میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اُردو کہانی کار کے طور پر نام پیدا کرنے سے پہلے سعادت حسن منٹو فرانسیسی اور روسی ادب کے شہ پاروں کو اُردو میں منتقل کرچکا تھا۔ ظاہر ہے یہ ادب پارے اس نے انگریزی تراجم کی شکل میں پڑھے تھے اور اسطرح وہ نو عمری ہی میں وکٹرہیوگو، دوستوفسکی، چینحوف، پوشکن، گوگول اور میکسم گورکی کے نام سے متعارف ہو چکا تھا۔ علاوہ ازیں منٹو نے آسکر وائیلڈ کے ’ویرا‘ کو بھی انگریزی سے اُردو میں منتقل کیا تھا۔ منٹو کسی انگریزی لفظ کے صحیح اُردو متبادل کی تلاش میں جس طرح سر گرداں رہتا، وہ صحتِ زبان کے بارے میں اسکی احتیاط کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی غمازی ہے کہ وہ اصل متن کو پوری ایمانداری سے اُردو قارئین تک پہنچانا چاہتا تھا۔ آج جب منٹو کی اپنی تحریریں انگریزی میں ترجمہ ہو کر مغربی قارئین تک پہنچ رہی ہیں تو ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہئیے کہ کیا آج کے مترجمین بھی اُردو متن کو انگریزی میں ڈھالتے وقت اسی احتیاط اور دّقتِ نظر سے کام لے رہے ہیں؟۔
منٹو کے انگریزی ترجموں کی اوّلین کتاب Black Milk (از حامد جلال ) میں صرف چھ کہانیاں شامل تھیں البتہ 1985 میں امریکی مصنفہ لیزلی فلیمنگ نے منٹو پر تحقیقی مقالہ لکھا جسکا عنوان تھا: اس مجموعے میں طاہرہ نقوی کی ترجمہ کردہ سترہ کہانیاں شامل تھیں۔ اگرچہ یہ شاہکار ترجمے نہیں کہلا سکتے لیکن زبان کے لحاظ سے درست ہیں ۔ البتہ جہاں کہیں لیزلی فلیمنگ نے خود ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے، منہ کی کھائی ہے۔
and the light became a flower بھارتی مترجم جے رتن نے منٹو کی پندرہ کہانیوں کا ترجمہ The Best of Manto کے نام سے کیا ہے لیکن جس مترجم کو سب سے زیادہ شہرت ملی وہ یقیناً خالد حسن ہیں۔ انھوں نے منٹو ہی کے ایک ٹائیٹل ’بادشاہت کا خاتمہ‘ کو اپنے مجموعے کے لئے چُنا اور 1987 میں Kingdom's End کے نام سے یہ کتاب لندن سے شائع ہوئی۔ بعد میں خالد حسن نے ’ سیاہ حاشیے‘ کا بھی ترجمہ کیا جسکا نام رکھا : Partition: Sketches and Stories جے رتن پر یہ اعتراض کیا گیا تھا کہ اس کا ترجمہ اصل متن کو لفظ بہ لفظ منتقل کرنے پر قادر نہیں ہے اور جہاں کہیں مناسب انگریزی لفط نہیں ملتا وہاں متن میں وہ تھوڑی بہت تبدیلی کر دیتا ہے۔
سب سے پہلا اعتراض تو یہ ہے کہ وہ کہانیوں کے عنوان بدل دیتے ہیں۔ مثلاً منٹو کی معروف کہانی ’ٹھنڈا گوشت‘ کا ترجمہ انھوں نے Colder Than Ice کیا ہے۔ اگر یہ عنوان مناسب ہوتا تو منٹو خود ہی اپنی کہانی کا نام ’ برف سے ٹھنڈا ‘ رکھ دیتا۔ لیکن اس عنوان میں ’ گوشت‘ کا لفظ اس لئے ضروری ہے کہ کہانی میں بات انسان کے گوشت کی ہو رہی ہے اور کہانی کی جو بہیمّیت گوشت کے لفظ سے ادا ہوتی ہے وہ اور کسی لفظ سے نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح فسادات میں گینگ ریپ کا شکار ہونے والی سکینہ کی کہانی کا انگریزی نام The Return رکھا گیا ہے جوکہ کسی طرح بھی ’کھول دو‘ کی نمائندگی نہیں کرتا۔ منٹو کی کہانی ’ سرکنڈوں کے پیچھے‘ کا ترجمہ بھی آسانی سے عنوانات کے تراجم پر یہ اعتراضات منٹو کے محقّق محمد اسدالدین نے کئے ہیں جنہیں یہ بھی شکایت ہے کہ ’ نیا قانون ‘ کے ترجمے میں منگو کوچوان کے بارے میں منٹو کے بیان کا بہت سا حصّہ مترجم نے حذف کر دیا ہے، نیز کہانی ’سراج‘ اور ’سو کینڈل پاور کا بلب‘ میں منٹو کے طویل اور دلچسپ بیانیے کا محض خلاصہ پیش کر دیا ہے۔ یہ اعتراض اپنی جگہ درست ہیں لیکن خالد حسن مترجمین کی اس قبیل سے تعلق رکھتے ہیں جو متن کے لفظ بہ لفط تبادلے سے زیادہ اس بات کو اہمیت دیتے ہیں کہ جن لوگوں کے لئے ترجمہ کیا جا رہا ہے وہ اپنے لسانی اور ثقافتی تناظر میں بات کو کہاں تک سمجھ سکیں گے۔ چنانچہ کہانی ’یزید‘ کا ترجمہ کرتے ہوئے خالد حسن نے منٹو کے بیان کا خلاصہ کرنے کی بجائے ایسے اضافے کئے ہیں جن کی بدولت برطانوی، امریکی اور انگریزی دنیا کے دیگر قارئین واقعہء کربلا کا پس منظر بھی سمجھ جائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||