BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 May, 2005, 10:13 GMT 15:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مغلِ اعظم: درخواست زیر غور

دلیپ کمار مغل اعظم میں
فِلم مغل اعظم کو گزشتہ برس رنگین بنا کر ریلیز کیا گیا
پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید نے کہا ہے کہ حکومت نے ابھی تک مشہور بھارتی فلم مغل اعظم کی ملک بھر کے سینماؤں میں نمائش کی اجازت نہیں دی ہے۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئےکہا کہ اس فلم کی نمائش کی درخواست زیر غور ہے مگر ابھی تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے بھارتی فلموں کی نمائش کے بارے میں تجاویز کے بارے میں کہا کہ یہ معاملہ طے ہونے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔

منگل کو اخباری اطلاعات کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دفتر سے مغل اعظم کے فلمساز مرحوم کے آصف کے صاحبزادے اکبر آصف کے نام ایک خط میں لکھاگیا تھا کہ ان کی فلم مغل اعظم کی پاکستان میں نمائش کے بارے میں اصولی طور پر فیصلہ کیا جا چکا ہے۔

تاہم اس خط میں کہا گیا ہے کہ اس فلم کی نمائش کی تاریخ اور دیگر معاملات طے کیے جا رہے ہیں۔

صدر جنرل مشرف کے گزشتہ برس برطانیہ کے دورے کے موقع پر مغل اعظم کا رنگین پرنٹ اکبر آصف نے پیش کیا تھا اور اس فلم کی پاکستان میں نمائش کی درخواست کی تھی۔

انیس سو ساٹھ میں ریلیز ہونے والی مغل اعظم جس کے ہیرو دلیپ کمار اور ہیروئن مدھوبالا تھیں پاکستان میں ابھی تک گھروں میں کیبل ٹی وی اور ویڈیو کیسیٹ یا سی ڈی کے ذریعے دیکھی جاتی ہے۔

اس فلم کا رنگین ورژن گزشتہ برس دنیا بھر میں ریلیز کیا گیا تھا۔

پاکستان میں گزشتہ پانچ دہائیوں سے بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی ہے اور اس عرصے میں صرف ایک فلم نور جہاں 1981میں سابق فوجی حکمران جنرل ضیاالحق کے دور میں ملک بھر کے سینیماؤوں میں دکھائی گئ تھی۔

گزشتہ دو برسوں سے پاکستان کی فلم انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہے اور سینیما مالکان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے کاروبار کو بچانے کے لئے بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت دیں۔

اس سلسلے میں پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی نے وزیر اعظم شوکت عزیز سے ملاقات کے لئے وقت مانگا ہے۔اس کمیٹی کے چیئرمین چوہدری ظفر اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے فلمسازوں کی مدد سے ایک درخواست تیار کی ہے جس میں فلم انڈسٹری کو بچانے کے لئے ہر سال پانچ بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت تجویز کی گئی۔

سینیٹ کی کمیٹی کی وزیراعظم سے ملاقات ان کے بیرون ملک دورے سے واپسی پر اس ماہ کے تیسرے ہفتے میں متوقع ہے۔

سینیٹر ظفر اقبال کے مطابق کمیٹی کا موقف ہے کہ بھارتی فلموں کی نمائش سے ایک طرف تو فلم انڈسٹری کو سہارا ملے گا اور دوسری طرف عوام کو بھی تفریح کے مواقع میسر آئیں گے۔

اس وقت پاکستان میں بھارتی فلمیں بے حد مقبول ہیں اور تقریباً ہر گھر میں کیبل ٹی وی اور سی ڈی پلیئر کے ذریعے بھارتی فلمیں بھارت میں ریلیز ہوتے ہی پاکستان کے گھروں کے ٹی وی کی زینت بن جاتی ہیں۔ پاکستان میں بھارتی فلموں کے چوری شدہ پرنٹ با آسانی دستیاب ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد