متنازعہ فلم کی مقبولیت میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حضرت عیسٰی پر بنائی جانے والی متنازعہ فلم ’پیشن آف دی کرائیسٹ‘ اب بدھ کے روز امریکہ میں پہلے سے زیادہ سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔ اداکار اور ہدایتکار میل گبسن کی فلم کے ڈسٹری بیوٹر نیومارکیٹ فلمز کا کہنا ہے کہ وہ اب اس فلم کی چار ہزار کاپیاں بنا رہے ہیں کیونکہ یہ فلم شمالی امریکہ کے دو ہزار سینما گھروں میں دکھائی جائے گی۔ اس فلم پر یہودی رہنماؤں کی طرف سے الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ یہ یہودی مخالف فلم ہے جبکہ ہدایتکار میل گبسن نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
انٹرنیٹ کے ذریعے فلم کی ٹکٹیں بیچنے والی کمپنی فانڈانگو کا کہنا ہے کہ ’پیشن آف دی کرائیسٹ‘ کی ایڈوانس ٹکٹوں کی فروخت کمپنی کی کل حالیہ فروخت کا ستر فیصد ہے جس سے فانڈانگو کے مطابق یہ مشہور فلم لارڈ آف دی رِنگ کے بعد اس کی دوسری کامیاب فلم بن گئی ہے۔ امریکہ میں سینما گھروں کی ایک بڑی کمپنی کے اہلکار رِک کنگ کے مطابق یہ فلم امریکہ میں اس کے دو سو انیس سینما گھروں میں سے ایک سو اسی میں دکھائی جائے گی اور یہ فلم بظاہر خاصے عرصے تک مقبول رہ سکتی ہے۔ اداکار میل گبسن نے اس فلم میں ذاتی پر دلچسپی کے باعث تیس ملین ڈالر لگائے ہیں اور کئی عیسائی مذہبی رہنما اس فلم کی تشہیر کے لئے ان کے ساتھ تعاون کررہےہیں۔ لیکن یہودی حلقوں کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جارہا ہے کہ اس فلم میں یہوریوں کو مکمل طور پر حضرت عیسٰی کو صلیب چڑھائے جانے کا ذمہ دار قرار دیا جارہاہے جس سے یہودی مخالف جذبات بھڑک سکتے ہیں۔ اسی اثناء میں میل گبسن کے والد ہٹن گبسن نے ایک انٹرویو کے دوران یہ کہا ہے کہ انیس سو چالیس کی دہائی میں یہوریوں کے قتل عام کی تاریخ میں حقیقت کم اور افسانہ زیادہ ہے۔ ہٹن گبسن ایک مخصوص کیتھولک فرقے کے ماننے والے ہیں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہودی اور میسن عقائد ایک سازش کے تحت کیتھولک چرچ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||