پاکستان اور افغانستان کا’یارانہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور افغانستان کے گلوکاروں نے ہمیشہ اپنے اپنے دیس کی محبت کے گن تو بہت گائے ہیں لیکن دونوں ہمسایہ ممالک میں دوستی کے فروغ کے لیے گلوکاری کی صنف کا استعمال کم ہی ہوا ہے۔ اردو اور پشتو کے مشہور پاپ گلوکار رحیم شاہ نے اپنی نئی البم میں پاک افغان دوستی کو موضوع بنایا ہے۔ ’یارانہ’ نامی یہ البم، رحیم شاہ کی تین برس کے وقفے کے بعد مارکیٹ میں آنے والی پشتو البم ہے۔ اس میں شاعری رحمان بونیری، صدف چنگیزی اور فیروز آفریدی کی ہے۔ صوبہ سرحد کے سوات علاقے سے تعلق رکھنے والے تیس سالہ رحیم شاہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوستی کو موضوع بنانے کی وجہ دریافت کی تو ان کا کہنا تھا کہ اس کے چند افغان دوستوں کا واپس اپنے دیس جانا اس کی وجہ بنا۔ رحیم شاہ کا کہنا تھا کہ وہ پشتو البم تیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے یہ تو دوستوں کے یاد نے بنوا ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے نقل کی وجہ سے پشتو البم تیار کرنی بند کر دی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پشتو گانے تو منٹوں میں پشاور میں کاپی ہوجاتے ہیں اور ہم جیسے فنکاروں کو اپنی لگائی ہوئی رقم بھی نہیں ملتی جبکہ اردو اور پنجابی میں کچھ فائدہ ہو جاتا ہے‘۔ ایک درجن گیتوں کی اس البم میں ایک گیت فارسی جبکہ ایک اردو زبان میں بھی ہے۔ ان سے البم کا پسندیدہ گانا پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سبھی انہیں پسند ہیں البتہ فارسی زبان میں پاک افغان، یا قربان اور رومانیوی جانان انہیں کافی پسند ہیں۔ رحیم شاہ کی ماضی کی البمز سے یہ نئی البم کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ وہی طرز وہی انداز۔ انہوں نےاس تسلسل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ میرا یہی سٹائل تو لوگوں نے سراہا ہے، میں اسے تبدیل نہیں کروں گا۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ شائقین اس کوشش کو بھی ماضی کی طرح سراہیں گے۔ رحیم شاہ نے بتایا کہ اس البم کی ویڈیو بھی بڑی محنت اور سرمایہ کاری کے ساتھ تیار کی جا رہی ہے اور لوگوں کو بہت پسند آئے گی۔ نقل کی موجودگی میں اس البم کی کامیابی کے بارے میں کچھ کہنا ابھی مشکل ہے تاہم رحیم شاہ امید کرتے ہیں کہ اس سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے میں مدد ضرور ملے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||