BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 January, 2006, 16:16 GMT 21:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لالی وڈ: ساٹھ کی دہائی کی فلمیں

علاؤالدین اور اے۔ شاہ شکارپوری فلم سلمٰی میں
علاؤالدین اور اے۔ شاہ شکارپوری فلم سلمٰی میں
سن پچاس کے عشرے میں جہاں دوپٹہ، وعدہ، مکھڑا، سات لاکھ، انتظار، کرتار سنگھ، نیند اور کوئل جیسی معیاری فلمیں بنیں وہیں کچھ ایسے واقعات بھی پیش آئے جن کا اثر پاکستان کی فلم انڈسٹری میں بہت دُور رس ثابت ہوا۔

پہلا واقعہ مُلتان روڈ پرنیو ایورنیو سٹوڈیو کا قیام تھا۔ فلم ساز آغا جی۔اے گُل نے 1956 میں فلم دُلا بھٹی بنائی تھی جو کہ انتہائی کامیاب ثابت ہوئی۔ اسی آمدنی کو نئی سرمایہ کاری پر استعمال کرتے ہوئے آغا صاحب نے مُلتان روڈ پر نئے سازو سامان اور جدید سہولتوں والا ایک ایسا سٹوڈیو تعمیر کیا جو فنکاروں اور کاریگروں کے لئے ہوا کا ایک تازہ جھونکا ثابت ہوا۔ سن ساٹھ کے عشرے میں بننے والی اکثر کامیاب فلمیں اسی سٹوڈیو میں تیار ہوئی تھیں۔

سن پچاس کے عشرے میں پیش آنے والا دوسرا اہم واقعہ ایک ایسے غیر معروف ریڈیو آرٹسٹ کا فلمی دُنیا میں آنا تھا جو بعد میں پاکستانی فلموں کا اہم ترین کریکٹر ایکٹر ثابت ہوا۔ شاید آپ نے اندازہ لگا لیا ہو کہ ہم اداکار طالش کا ذکر کر رہے ہیں۔

طالش کا نام فلم سات لاکھ میں گائے ہوئے اِس شرابی گانے کی بدولت راتوں رات ملک میں مشہور ہو گیا۔
’یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں‘

میر تقی میر کے کلاسیکی مضمون کو سیف الدین سیف نے ایک نئے اور ہلکے پھلکے انداز میں باندھا تھا۔ رشید عطرے نے دھُن بھی خوب بنائی تھی اور سونے پہ سہاگہ طالش کی ادا کاری تھی۔ اگرچہ یہ طالش کی پہلی فلم نہیں تھی اور اس سے قبل وہ نتھ، جھیل کنارے اور جبرو میں کام کر چُکے تھے بلکہ پاکستان آنے سے پہلے انھوں نے بمبئی میں معروف افسانہ نگار کرشن چندر کی فلم ’سرائے کے باہر‘ میں بھی ایک کردار ادا کیا تھا، لیکن طالش کو حقیقی شہرت فلم سات لاکھ کے اس گیت پر لب ہلانے سے ملی۔

ریڈیو کے صدا کار طالش جو فلموں میں آ گئے

سن پچاس کے عشرے کا ایک اور اہم واقعہ جِسے اب نظر انداز کر دیا گیا ہے وہ پاکستان کی پہلی جاسوسی فلم ’راز‘ تھی۔ یہ ایک ’مرڈر میِسٹری‘ تھی۔ فلم کی ابتداء ہی میں ایک مسافر کے ٹرنک سے انسانی لاش برآمد ہوتی ہے جسکے بارے میں مسافر کچھ نہیں جانتا ۔ ہمایوں مرزا کی اِس فلم میں مسرّت نذیر، شمیم آراء اور اعجاز نے کام کیا تھا جبکہ کہانی کا مرکزی نقطہ علاؤالدین تھے۔

گویا جب 1960 کا سورج طلوع ہوا تو پاکستان میں اچھے اداکاروں کی ایک کھیپ تیار ہو چکی تھی، لاہور میں ایک نیا سٹوڈیو کام شروع کر چُکا تھا اور فلمی صنعت میں سرمایہ کاری کے لئے حالات سازگار تھے۔

پاکستان کی فلمی دُنیا میں سن ساٹھ کے عشرے کا آغاز ایک دلچسپ فلم سے ہوا۔ مصنّف تھے نذیراجمیری، فلم ساز اور ہدایت کار تھے اشفاق ملک اور فلم کا نام تھا ’ سلمٰی‘۔

اس میں اگرچہ بہار، اعجاز، یاسمین، اے شاہ شکارپوری اور طالش جیسے ہِٹ اداکار موجود تھے لیکن بُنیادی طور پر یہ علاؤالدین کی فلم تھی جنھوں نے ایک بدھو اور اَن پڑھ نوجوان کا کردار ادا کیا تھا، لیکن ایسا بدھو جو کبھی کبھی بڑے پتے کی بات کہہ جاتا ہے۔ علاؤالدین کی تعلیم کے لئے منشی شکارپوری کو ملازم رکھا جاتا ہے لیکن جب وہ الف۔ بے کی پٹی شروع کرتا ہے تو علاؤالدین اُس سے کہتے ہیں ’ ماسٹر جی ’الف‘ سے لے کر ’ی‘ تک تو مجھے معلوم ہے، ذرا یہ بتائیے کہ الف سے پہلے کیا ہوتا ہے اور ’ی‘ کے بعد کیا آتا ہے‘۔

مُنشی یہ سُن کر چکرا جاتا ہے اور علاؤالدین کی ذہانت کا ایسا قائل ہوتا ہے کہ ساری فلم میں اسکی عقل مندی کے گُن گاتا رہتا ہے۔ اس کے منہ سے تعریفیں سُُن کر ایک پڑھی لکھی معزّز خاتون کا رشتہ علاؤالدین کے گھر پہنچ جاتا ہے۔

سنتوش کمار بی بی سی اُردو سروس میں

ظاہر ہے یہ ایک اَن مِل بے جوڑ رشتہ ہے لیکن سلمٰی (بہار) فیضو (علاؤالدین) کی سادگی اور بھولپن سے بہت متاثر ہوتی ہے۔ شادی کے بعد پہلا منظر یہ دکھایا جاتا ہے کہ علاؤالدین تختی لکھ رہے ہیں اور بہار اُنکی ٹیچر بنی ہوئی ہیں۔ مرکزی کردار کی سادگی اور بھولپن اس فلم کی اصل جاذبیت تھی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ فلم سلمٰی اس سے پہلے ’شاردا‘ کے نام سے بھی بن چُکی تھی (1942) اور ہٹ ہوئی تھی۔ اُس زمانے میں علاؤالدین والا کردار واسطی نے ادا کیا تھا۔

لیکن اس سے بھی زیادہ مزے کی بات یہ ہے کہ 1942 اور 1960 کی کامیابیوں کے بعد یہی کہانی 1974 اور 1980 میں بھی آزمائی گئی اور اسے دونوں مرتبہ زبردست کامیابی حاصل ہوئی ۔

1974 میں تو اشفاق ملک ہی نے اسے پنجابی کے روپ میں ڈھالا اور’بھولا سجن‘ کا نام دیا۔ اس میں بھولے سجن کا کردار اعجاز نے ادا کیا۔ 1980 میں یہ کہانی ہدایتکار جاوید فاضل کے مشّاق ہاتھوں میں پہنچی۔ انہوں نے اسے’صائمہ ‘ کے نام سے فلمایا اور بھولے بھالے ہیرو کے لئے ندیم کا انتخاب کیا۔

لیکن اس کہانی میں شاید اب بھی اتنا دَم خَم ہے کہ اگر اداکارہ اور ہدایت کارہ ریما اسے فلمانے کا ارادہ کر لے تو اب بھی یہ کہانی کامیاب ہو سکتی ہے۔

اس کہانی کی متواتر کامیابیوں کا راز اسکے ہیرو کی شخصیت میں مضمر ہے۔ ایک ان پڑھ شخص، پڑھے لکھے لوگوں کے دُنیا میں اکیلا، بے سہارا اور بے یارو مددگار ہے اور اسی لئے ناظرین کی ہمدردی کا مستحق ہے۔ ساٹھ پیسنٹھ برس پہلے فلم بینوں نے ہمدردی کے جو پھول واسطی پہ نچھاور کئے تھے وہی بعد میں علاؤالدین اعجاز اور ندیم پہ لُٹائے گئے۔

سن ساٹھ کے عشرے میں ایک طرف تو ڈھاکے میں اُردو فلم سازی کا کام سنجیدگی سے شروع ہو گیا اور دوسرے لاہور میں پنجابی فلم سازی نے ایک مضبوط صنعت کی شکل اختیار کر لی۔

مسرّت نذیر جو اصل میں گلوکارہ بننا چاہتی تھیں

اسی دور میں حزیں قادری پنجابی فلموں کے کامیاب ترین مصنّف کے طور پر سامنے آئے جِن کی لکھی ہوئی فلموں کی بدولت اکمل، فردوس اور مظہر شاہ کے ساتھ ساتھ منوّر ظریف اور رنگیلے کا مستقبل بھی محفوظ ہو گیا۔

مغربی پاکستان کی اُردو فلموں میں یہ دور محمد علی، ندیم، وحید مُراد، زیبا، دیبا، شبنم، شمیم آراء اور نیّر سُلطانہ کا دور تھا جب کہ پچھلی دہائی کے فلمی جوڑے صبیحہ۔ سنتوش اور مسرّت ۔سدھیر بھی منظر میں موجود تھے۔

فلمی سرمایہ کاری، تقسیم کاری، نمائش کاری اور نئے فلمی تجربات کے لحاظ سے سن ساٹھ کا عشرہ خصوصی مطالعے کا تقاضہ کرتا ہے اور آئندہ نشست میں ہم اِِن پہلؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔

اسی بارے میں
لالی وڈ دو دھڑوں میں بٹ گئی
18 March, 2004 | فن فنکار
لالی ووڈ کل اور آج: نویں قسط
23 August, 2005 | فن فنکار
لالی وڈ آج اور کل، قسط 11
19 September, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد