گبسن کی متنازعہ فلم ریلیز ہوگئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فلم اداکار اور ہدایت کار میل گبسن کی متنازعہ فلم ’دی پیشن آف دی کرائسٹ‘ بدھ کے روز امریکہ بھر کے سنیما گھروں میں نمائش کے لئے پیش کر دی گئی۔ حضرت عیسٰی کی زندگی کے آخری بارہ گھنٹوں پر محیط اس فلم کاجب پیر کے روز خصوصی شو پیش کیا گیا تو دیکھنے والوں کی جانب سے پر جوش رد عمل سامنے آیا۔ تاہم چند یہودی گروہوں کی جانب سے فلم کو یہودی اقدار کے خلاف قرار دیا گیا، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کے فلم کے بعض مناظر میں بہیمانہ طور تشدد ہوتے دکھایا گیا ہے۔ فلم کےہدایت کار گبسن نے یہودی گروپوں کی تنقید پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کے فلم کا مقصد قطعی طور پر یہودی ِاقدار کی مخالفت کرنا نہیں ہے، بلکہ فلم تو حضرت عیسٰی کی عظیم قربانی کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ گبسن نے تسلیم کیا کہ فلم میں تشدد کے مناظر شامل ہیں مگر دیکھنے والے چاہیں تو ادھوری فلم چھوڑ کر بھی آ سکتے ہیں اور جو ِاتنے ہی خائف ہوں وہ دیکھنے کی زحمت نہ کریں۔ ُان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے فلم میں حضرت عیسٰی کی زندگی کے آخری مناظر کو باقاعدہ بائیبل پڑھ کر ایماندارانہ طریقے سے پیش کیا ہے۔ اور اُن کی اِس تخلیق کو مسیحی گروپوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ دو ہزار آٹھ سو امریکی سنیما گھروں میں آج ریلیز کے بعد، یہ فلم برطانیہ میں چھبیس مارچ کو ریلیز ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||