سوہنی مہینوال کو نمائش کی اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور روس کے اشتراک سے لوک داستان سوہنی مہینوال پر بننے والی فلم ’لیجنڈ آف لو‘ کو پاکستان میں نمائش کی اجازت مل گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے مرکزی فلم سنسر بورڈ کے پینل نے فلم ’لیجنڈ آف لو‘ دیکھ لی ہے۔ اس پر چند اعتراضات لگائے ہیں جونہی ان اعتراضات کے جوابات مل جائیں گے تو اس فلم کو سنسر سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جائے گا۔ پاکستان فلم سنسر بورڈ کے چیئرمین ضیا الدین خان نے بتایا کہ یہ فلم 1990 میں سنسر بورڈ نے منگوائی تھی مگر بعض وجوہات کی بنا پر ریلیز نہ ہو سکی۔ اس فلم کے ڈسٹری بیوٹر ظفر علی نے حکومت سے اپیل کی تھی کہ فلم کی نمائش کی اجازت دی جائے جس پر حکومت نے سنسر بورڈ کو یہ فلم دیکھنے کی ہدایت کی ۔ سنسر بورڈ نے یہ فلم دیکھ لی ہے اور فلم پر لگائے گئے اعتراضات کے جوابات ملتے ہیں سنسر بورڈ سرٹیفکیٹ جاری ہو جائے گا۔ فلم کے ڈسٹری بیوٹر ظفر علی نے بتایا کہ فلم سوہنی مہینوال ’لیجنڈ آف لو‘ کو نمائش کی اجازت مل گئی ہے۔ سنسر بورڈ نے جوابات فائل ویڈیو کے ساتھ سنسر بورڈ کو جمع کروائے ہیں۔ انہوں نے اس فلم کے مرکزی کردار بھارتی اداکار سنی دیول اور پونم ڈھلون نے کیے ہیں۔ زیادہ تر اداکار روسی ہیں، میوزک بھی روس سے لیا گیا ہے جبکہ عکسبندی بھی روس میں ہوئی ہے اور صرف ڈریسز (شلوار قمیض) بھارت سے منگوائے گئے تھے۔ روس کے ڈائریکٹر فائزوف نے اسے ڈائریکٹ کیا ہے جبکہ بھارتی ڈائریکٹر اومیش مہرہ نے ان کی معاونت کی۔انہوں نے بتایا کہ 1989 میں نیفڈیک نے اس فلم کو درآمد کیا۔ نیفڈیک سے ہمارے ادارے گولڈن پکچرز نے نمائشی حقوق حاصل کیے سنسر بورڈ میں پیش کیا مگر سنسر بورڈ نے اس کی نمائش کی اجازت نہیں دی۔ ظفرعلی کے مطابق حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی گئی۔ہائی کورٹ نے پیٹیشنر کے حق میں فیصلہ دے دیا لیکن اس کے باوجود فلم کو نمائش کی اجازت نہیں دی گئی۔ ظفر علی کے مطابق انہوں نے اس عرصے میں سات مرتبہ ہائی کورٹ اور دو مرتبہ سپریم کورٹ میں اس فلم کی نمائش کے رٹ دائر کیں، دو مرتبہ وفاقی اور جوائنٹ سیکریڑی پکچر پر عدالتوں کے فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کے مقدمے بھی بنے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے صدر مملکت سے فلم کی ریلیز کی اپیل کی، صدر سکریٹریٹ سے نےانفارمیشن ، ثقافت اور تجارت کی وزارتوں سے این آو سی حاصل کیے۔ اس کے بعد حکومت نے اس ’شق‘ کو جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بھارت اور اداکاروں اور ہدایت کار کی فلم کی نمائش کی اجازت نہیں، ختم کرتے ہوئے فلم ’لیجنڈ آف لو‘ سنسر کرنے کی ہدایت کی جس پر سنسر بورڈ اسلام آباد کے پینل نے فلم دیکھی۔ پینل نے چند اعتراضات کیے جن کے جوابات انہوں نے فائل کیے ہیں۔امید ہے کہ دو تین دن تک ہمیں سنسر کے طرف سے سرٹیفکیٹ مل جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس فلم کے پوسٹر ضائع ہو چکے ہیں اور یہ دوبارہ بنانا پڑیں گے اور اسطرح اس فلم کی ریلیز پر تین ماہ لگ سکتے ہیں۔ ظفر علی بتایا کہ یہ فلم دنیا بھر میں انگریزی ، فرانسیسی اور عربی زبان میں ریلیز ہو چکی ہے اور اب پاکستان میں اردو زبان میں ریلیز ہو رہی ہے۔ | اسی بارے میں دوستوئیفسکی کی سالگرہ لاہور میں 24 December, 2005 | فن فنکار پاکستان اور افغانستان کا’یارانہ‘19 September, 2005 | فن فنکار انڈین گانوں کے حقوق محفوظ 21 April, 2005 | فن فنکار فلم متنازع سہی مگر شاہکار ہے29 February, 2004 | فن فنکار اسٹرنگز کا جنون، مہیش بھٹ کی نظر08 December, 2005 | فن فنکار ایرانی فلمیں لاہور میں08 December, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||