اسٹرنگز کا جنون، مہیش بھٹ کی نظر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت، پاکستان کے درمیان سرحدوں کے فاصلوں کو فنکاروں نے مٹا دیا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ آزادی کے دوران ملکوں کی تقسیم کے بعد سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطہ نہ رہا ہو۔ تجارت کے راستے کھلے۔ مہدی حسن اور غلام علی جیسے غزل کے شہنشاہ بھارت آئے تو یہاں سے اس وقت جگجیت سنگھ کئی مرتبہ پاکستان گئے۔ سماجی خدمتگاروں ، وکلاء اور صحافیوں کے وفود ایک دوسرے کے وطن پہنچے لیکن پھر بھی ایک خلیج قائم رہی ۔اس خلیج کو صحیح معنوں میں پاٹنے کا کام سن دو ہزار پانچ میں شروع ہوا جب دونوں ممالک کے فنکاروں کا بڑے پیمانے پر فلم انڈسٹری میں تبادلہ شروع ہوا۔ اس سال وہ سب کچھ ہوا جس کے بارے میں آزادی کے بعد سے لوگوں نے سوچا تک نہیں تھا ۔پاکستان کی سر زمین پر ہندی فلموں کی شوٹنگز ہونے لگی ہے، کارا فلم فیسٹیول میں بھارتی فلموں کی نمائش کی جارہی ہے۔ دوسری جانب پاکستانی فلم انڈسٹری کے فنکار بولی وڈ میں اپنے جلوے بکھیر رہے ہیں۔ بات فلموں تک محدود نہیں رہ گئی۔ موسیقی ، مکالمہ نگاری نے نغموں سے بڑھ کر ٹی وی چینل کو اپنے دائرے میں لے لیا اور آج یہ عالم ہے کہ ٹیلی ویژن کی دنیا کے بیک وقت چار سے پانچ فنکار پاکستانی سیریل میں کام کر رہے ہیں ۔
اگر ماضی میں نظر دوڑائیں تو فروری میں پہلی مرتبہ بھارت کی سرزمین پر بولی وڈ اور لولی وڈ کے فنکاروں نے ایک ساتھ اسٹیج پر پروگرام پیش کیا۔ سونامی نے بڑی تباہی کی تھی ۔لاکھوں افراد اس ناگہانی آفت سے متاثر ہوئے اور ہمیشہ کی طرح فنکاروں نے ان کی امداد کے لیے پروگرام منعقد کیا تاکہ ان کی مالی امداد کی جاسکے۔ اداکار سنجے دت کے ساتھ پوری فلم انڈسٹری ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئی لیکن اس مرتبہ پڑوسی دیس کے فنکاروں کو مدعو کیا گیا اور انہوں نے نیک کام کے لیے لبیک کہا ۔ پاکستان سے اداکار معمر رانا ، اداکارہ میرا ، اسٹرنگس بینڈ ، راحت فتح علی خان نے اپنی خدمات پیش کیں۔ چھ فروری کو پروگرام ہوا۔ پوری دنیا نے اسے لایئو دیکھا ۔اور لوگ گواہ تھے جب معمر رانا اور میرا نے فلم ’ویر زارا‘ کے نغمے ’ایسا دیس ہے میرا‘ پر رقص کیا تو حاضرین تھرک اٹھے اور انہوں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔ اسٹرنگز بینڈ کے فیصل کپاڈیہ اور بلال مقصود جب اسٹیج پر آئے تو لوگوں نے ان کے مشہور البم ’دھانی‘ کا گیت گانے کی فرمائش کی۔ راحت علی خان کے نغمے کے ساتھ لوگ تھرکنے لگے۔ اسی دوران فلمی ہستیوں کے لباس فروخت ہوئے اور ایشوریہ رائے کے ساتھ ایک شام چائے پینے کے لیے بولی لگی۔ پاکستان کے سرمایہ دار علی ریاض نے اٹھائیس لاکھ روپے کی بولی لگا کر وہ شام اپنے نام کر لی تھی۔ ممبئی میں اپریل کے مہینے میں فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (فکی) کا سالانہ اجلاس ہوا جس میں پاکستان کی فلم انڈسٹری اور ٹی وی انڈسٹری سے منسلک افراد بھی شامل ہوئے۔
سینسر بورڈ کے چیئرمین مسٹر ضیاءالدین نے اس پروگرام میں تجویز پیش کی کہ بھارت اپنے یہاں پاکستان کے فنکاروں کو تربیت کی سہولت فراہم کرے تا کہ پاکستانی فلم انڈسٹری کا کینوس وسیع ہو سکے۔ اسی پروگرام میں پاکستانی ٹی وی چینل ’جیو‘ کے ڈائرکٹر یوسف مرزا بھی موجود تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ اسی سال کے آخر تک وہ دونوں ممالک کے فنکاروں کو لے کر سیریل بنائیں گے اور یہ چینل بھارت میں بھی دکھایا جا سکے گا۔ چینل تو ابھی شروع نہیں ہو سکا لیکن بھارتی ٹی وی انڈسٹری سے نوشیں علی سردار ، راجیو کھنڈیلوال ، جوہی پرمار ، امن ورما ، مونا واسو ، آمنہ شریف شویتا تیواری نے ’جیو‘ کئی سیریل میں کام کیے اور ’جیو‘ ٹی وی کی ان کوششوں کو بھارت میں سراہا گیا اور یہاں ٹی وی ایوارڈ فنکشن میں ’جیو‘ کو ایوارڈ سے نوازا گیا۔ فنکاروں کے تبادلے کا دور اداکارہ میرا سے شروع ہوا۔ مہیش بھٹ نے میرا کو ’کارا‘ فلم فیسٹیول میں دیکھا تھا اور انہوں نے میرا کو اپنی فلم ’نظر‘ میں بطور ہیروئین سائن کر لیا۔ فلم میں ہیرو اشمیت پٹیل کے چند مناظر کو لے کر میرا کی فلم نمائش سے پہلے ہی تنازعہ کا شکار ہو گئی تھی۔ ’نظر‘ کے بعد میرا نے کامیڈین محمود کے بیٹے لکی علی کے ساتھ فلم ’کسک‘ سائن کر لی۔ اس سے پہلے ہی ایک اور فلمی ہیروئین ثنا نواز کو امتوج مان نے اپنی فلم ’قافلہ‘ کے لیے منتخب کر لیا۔ ثنا کو پہلی ہی فلم میں سنی دیول جیسے بڑے ہیرو کے سامنے کام کا موقع مل گیا۔ فلم کی شوٹنگ جاری ہے اور اطلاعات کے مطابق فلم سن دو ہزار چھ کے مارچ مہینے میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔ مہیش بھٹ جن کا کہنا ہے کہ وہ ان دو ممالک کے درمیان پیار محبت کو بڑھاوا دینے کی بھر پور کوشش کریں گے، اپنی آئندہ فلم ’گینگسٹر‘ کے لیے کرکٹر شعیب اختر کا انتخاب کیا اور انہیں پیشکش کی۔ لیکن شعیب نے ان کی پیشکش کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ وہ کرکٹ پر دھیان دینا چاہتے ہیں۔ اب تک لولی وڈ کے ستارے ہی بولی وڈ میں کام کر رہے تھے لیکن پہلی مرتبہ بولی وڈ اداکارہ ’نیہا دھوپیا‘ نے پاکستانی فلم ’ کبھی پیار نہ کرنا‘ میں آئٹم رقص کرنا قبول کیا ۔ اس رقص کی شوٹنگ ممبئی میں ہوئی اور اس دوران پاکستان سے اداکارہ زارا شیخ بھی ممبئی آئیں۔ اگست میں پاکستانی فلمساز شہزاد رفیق نے اپنی نئی فلم ’تیرے لیے‘ کا اعلان کیا۔ پہلی مرتبہ کسی پاکستانی فلم کے لیے کہانی، مکالمے، نغمے اور عکاسی کے لیے بھارتی فنکاروں کا انتخاب کیا گیا۔ اسکرپٹ اور مکالمے کے لیے بولی وڈ کے نامور رائٹر جاوید صدیقی کا انتخاب کیا گیا اور نغمے گلزار لکھیں گے۔ فلم کے ہیرو ہمایوں سعید ہیں اور ان کے مقابل بولی وڈ ہیروئین کا لیا جانا طے ہے ۔اس وقت بھی جاوید پاکستان میں موجود ہیں اور فلم پر کام جاری ہے۔ سال کے آخر تک میرا مزید دو فلموں میں کام کر رہی ہیں اور اسی کے ساتھ وہ فلمسازی کے میدان میں بھی قسمت آزمائی کا ارادہ رکھتی ہیں ۔ان کی چھوٹی بہن اقصی رباب بھی بولی وڈ میں آرہی ہیں۔
پاکستان کے فلمساز اور اداکار جاوید شیخ برسوں سے بولی وڈ میں قسمت آزما رہے تھے۔ انہوں نے کئی فلمیں کیں جن میں ششی رنجن کی فلم کے علاوہ فلم ’دس‘ بھی تھی لیکن ان کی تقدیر نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور اب آخر کار ان کی بڑے بینر کی فلم ’شکھر‘ ریلیز ہو رہی ہے اس میں انہوں نے نوجوان ہیرو شاہد کپور کے باپ کا کردار نبھایا ہے۔ جاوید اپنی فلم ’کھلے آسمان کے نیچے‘ بنانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ بولی وڈ اداکارہ لینے کے خواہشمند ہیں لیکن ابھی تک وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں کیونکہ انہیں ابھی کسی ہیروئین کی تاریخ نہیں مل سکی ہے۔ فلمی صنعت سے پرے اگر موسیقی کی دنیا کا رخ کریں تو یہاں پاکستان کے فنکار بلندیوں پر نظر آتے ہیں۔ بھارت کا نوجوان طبقہ جنون اور اسٹرنگز بینڈ کا دیوانہ ہے لیکن چند فلموں میں پاکستانی گلوکاروں کے نغموں نے دھوم مچا دی ہے۔ مہیش بھٹ کی فلم ’زہر‘ میں پاکستان کے گلوکار عاطف نے ایک گیت ’وہ لمحے وہ باتیں‘ گایا تھا جو اپنے وقت کا انتہائی مقبول گیت تھا اور آج بھی لوگوں کی زباں پر ہے ۔اب ایک بار پھر عاطف اور راحت علی خان لوگوں کی دلوں کی دھڑکن بنے ہوئے ہیں ۔فلم ’ کل یگ‘ میں ان کے نغموں نے تمام گیتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ موسیقی اور نغمگی کی بات ہو اور عابدہ پروین کا ذکر نہ ہو تو بات ادھوری رہ جائے گا ۔نصرت فتح علی خان کے بعد صوفی گائیکی میں ان کا جواب نہیں۔ بھارت میں کلاسیکی اور جدید گائیکی کے لیے مشہور گلوکارہ شبھا مدگل اور عابدہ پروین کا ’لایئو‘ پروگرام بی بی سی نے منعقد کیا تھا ۔پوری دنیا نے بیک وقت دو ملکوں کے فنکاروں کو دیکھا، سنا اور مسحور ہوئے۔ فن نے ساری دیواریں گرا دیں، فاصلے مٹا دیئے، دلوں کو جوڑنے کا کام کیا۔ برسوں سے جو اپنے، اپنوں سے دور تھے، فن اور فنکاروں کے تبادلوں نے انہیں یکجا کرنے کا کام کیا ہے۔ سیاسی جوڑ توڑ سے پرے فنکاروں نے گھروں سے دلوں میں جگہ بنا لی اور امید یہی ہے کہ یہ عمل اسی طرح آئندہ برس بھی جاری رہے۔ |
اسی بارے میں ’انسانی ہمدردی، سرحد سے بالاتر‘19 November, 2005 | فن فنکار فلمی دوستی کا ایک اور قدم25 August, 2005 | فن فنکار سونامی کیلیے پاک انڈیا کنسرٹ25 January, 2005 | فن فنکار ۔۔۔مگر حکومت نہیں مانتی05 October, 2005 | فن فنکار ’مشترکہ فلم سازی ہونی چاہیے‘06 December, 2004 | فن فنکار پاکستان اور افغانستان کا’یارانہ‘19 September, 2005 | فن فنکار اداکارہ میرا کو قتل کی دھمکیاں03 March, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||