| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل: ہالی وڈ سے مدد طلب
اسرائیل کی حکومت لڑائی سے پریشان عوام کو خوش کرنے کیلئے ہالی وڈ کے اداکاروں کو اسرائیل آنے کی دعوت دے رہی ہے۔ امریکی شہر لاس اینجلس میں اسرائیلی قونصل خانے نے سوپرمین کے ایکٹر کرِسٹوفر ریو کی حال ہی میں اسرائیل کا دورہ کرنے کے لئے تعریف کی ہے۔ اسرائیلی قونصل جنرل یوول روتیم کا کہنا ہے: ’اداکار عوام سے اظہار یکہجتی کیلئے اسرائیل سفرکرسکتے ہیں۔‘ روتیم کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا خیال اس وقت آیا جب سولہ ماہ قبل ہدایت کار اولیور اسٹون نے یاسر عرفات کے ساتھ تین دن گزارے۔
ان کا خیال ہے کہ ’اگر چوبیس، اڑتالیس گھنٹے کے لئے آپ کچھ ایسا کرسکتے ہیں جس سے عوام کا حوصلہ بلند ہو تو یہ بہتر ہوگا۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’میں نہیں سمجھتا ہوں کہ وہ ذاتی طور پر اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کی حمایت کریں۔ لیکن دہشت گردی کے شکار لوگوں سے یہ کہنا کہ ’آپ تنہا نہیں ہیں‘ ایک سیاسی بیان نہیں ہے۔‘ جولائی میں کرِسٹوفر ریو کے دورے سے پہلے ہدایت کار قوئنٹین تارانتینو اور سنگیت کار وہائٹنی ہوسٹن نے بھی اسرائیل کا دورہ کیا ہے۔ پلپ فِکشن نامی فلم کے پروڈیوسر بینڈر نے جون میں اسرائیل، غرب اردن اور مصر کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے اسرائیلی حکام، اس وقت کے فلسطینی وزیراعظم محمود عباس اور مصری صدر حسنی مبارک سے ملاقاتیں کی تھیں۔
اس دورے کے بعد بینڈر نے کہا تھا: ’میں سمجھتا ہوں اسرائیلی عوام ہالی وڈ کے اداکاروں سے ملنا پسند کرتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ فلسطینی عوام مصیبت میں ہیں لیکن یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسرائیل کو مدد کی ضرورت ہے۔‘ تاہم ہالی وڈ میں اسرائیل کی حمایت نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ فلمی اداکار مشرق وسطی کے شدید مسائل سے الگ رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن ویسٹ وِنگ نامی سیریز کے اداکار جوش مولینا کا کہنا ہے کہ اداکاروں کھل کر ان مسائل پر اظہار خیال کرنا چاہئے۔ ’میں سمجھتا ہوں کہ اس مسئلے پر خاموشی سے ایسے خیالات کی حمایت ہوتی ہے کہ اسرائیل غنڈہ گردی کررہا ہے اور فلسطینی مظلوم ہیں۔‘ ہالی وڈ میں اسرائیل کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ اداکاروں کے اسرائیل کے دورے کیلئے فنڈ جمع کرتے رہیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |