ہدایتکارہ ریما کی اوّلیں کوشش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ بہت شور سنتے تھے پہلو میں دِل کا‘ اب یہ کہنا تو زیادتی ہو گی کہ چیرنے کے بعد محض ایک قطرہ خون ہی نکلا۔ کیونکہ خون کی مقدار ایک قطرے سے کہیں زیادہ تھی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جس قدر شور و غُل اور پبلسٹی کے جلو میں یہ فلم نمائش کے لئے پیش ہوئی ہے اسکے مقابل فلم خاصی کمزور ہے۔ مصنف خلیل الرحٰمن قمر فلموں میں اپنی ابتدائی ناکامیوں کے بعد ٹیلی وژن پر ایک سٹار رائٹر کے طور پر اُبھرے تھے اور اب تک کئی کامیاب سلسلہ وار ڈرامے تصنیف کر چُکے ہیں۔ زیرِ نظر فلم کی کہانی بھی اِنٹرول تک انھوں نے خوب نباہی ہے لیکن اس کے بعد وہ کئی مخمصوں کا شکار ہو گئے۔ مثلاً ندیم اور عرفان کھوسٹ جیسے تجربہ کار اداکاروں سے بھر پور استفادہ کیونکر کیا جائے۔ فلمی دنیا میں جب کوئی معروف ہیرو بوڑھا ہو جائے تو اسے ریٹائرمنٹ کی باعزت زندگی بسر کرنی چاہیے یا پھر بڑی عمر کے کردار بِلا چون و چرا قبول کر لینے چاہیں۔ بُڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ کر ہر کمرشل فلم میں اہم ترین کردار ادا کرنے کی خواہش امیتابھ بچن تو کر سکتا ہے لیکن ہر کوئی نہیں۔ ’ کوئی تُجھ سا کہاں ‘ کا مصنف اس مشکل میں گرفتار دکھائی دیتا ہے کہ ریما اور معمر رانا کی کہانی کے ساتھ ساتھ ندیم کو کس طرح بھر پور طریقے سے استعمال کیاجائے۔ ہو سکتا ہے مصنف پر یہ دباؤ فلم ساز وہدایتکار ریما یا خود ماضی کے ہیرو ندیم کی جانب سے پڑا ہو۔
کہانی ملائشیا میں شروع ہوتی ہے جہاں ریما ایک کروڑ پتی باپ کی اکلوتی بیٹی ہے اور اپنے حسنِ سیرت، انسان دوستی، مساوات پسندی اور آزاد خیالی کے باعث اپنے باپ کے ہوٹل میں کام کرنے والے ایک ویٹر سے پیار کی شادی کر لیتی ہے اور اسے بھی ایک کروڑ پتی نوجوان میں تبدیل کر دیتی ہے۔ زندگی بڑے سکون سے گزر رہی ہے کہ ہیروئن کی ایک پرانی سہیلی بیرونِ ملک سے آن دھمکتی ہے اور وہ ہیروئن کو باور کراتی ہے کہ اسکا شوہر دراصل اپنے دفتر کی سیکریٹری کے ساتھ گُل چھّرے اڑاتا ہے۔ ایک موقع پر یہ سہیلی اپنے الزام کا ثبوت پیش کرنے کے لئے عین اس وقت ہیروئن کو ویمپ ( وینا ملک ) کے گھر لے جاتی ہے جب وہ امجد بابی کی بنائی ہوئی ایک دُھن پر گیت گارہی ہے اور سروج خان کے اشاروں پر جسم تھرکا رہی ہے جبکہ ہیرو شراب کے جام لنڈھاتا ہوا دادِِ عیش دے رہا ہے۔ ریما یہ دیکھ کر طیش میں آجاتی ہے کہ: میرے ہاتھوں کے تراشے ہوئے پتھر کے صنم
یہاں تک تو مصنف نے کہانی کو بڑی خوبی تک پہنچا دیا ہے۔ لیکن اس کے بعد مصنف پر بے شمار سوالات کی بوچھاڑ دکھائی دیتی ہے مثلاً ٭ ہیرو کو اگر’ اینٹی ہیرو‘ بنا دیا ہے تو فلم کے اختتام پر اسے پھِر سے ہیرو میں کِسطرح تبدیل کیا جائے۔ ٭ ندیم جیسے سُپر سٹار کو اگر کاسٹ کر لیا ہے تو اسکے مناظر کہاں کہاں تخلیق کئے جائیں۔ ٭ جنوب مشرقی ایشیا کی نسبتاً آزاد فضاؤں میں پلی ہوئی ہیروئن کو آخر میں ایک نیک، روائتی، مشرقی ہیروئن کا رویہ اختیار کرنے پر کیسے مجبور کیا جائے۔ فلم کا باقی حصّہ انہی اُلجھنوں کا شکار نظر آتا ہے جبکہ قتل کا منظر دکھانے کے بعد کہانی کار اس اضافی مخمصے میں بھی گرفتار معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک جرم و سزا کی کہانی ہے، پیار محبت کی داستان ہے، مرڈر مِسٹری ہے یا محض ایک تھِرلّر ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اگر کہانی میں یہ سب کچھ ہو گا تو پھر کہانی میں کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔ لیکن کہانی کی اِن بنیادی کمزوریوں کے باوجود ڈائریکٹر نے فلم کو چند اور روایتی خامیوں سے محفوظ رکھاہے۔ مثلاً اسطرح کی فلموں میں غیرملکی کردار عمومًا ٹوٹی پھوٹی اُردو بولتے نظر آتے ہیں جو انتہائی مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے۔ ہدایت کار ریما نے ایسے موقعوں پر کرداروں سے انگریزی میں کام لیا ہے۔سیاق و سباق کی موجودگی میں کسی سب ٹائٹل وغیرہ کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی۔ بطور مصنف، خلیل الر حمان قمر کی اصل مہارت مکالمہ نگاری میں نظر آتی ہے۔ اس فن کا بھر پور مظاہرہ وہ اپنے ٹی وی ڈراموں میں بھی کرتے رہتے ہیں۔ زیرِنظر فلم کی یہ ’ٹیگ لائین‘ سبھی ناظرین کو متاثر کرتی ہے: ’ معلوم نہیں نفرت انسان کو تباہ کرتی ہے یا نہیں لیکن یہ پیار سالا انسان کو ضرور برباد کر کے چھوڑتا ہے‘ امجد بوبی کی دھڑکتی پھڑکتی دُھنیں ماحول سے عین مطابقت رکھتی ہیں البتہ رِدم کا اُتار چڑھاؤ یا کسی میلوڈی کی ساخت آپکو بہت مانوس لگے تو سمجھ جائیے کہ مرحوم نے موسیقار ندیم شیرون کو اپنا آخری خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ برطانیہ کی ایشیائی ماڈل سِمرن کو ایک اہم رول میں کاسٹ کیا گیا ہے جبکہ ایک نسبتاً مختصر رول نئے اداکار ببرک کو بھی ملا ہے۔ اور کردار نگاری میں جو خامیاں مصنف کی طرف سے پیدا ہوئی ہیں انھیں کسی حد تک اداکاروں نے اپنے شاندار کام سےدور کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لحاظ سے یہ فلم پاکستان، بھارت، ملائشیا، تھائی لینڈ اور سنگا پور کے اشتراک سے بنی ہے کہ اس کا کچھ نہ کچھ کام ان ملکوں میں ضرور ہوا ہے۔ ہندوستان نے کئی سال پہلے بین الاقوامی اشتراک سے فلمیں بنانے کا آغاز کیا تھا اور اس قبیل کی کچھ ہٹ فلمیں بھی ہندوستان کے کریڈٹ پر ہیں لیکن پاکستان میں اب تک ایسی جو گنتی کی کوششیں ہوئی ہیں ان میں ’کوئی تجھ سا کہاں‘ ایک بہتر مقام پر دکھائی دیتی ہے۔ اس فلم نے بڑھتی ہوئی عمر کی ہیروئن ریما کا مستقبل بطور فلم ساز و ہدایتکار پکا کر دیا ہے اور ریما کو اس منصب سے ہٹانا شاید کسی کے لئے ممکن نہیں ہو گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||