BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 October, 2005, 14:39 GMT 19:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
۔۔۔مگر حکومت نہیں مانتی

 مغلِ اعظم
اگست میں پاکستان میں مغلِ اعظم کی نمائش کی افواہ اڑی تھی
پاکستان کی وفاقی وزارتِ ثقافت نے اب واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ ہندوستانی فلموں کی نمائش پاکستانی سینماؤں میں نہیں ہو سکتی اور یہ پابندی اُس وقت تک رہے گی جب تک کشمیر سمیت دونوں ممالک کے تمام باہمی تنازعات ختم نہیں ہو جاتے۔

گویا پاکستانی فلم بینوں کو رادھا کا رقص دیکھنا تبھی نصیب ہو گا جب دونوں ممالک کے اربابِ حل و عقد نو من تیل کا انتظام کر دیں گے۔ ظاہر ہے کہ بھارتی فلموں کی نمائش کے لیے ایسی کڑی شرط رکھنا، نمائش کی اجازت نہ دینے کے مترادف ہے۔

’ کون جیتا ہے تِری زلف کے سر ہونے تک‘۔

گزشتہ دو تین برس کے دوران پاک بھارت تعلقات میں مدّوجذر کی جو کیفیت رہی ہے وہ براہِ راست ہماری فلمی دُنیا میں مسّرت اور مایوسی کی لہریں پیدا کرتی رہی ہے۔

جونہی پاکستانی یا بھارتی حکومت کی جانب سے دوستی اور خیرسگالی کا کوئی خوشگوار پیغام آتا ہے، یہاں کے فلمی حلقوں میں مشترکہ فلم سازی یا کم از کم بھارتی فلموں کی نمائش کے بارے میں خوش فہمیاں شروع ہو جاتی ہیں۔

ماہِ اگست میں یہ خوش اُمیدی بہت بڑی افواہ کی شکل اختیار کر گئی تھی کہ یومِ آزادی کے موقع پر دلیپ کمار کی فلم مغلِ اعظم ( رنگین) کی نمائش پاکستان بھر کے سینماؤں میں ہوگی لیکن حکومت کی طرف سے آخری لمحات میں اسکی تردید کر دی گئی۔

کچھ پاکستانی فن کاروں کے بھارتی فلموں میں نمودار ہونے کے بعد پھر یہ افواہیں شروع ہوئیں کہ دونوں ممالک کی مشترکہ فلم سازی کی منزل اب دُور نہیں ہے اور عنقریب دونوں ممالک کے عوام اپنے سینماؤں میں پاکستانی اور بھارتی فلمیں دیکھ سکیں گے۔

میکلوڈ روڈ کا اوڈین سینما ویران پڑا ہے

اس ضمن میں پاکستانی تقسیم کاروں اور نمائش کاروں کے ایک وفد نے اسلام آباد جا کر سرکاری حُکام سے بات چیت بھی کی اور ایک تفصیلی منصوبہ حکومت کے سامنے پیش کیا جس کے مطابق پانچ پاکستانی فلمیں بھارت جائیں گی اور اِن کے بدلے پانچ بھارتی فلمیں پاکستان منگائی جائیں گی۔

یہ منصوبہ اُس کامیاب انتظام کے عین مطابق ہے جو کہ سن پچاس کی دہائی میں رائج تھا اور جس کے تحت ہر سال بارہ پاکستانی فلموں کے بدلے میں بارہ بھارتی فلمیں درآمد کی جاتی تھیں ۔ فلمی نمائندوں نے اپنے اس منصوبے کی تفصیل وزیرِاعظم کے دفتر میں بھی جمع کرائی ہے لیکن تاحال کہیں سے کوئی مثبت اشارہ نہیں ملا اور اب یہ خطرہ ایک حقیقی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے کہ سینما گھروں کے مکمل خاتمے کی گھڑی سر پہ آن پہنچی ہے۔

پاکستان میں کچھ سینما ہال تو تقسیم ہند سے پہلے کے تھے اور بہت سے نئے سینماگھر سن ساٹھ کے عشرے میں تعمیر ہوئے تھے جب یہاں کی فلمی صنعت اپنے عروج پر تھی۔

میسّر اعدادوشمار کے مطابق سن ستر کی دہائی میں پاکستان میں کوئی ساڑھے سات سو سینما گھر تھے جو گھٹتے گھٹتے اب محض ڈھائی سو کے قریب رہ گئے ہیں۔

کوئی پاکستانی سرمایہ کار سینما گھر کی تعمیر میں دلچسپی نہیں رکھتا کیونکہ سینما ہال کے لیے کم از کم تین چار کنال زمین کی ضرورت ہوتی ہے اور کمرشل پلاٹوں کی قیمتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ سینما تعمیر کرنا سراسر گھاٹے کا سودا ہے، جبکہ بنے بنائے سینما گھر کو گِرا کر اسکی زمین پر پلازا کھڑا کرنا انتہائی منافع بخش ثابت ہو رہا ہے۔

1973 میں لاہور میں 63 سینما گھر تھے جِن میں سے اِس وقت صرف 23 باقی رہ گئے ہیں۔ کراچی میں اُس وقت 86 سینما گھر تھے لیکن اب صرف 36 باقی رہ گئے ہیں (انہدام کا تازہ ترین شکار کراچی کا لیرک سینما ہے)۔

حیدر آباد کے بیس سینماؤں میں سے اب صرف چار باقی ہیں جبکہ سکھر کے چھ سینما گھروں میں سے صرف ایک باقی بچا ہے۔

ویڈیو فلموں کے ناجائز کاروبار اور کیبل پر نئی فلموں کی غیر قانونی نمائش کو روکنے میں حکومت کی ناکامی کے بعد پاکستانی تقسیم کاروں اور نمائش کاروں کی واحد اُمید یہی تھی کہ پاکستانی اور بھارتی فلموں کے تبادلے کی اجازت دے دی جائے تاکہ پاکستانی سینماؤں کی رونق بحال ہو سکے۔

یہاں کی فلمی صنعت کے نمائندوں نے حکومت کو پیشکش کی ہے کہ اگر بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت مِل جائے تو فلمی صنعت حکومت کو ماضی کی طرح ڈیڑھ سو فیصد تفریحی ٹیکس دینے کو تیار ہے جس سے صرف پنجاب سے حکومت کو 50 کروڑ سالانہ ٹیکس وصول ہوگا۔

تاہم حکومت کی طرف سے مسلسل خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ دیگر سیاسی مصلحتیں اس وقت ترجیحی مقام رکھتی ہیں اور بھارتی فلموں پر سے پابندی اُٹھانے کا فیصلہ کسی ثقافتی بُنیاد پر نہیں ہوگا بلکہ سیاسی ضروریات کے تابع رہے گا چنانچہ پاکستانی سینماؤں کی رونق بحال ہونے کا خواب فی الحال شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد