فلم متنازع سہی مگر شاہکار ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’پیشن آف دا کرائسٹ‘ ایک شاہکار فلم ہے مگر اس پر یہودی مخالف ہونے کے الزامات نے اس کی مقبولیت کے متاثر ہونے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ میل گبسن نے اس فلم میں حضرت عیسٰی کی زندگی کے جن بارہ گھنٹوں کا احاطہ کیا ہے وہ فی الواقعہ انجیل کے بیان کے مطابق ہے۔ اس میں حضرت عیسٰی کو مصلوب کرنے کا منظر دکھایا گیا ہے اور اسے حقیقت سے قریب تر رکھنے کی کوشش میں اس وقت کی لاطینی اور آرامی یا سامی زبانوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ یقیناً ناظرین کے لئے ان زبانوں کا سمجھنا مشکل تھا اس لئے مکالموں کو انگریزی زبان کے ’سب ٹائٹلز‘ کے ذریعے ناظرین تک پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو گبسن نے جن کیفیات کو دیکھنے والوں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے وہ کامیابی سے ہمکنار نہ ہو پاتی۔ فلم کا آغاز ایک باغ کے منظر سے ہوتا ہے۔ حضرت عیسٰی کو معلوم ہو چکا ہے کہ صلیب ان کے قریب تر ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں نیکی اور بدی کی جنگ کی عکاسی شیطان کی آمد سے کی گئی ہے۔ بعض جگہ گبسن نے تخیل آمیزی بھی کی ہے تاکہ منظر کو دلچسپ بنایا جا سکے۔ ہو سکتا ہے کہ ان تمام جزیات کا حقیقت سے تعلق نہ بھی ہو۔ بہرحال بعض مقامات پر زیب داستاں کے لئے ایسا کرنا پڑتا ہے۔ پھر جیسے ہی یہودی عالم حضرت عیسٰی کو پکڑ لیتے ہیں تو دیکھنے والے ایک خونیں منظر کی سنسنی اپنے رگ و پے میں محسوس کرنے لگتے ہیں۔ تاہم فلم میں ان روشن خیال یہودیوں کو بھی دکھایا گیا ہے جو حضرت عیسٰی کے مقام کو سمجھتے ہیں۔ فلیش بیک کی تکنیک کی مدد سے ان کی پچھلی زندگی کے مناظر بھی پیش کیے گئے ہیں جو ان کو درپیش موجودہ پرتشدد صورتحال کی سنگینی کو کم کر دیتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||