سیف اللہ لاہور |  |
 | | | فلم ’مغل اعظم‘ سے پہلے مینا کماری اور پردیپ کمار کی فلم ’نورجہان‘ کی پاکستان میں نمائش ہو چکی ہے۔ |
پاکستان کا مرکزی فلم سنسر بورڈ سنیچر کے روز مشہور بھارتی فلم’مغل اعظم‘ سنسر کرے گا جبکہ بعد میں حال ہی میں ریلیز ہونے والی ایک اور بھارتی فلم’تاج محل‘سنسر کی جائے گی۔ مرکزی فلم سنسر بورڈ کے چیئرمین ضیاالدین خان کے مطابق وزارت ثقافت نے دونوں فلموں کی پاکستان میں نمائش کی اجازت دے دی ہے۔ ’گزشتہ روز میری ملاقات وفاقی سیکرٹری کلچر جلیل عباس سے ہوئی۔ انہوں نے مجھے کہا کہ دوبھارتی فلموں’مغل اعظم‘ اور ’تاج محل‘ کی نمائش کی اجازت دے دی گئی ہے۔ آپ یہ فلمیں سنسر کریں۔‘ فلم’مغل اعظم‘ کے ڈسٹری بیوٹر ندیم مانڈوی والا ہیں جنہوں نے فلم کا پرنٹ جمع کرا دیا جسے سنسر بورڈ کا پینل سنیچر کے روز سنسر کرے گا۔ اس کے بعد جب ’تاج محل‘ سنسر کے لیے آئے گی تو وہ بھی سنسر ہو جائے گی۔ ضیاءالدین خان نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں جب پاکستانی فلموں کا معیار بہت گرچکا ہے اور پاکستان کے اندر فلمیں بن بھی بہت تھوڑی تعداد میں رہی ہیں، بھارتی فلموں کی نمائش سے پاکستان کی بحران سے دوچار سینما انڈسٹری سہارا ملے گا۔  | | | اس سے پہلے فلم ’سوہنی مہیوال‘ کی نمائش کی اجازت دی جا چکی ہے۔ | ’اگر سوہنی مہینوال، مغل اعظم اور تاج محل کے بعد مزید بھارتی فلموں کو پاکستان میں نمائش کی اجازت ملتی ہے تو سینماگھر گرنے سے بچ سکتے ہیں۔‘ سوہنی مہینوال کے بعد مزید دو بھارتی فلموں مغل اعظم اور تاج محل کو نمائش کی اجازت ملنے پر پاکستان کی سینما انڈسٹری میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پاکستان فلم ایگزیبیٹرز ایسوسی ایش کے چیئرمین جہانزیب بیگ، سابق چیئرمین ضوریز لاشاری اور دیگر عہدیداروں نے گزشتہ روز لاہور میں منعقدہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں حکومت کا شکریہ ادا کیا اور مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں سینما گھروں کو بچانے کے لیے مزید بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت دی جائے۔ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ دونوں فلموں ’مغل اعظم‘ اور ’تاج محل‘ کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ زلزلہ زدگان کے صدارتی ریلیف فنڈ میں دیا جائے گا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ ان فلموں کی نمائش کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں امید ہے کہ ڈیڑھ دو ماہ تک فلم بین یہ تینوں بھارتی فلمیں پاکستانی سینما گھروں میں دیکھ سکیں گے۔ |