پینتالیس سال بعد نئی ’پرینیتا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ میں دیوداس کے ساتھ مشہور ناولوں کو بنیاد بنا کر فلمیں بنانے کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ ابھی تک رکا نہیں ہے۔ بنگالی کے نامور ناول نگار سرت چندر چٹوپادھیائے کی کہانیوں پر فلمیں پہلے بھی بن چکی ہیں اور انہیں فلموں کو دوبارہ نئے انداز میں بنانے کی دوڑ سی لگی ہے۔ سرت چندر کے ناول ’پرینیتا‘ پر 1960 میں فلم بن چکی ہے جس میں مینا کماری ہیروئین تھیں اور اب اسی فلم کو ودھو ونود چوپڑہ بنا رہے ہیں ۔اس سے قبل سنجے لیلا بھنسالی نے نئے انداز میں دیوداس کو پیش کیا تھا۔ ودھو ونود چوپڑہ نے اپنی فلم منا بھائی ایم بی بی ایس کی شاندار کامیابی کے بعد ہی پرینیتا کو بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔فلم کے اہم ہیرو سنجے دت ہیں لیکن ان کے مقابل ریما سین ہیں ۔فلم میں چھوٹے نواب یعنی سیف علی خان اور ان کے سامنے نئی ہیروئین ودیا بالن ہیں ۔ سرت چندر نے اپنا یہ ناول 1914میں لکھا تھا اس لئے اس فلم میں پرانے کلکتہ کو دکھایا گیا ہے ۔فلم کے ہدایت کار پردیپ سرکار نے اس فلم میں پوری کوشش کی ہے کہ وہ اسی طرح کا ماحول پیدا کریں اور اس کے لئے انہوں نے ٹرام بھی دکھائی ہے ۔ فلم کی شوٹنگ دار جلنگ اورکلکتہ میں ہوئی ہے۔اس فلم کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ سیف علی خان پر بھی ایک گیت اسی ٹرین میں فلمایا گیا جس ٹرین میں ان کی والدہ شرمیلا ٹیگور پر آرادھنا کا گیت ’میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو‘ فلمایا گیا تھا۔ فلم کی کہانی عورت کی محبت اور اس کی وفا پر مبنی ہے ۔کہانی عورت اور مرد کے محبت کو دیکھنے کے الگ الگ نظریہ کو بہت خوبصورتی کے ساتھ اجاگر کرتی ہے ۔ فلم انڈسٹری میں کہانیوں کی کمی ہے شاید اسی لئے پرانی فلموں کو نئے انداز میں پیش کرنے یعنی پرانی شراب نئی بوتل میں پیش کرنے کا سلسلہ اس وقت نہیں تھم سکتا جب تک ناظرین اسے پسند کرتے رہیں گے ۔فلم دس جون کو نمائش کے لئے پیش ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||