’دل والے دلہنیا۔۔۔‘ کا ریکارڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ویڈیو پائیریسی کے اس دور میں رومانوی فلم ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ نے ممبئی کے مراٹھا مندر تھیٹر میں 500 ہفتے مکمل کر لئے ہیں۔ یہ فلم25 اکتوبر 1995 کو نمائش کے لئے پیش کی گئی تھی اس طرح یہ فلم اس سال اپنی ریلیز کے 10 برس مکمل کر لے گی۔ یہ بھارتی فلم انڈسٹری میں ایک ریکارڈ ہے ۔ فلم میں کاجول اور شاہ رخ خان کی رومانوی جوڑی ہے اور کہانی لندن سے شروع ہوتی ہے۔ دونوں کا رومانس وہیں جواں ہوتا ہے اور پھر کاجول کی شادی کے لئے اس کے والدین اسے پنجاب لے کر آتے ہیں۔ فلمساز یش چوپڑہ رومانوی فلموں کے شہنشاہ مانے جاتے ہیں اور حال ہی میں ان کی فلم ’ویر زارا‘ بھی کافی کامیاب فلم رہی ہے۔ انہوں نے اپنی فلم کی کامیابی کے موقع پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 13 مئی کو جب ان کی فلم 500 ہفتے مکمل کر لے گی تو اس موقع پر مفت ٹکٹ تقسیم کئے جائیں گے۔ سونی میکس چینل کے علاوہ این ڈی ٹی وی اور دیگر چینل فلم کی نمائش کے ساتھ ہی فلم کی تکمیل کی کہانی اور اب تک کے سفر کا ایک خاکہ ناظرین کو دکھائیں گے۔
اس فلم کی کہانی اور اسکرین پلے یش چوپڑہ کے بیٹے آدتیہ چوپڑہ نے لکھا ہے۔ فلم کے مکالمے جاوید صدیقی نے لکھے جو کافی مقبول ہوئےتھے۔ جاوید صدیقی نے اس موقع پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی فلم کی تاریخ لکھی جائے گی ان کا نام بھی اس میں بہ حیثیت مکالمہ نگار شامل رہے گا۔ جاوید صدیقی کے مطابق اس فلم کی کہانی، گیت، موسیقی، اداکاری، مکالمے، غرض ہر چیز اپنی جگہ مکمل ہے اور اسی لئے یہ فلم اتنی کامیاب رہی ہے۔ شائستہ انصاری نے اپنے کالج کی سہلیوں کے ساتھ اس فلم کو متعدد مرتبہ دیکھا ہے۔ ’ہم نے پہلے فلم کے نغموں اور شاہ رخ کے لئے فلم دیکھی اور بعد میں بور لیکچر سے بچنے کے لئے ہم یہاں چلے آتے تھے۔‘ مراٹھا مندر تھیٹر کے مینیجر پروین رانے کہتے ہیں کہ یہ تھیٹر فلم ’مغلِ اعظم‘ کے وقت مقبول ہوا تھا اور آج اس فلم نے اسے تاریخ کا حصہ بنا دیا ہے۔ پروین رانے کے مطابق فلم آج بھی بےانتہا پسند کی جا رہی ہے۔ اس فلم کے نغموں کے دوران کوئی بھی ہال سے باہر نہیں نکلتا۔ شاہ رخ خان اور کاجول کی کیمسٹری نے اس فلم کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ اس سے قبل امیتابھ بچن اور دھرمیندر کی فلم ’شعلے‘ منروا تھیٹر میں 5 سال تک دکھائی جاتی رہی تھی۔ اب اس فلم کا ریکارڈ ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ نے توڑ دیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||