مارلن نےخودکشی نہیں کی تھی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مارلن منرو اور ان کے نفسیاتی معالج کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگواب تحریری شکل میں منظر عام پر آئی ہے جس سے انیس سو باسٹھ میں خودکشی سے پہلے ان کی دماغی حالت کا صحیح اندازہ ہوتاہے۔ مارلن کا انتقال انیس سو باسٹھ میں ہوا تھا اور بتایا گیا تھا کہ انہوں نے خودکشی کی ہے۔ مارلن کے قتل کے حوالے سے تفتیش کرنے والے جون مائنر ڈسٹرکٹ اٹارنی کےدفتر میں کام کرتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ مارلن کی اپنے نفسیاتی معالج سےگفتگو کے ٹرانسکرپٹ دیکھنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مارلن اپنی ہلاکت کے کھیل کا ایک شکار ہوئیں۔ اداکارہ مارلن کی موت اگست انیس سو باسٹھ میں چھتیس سال کی عمر میں خواب آور دوا کے زیادہ استعمال سے ہوئی تھی۔ ان کی موت جسے خودکشی کا نام دیا گیاشروع ہی سے متنازعہ رہی ہے۔ مارلن کی اپنے نفسیاتی معالج سے ہونے والی گفتگو کے یہ ٹیپ جون مائنر نے ان کے تھراپسٹ ڈاکٹر ریلف گرین سن سے حاصل کیے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس کیس کےحوالے سےان ٹیپس سے جامع اور اہم نکات حاصل ہوئے جو ان کی خواہش پر مارلن کے تھراپسٹ ڈاکٹر ریلف گرین سن نے انہیں سنوائے تھے۔ لیکن ان ٹیپس کی درست ہونے کے بارے میں مختلف سوال اٹھائے گئے ہیں۔ ایک اخبار لاس اینجلس ٹائمز نےمائنر کی اجـازت سےاس ٹیپ سے کچھ اقتباسات جمعہ کو اخبار میں شائع کیے۔ اس نے یہ بھی لکھا کہ مائنر نے ڈاکٹر ریلف گرین سن سے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ اس بارے میں کسی سے کچھ نہیں کہےگا۔ مگر انہوں نے ڈاکٹر کی موت کے بعد اس وعدہ کواس وقت توڑ دیا جب مارلن کی سوانح حیات لکھنے والوں میں سے کچھ نے ان کی موت کے سلسلے میں شک کا دائرہ ڈاکٹر تک بڑھایا۔ مائنر کا اس بارے میں کہنا ہےکہ ادکارہ کی موت کی وجہ بننے والے عوامل ان کی زندگی میں نظر نہیں آتے کیونکہ وہ اپنے مستقبل میں کچھ کرگزرنے کے حوالےسے بہت سے منصوبہ رکھتی تھیں۔ وہ کہتے ہیں ٹیپ بتاتے ہیں کہ وہ شکسپئر کے خیالات سے بہت متاثر تھیں۔ ان ٹیپوں سے ان کے اداکار جون کرافرڈ کے تعلقات، بیس بال کے کھلاڑی جو میگیو اور ڈرامہ نگار آرتھرمیلر کےساتھ ناکام شادیوں کے حوالے سے کی گئی گفتگو کا بھی پتہ چلتا ہے۔ ان تمام موضوعات پر انہوں نے اپنے نفسیاتی معالج کے سوالات کے بڑے کھلے انداز میں جوابات دیے تھے۔ یہ ٹیپ رابرٹ کینیڈی اور ان کے بھائی صدر جے ایف کینیڈی سے ان کےتعلقات کےرازوں کا کسی قدر پردہ اٹھتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||