’بالی وڈ میں کاؤچ کاسٹنگ ہوتی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’یہ وہ منزل تو نہیں‘، ’اس رات کی صبح نہیں‘، ’چمیلی‘ ، ’ کلکتہ میل‘ اور ’ہزاروں خواہشیں ایسی‘ جیسی فلموں کے ہدایتکار سدھیر مشرا کا خیال ہے جونوجوان فلم انڈسٹری میں آنے کی خواہش رکھتے ہیں ان میں اداکاری اور ہدایت کاری کے لئے ایک خاص قسم کی دیوانگی اور جنون بےحد ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلم بناتے وقت کسی دور سے کی نقل کرنے کے بجائے اپنی شخصیت کو تلاش کرنا ایک اچھی فلم بنانے کی طرف پہلا قدم ہو تا ہے۔ ہدایت کار سدھیر مشرا نے بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں بتایا کہ انکی حالیہ فلم ’ہزاروں خواہشیں ایسی‘ نے غیر ممالک میں کافی مقبولیت حاصل کی ہے اور کئی فلم میلوں میں اس فلم کی ستائش کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فلم 70 کی دہائی کے اس دور پر مبنی ہے جب ملک میں ایمرجنسی نافذ تھی۔ فلم کے بارے میں سدھیر کہتے ہیں کہ ہر شخص کا فلم کا دیکھنے کا نظریہ مختلف ہوتا ہے۔ ’میرا اس موضوع پر فلم بنانے کا مقصد یہی تھا۔ کیوں کہ میری نظر میں وہ دور آئڈیلزم کا آخری دور تھا اور اس موضوع میں سب سے خاص بات یہ تھی کہ فلم کے ذریعے ہم آج کے نوجوانوں کو اس دور سے واقف کرا سکتے ہیں۔ سدھیر کے خیال میں چار برس قبل اس طرح کی فلم بنانے کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا لیکن تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے معاشرے نے اسے ممکن بنا دیا۔ سدھیر نے بتایا کہ فلموں سے انکا لگاؤ اس وقت شروع ہوگیا تھا جب انکی عمر کے بچے سائنسداں یا ڈاکٹر بننے کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ فلموں کی طرف انکے رجحان میں ایک بڑا ہاتھ انکے والد اور انکے چچاؤں کا بھی رہا ہے جو انہیں اس وقت فلمیں دکھایا کرتے تھے۔ ’ان دنوں چارلی چیپلن کی فلم ’سٹی لائٹس‘ نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا اور ہندی فلموں میں گرُودت کی فلم ’صاحب بیوی اور غلام‘ نے سب سے زیادہ متاثر کیا۔ انکی دادی نے یہ فلم تقریبا 25 مرتبہ انہیں دکھائی تھی۔ ان کی ہر فلم میں رات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ سدھیر کے مطابق رات کا وقت کافی دلچسپ ہوتا ہے اس وقت لوگ اپنے اپنے گھروں سے باہر آتے ہیں اپنی اصل شکل میں نظر آتے ہیں اور انکے اندر دبی ہوئی خواہشیں ابھر کر سامنے آتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں رات میں ایک ہدایت کار وہ تمام تجربات کر سکتا ہے جو وہ دن کی چکا چوند روشنی میں نہیں کر سکتا۔ بالی وڈ میں کاؤچ کاسٹنگ کے معاملے میں انہوں نے کہا کہ یہ رحجان جس طرح ہر انڈسٹری میں ہوتا ہے اسی طرح بالی وڈ میں بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کی گنجائش تب زیادہ بڑھ جاتی ہے جب کوئی شخص صلاحیت کے بغیر کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہو۔ اپنی آئندہ فلم کے بارے میں سدھیر کہتے ہیں کہ اس مرتبہ وہ اپنےشائقین کے لئے ایک ہلکی پھلکی فلم بنانے کی سوچ رہے ہیں۔ وہ ’اس رات کی صبح نہیں‘ کی طرح تھرلر بھی ہو سکتی ہے یا پھر ’چمیلی‘ کی طرح ایک ناممکن رشتے کی داستان بھی ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر مرتبہ کسی ہدایت کار کے پاس بھاری موضوع نہیں ہوتا ہے اور وہ ایک ایسی فلم بنانا چاہتے ہیں جس میں بالی ووڈ کا مصالحہ بھی ہو اور وہ انکی انفرادی تمناؤں کی عکاسی بھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||