BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 December, 2005, 12:09 GMT 17:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دوستوئیفسکی کی سالگرہ لاہور میں
فیودور دوستو ئیفسکی کا دن
لاہور میں فیودور دوستو ئیفسکی کی ایک سو چوراسیویں سالگرہ پر تقریب کی صدارت انتظار حسین نے کی قاضی جاوید مہمانِ خصوصی تھے۔ سٹیج پع سہیل وڑائچ اور کمپئر قندیل
شاید دنیا کے کسی بھی ملک اور شہر میں ادیبوں اور ادب کے پڑھنے والوں کو یہ خیال نہ آیا ہو لیکن لاہور کے ادیبوں دانشوروں اور فنکاروں کی تنظیم ساؤتھ ایشین رائیٹرز اینڈ آرٹسٹ نیٹ ورک ’ساون‘ نے دنیا کے عظیم ناول نگار فیودور دوستو ئیفسکی کی ایک سو چوراسیویں سالگرہ منعقد کر کے لاہور کے ادیبوں کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ دوستو ئیفسکی کے ادب پر اظہارخیال کرسکیں۔

’ساون‘ کی اس تقریب کی صدارت انتظار حسین نے کی جبکہ قاضی جاوید مہمان خصوصی تھے۔ نوجوان صحافی اور انگریزی ادب کے استاد سہیل وڑ ائچ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہما ر ے ملک میں سنجیدہ ادب کا مطالعہ کرنے والوں کی تعداد میں شدید کمی آئی ہے۔ ادب اور صحافت کی جگہ سستے ادب اور صحافت میں ذاتیات اورسطحیت نے فروغ حاصل کیا ہے۔

سنجیدہ ادب کا مطالعہ کرنے والوں کی تعداد میں شدید کمی آئی ہے

سہیل وڑائچ نے اس امر کا اظہار کیا کہ شاید دوستوئیفسکی کے لیے ہونے والی یہ شا ندار تقریب ہمارے ملک کی ادبی تاریخ میں ایک نیا موڑ ثابت ہو گی۔

افسانہ نگار محترمہ نیلم بشیر احمد نے کہا کہ ہم نے دوستوئیفسکی کی تحریروں کو پڑھ کر لکھنا شروع کیا تھا اور ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہمیں اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے۔

ٹیلی وژن کمپئیر قندیل نے تقریب کی نظامت کی اور دوستوئیفسکی کی تحر یروں کے اقتباسات پڑھ کر سنائے۔

اس موقع پر ٹیلی وژن کے فنکار فانی جان نے دوستوئیفسکی کے ناول جرم و سزا کے مشہور کردار مارمیلدڈوف کو سٹیج پر اپنی شاندار اداکاری سے حاضرین کو بہت محظوظ کیا۔

قاصی جاوید
قاصی جاوید نے تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے

پروفیسر امجد طفیل نے دوستوئیفسکی کو نفسیات کے حوالے سے ان پرتحقیقی کا م کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کے عہد میں دوستوئیفسکی کا مطالعہ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

تقریب کے مہمان خصوصی قاضی جاوید نے دوستوئیفسکی پر اپنے طویل مضمون میں دوستوئیفسکی کے ناول ’کرامازوف برادران‘ اورٹالسٹائی کے ناول ’جنگ اور امن‘ کو دنیا کے دو عظیم ترین ناول قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوستوئیفسکی کے نفسیاتی امراض اور مرگی کے دوروں کے بارے میں ہمیں سگمنڈ فرائیڈ کے بعد آنے والے ماہرین سے رجوع کرنا پڑے گا۔

 سعید
ساون کے سکریٹری جنرل سعید احمد

لاہور کی اس منفرد تقریب کے صدر انتظار حسین نے کہا کہ ٹا لسٹائی اور دوستوئیفسکی کا شمار عالمی ادب کے جنات میں ہوتا ہے۔ جن کا مقابلہ دنیا کی کسی زبان کے ادیب نہیں کر سکتے ۔

انتظار حسین نے کہا کہ آج کا پاکستان دوستوئیفسکی کے انیسویں صدی کے روس جیسے حالات سے گذر رہا ہے۔ دوستوئیفسکی نے انیسویں صدی میں ادب تخلیق کر تے ہوئے پوری بیسویں صدی کے عالمی ادب پر اپنے گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔انتظار حسین نے کہا کہ جدید اردو ادب انہیں روسی بزرگوں کے سائے تلے پروان چڑھا ہے۔

دوستوئیفسکی کی سالگرہ کی تقریب پر پاکستان میں روس کے سفیر سرجئی پیسکوف نے ’ساون‘ کے سیکرٹری جنرل سعید احمد کے نام اپنے پیغام میں لاہور کے ادیبوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ادب اور ثقافت کے ذریعے گہرے دوستانہ مراسم قائم کیے جا سکتے ہیں۔

سرجئی پیسکوف نے دوستوئیفسکی کے ادب کو عالمی ادب کا عظیم سرمایہ قرار دیا۔

قندیل
تقریب کی کمپئرنگ شاعرہ قندیل نے کی

پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل جناب مشاہد حسین نے ’ساون‘ کے کام کو سراہتے ہوئے دوستوئیفسکی کے ان ایام کا ذکر کیا جب وہ روس میں سائبیریا کے عقوبت خانوں میں اپنی زندگی کے اذیت ناک دن گذار رہے تھے۔

مشاہد حسین نے کہا کہ ایک بار دوستوئیفسکی نے کہا تھا کہ ’خیالات کو تشکیل دینے سے زیادہ مشکل کا م اور کوئی نہیں ہے‘۔لیکن دوستوئیفسکی نے یہی مشکل کام اپنے ناولوں اور کہانیوں میں انتہائی کامیابی سے انجام دے کر پوری دنیا کو حیرت زدہ کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دوستوئیفسکی کی اپنی زندگی کے ذاتی دکھوں میں بھی روایتی روسی مزاحمت اور بغاوت جھلکتی ہوئی نظر آتی ہے۔

اسی بارے میں
تاریخ ، ادب اور بالی وڈ
25 July, 2005 | فن فنکار
ادب کا موضوع جنگ
08 September, 2003 | فن فنکار
آرتھرمِلر انتقال کر گئے
11 February, 2005 | فن فنکار
شہوت انگیز ادب کا جدید کلاسک
09 August, 2005 | قلم اور کالم
مارلن نےخودکشی نہیں کی تھی
07 August, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد