فلمی دوستی کا ایک اور قدم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فلمساز اور ہدایت کار شہزاد رفیق نے بولی وڈ سے دوستی اور فنکاوں کے تبادلے میں ایک قدم اور آگے بڑھایا ہے اور اپنی فلم میں کئی بڑے بھارتی فنکاروں کو کاسٹ کیا ہے۔ شہزاد رفیق کی فلم ’تیرے لئے‘ کی کہانی بولی وڈ کے مشہور اسکرپٹ رائٹر جاوید صدیقی لکھ رہے ہیں۔ فلم کے نغمے گلزار کے زور قلم کا نتیجہ ہوں گے اور موسیقی بھی بھارتی میوزک ڈائریکٹر وشال بھردواج کی ہو گی۔ بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی فلم کی عکاسی بھی جنوبی ہند کے کیمرہ مین شاہ جی کرون کریں گے۔ ایسا نہیں ہے کہ بولی وڈ اور لولی وڈ میں فنکاروں کا تبادلہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے ۔ جب سے دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں سب سے پہلے فن اور فنکاروں کے تبادلے شروع ہوئے۔ پاکستانی اداکارہ میرا نے بھارتی فلم’نظر‘ میں کام کیا تو بولی وڈ اداکارہ نیہا دھوپیا نے پاکستانی فلم میں معمر رانا کے ساتھ آئٹم گیت فلمایا لیکن ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ فلم کی کہانی نغمہ نگاری ، موسیقی اور ان سے بڑھ کر فلم کی ہیروئین بھی بھارتی اداکارہ ہوں گی۔ کسی پاکستانی فلم میں پہلی مرتبہ کہانی لکھنے کا اعزاز حاصل کرنے والے اسکرپٹ رائٹر جاوید صدیقی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے ۔ جاوید کی فلم’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ نے کامیابی کے ریکارڈ توڑے تھے اور شاید اسی لیے ان کا انتخاب کیا گیا۔ جاوید کے مطابق فلم کی کہانی یورپی ممالک میں رہنے والوں ان ایشیائی لوگوں کی ہے جو بھارت ،پاکستان ،بنگلہ دیش اور سری لنکا سے آکر یہاں آباد ہوتے ہیں ۔یہاں ایک دوسرے کے ساتھ وہ مل جل کر رہتے ہیں ہر خوشی اور غم میں ایک دوسرے کے شریک ہوتے ہیں ۔یہاں یہ ایشیئن کمیونٹی کے لوگ کہلاتے ہیں لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ یہی لوگ جب جب اپنے ملک واپس آتے ہیں تو ان کا رویہ کس طرح ایک دوسرے کے تئیں بدل جاتا ہے۔ جاوید کے مطابق بھارت اور پاکستان میں’لو اسٹوری‘ کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے اس لیے ان کی کہانی میں بھی ہیرو اور ہیروئین ہیں لیکن یہ پاکستانی نژاد ہیں ۔ شہزاد رفیق کی فلم سلاخیں نے لولی ووڈ میں ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کی تھی۔اپنی فلم تیرے لیے کی کاسٹنگ کے سلسلہ میں بھارت آئے ہوئے شہزاد کا کہنا ہے کہ ہمارے یہاں تیکنیک اتنی جدید نہیں ہے جتنی بولی ووڈ میں ہے لیکن کہانی اور نغموں میں وہ آگے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنی فلم میں کچھ نیا پن چاہتے ہیں اس لیے انہوں نے جاوید صدیقی اور گلزار کے ساتھ موسیقی کے لیے بھی بولی وڈ کو ہی منتخب کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ’فلم کے ہیرو ہمایوں سعید ہیں لیکن فلم کی ہیروئین بولی ووڈ سے لیں گے‘۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ذہن میں تین سے چار ہیروئینوں کے نام ہیں لیکن وہ ابھی اسے بتانا نہیں چاہتے ہیں اوراگلے ہفتے تک نام فائنل ہونے کا امکان ہے تب وہ نام کا اعلان کریں گے ۔ شہزاد رفیق کو یقین ہے کہ بولی وڈ کے ان تمام فنکاروں کے ساتھ ان کی یہ فلم کافی کامیاب ہو گی ۔وہ چاہتے ہیں کہ بھارتی فلموں کو پاکستانی تھیٹروں میں نمائش کی اجازت مل جائے تا کہ جعلی ڈی وی ڈی اور فلم پائیریسی کو روکا جا سکے ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||