معروف شخصیات کے آٹوگراف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلّی میں دنیا کی معروف شخصیات کے آٹوگراف کی ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے۔ عظیم سیاسی لیڈر، مشہور دانشور وادیب اور نامور کھلاڑیوں کے تقریبا ایک ہزار آٹوگراف ایک جگہ عوام کے دیدار کے لیے جمع کیے گۓ۔ ’آٹوگرافیکس دوہزار چار‘ نامی اس نمائش کا اہتمام آل انڈیا فائن آرٹس اینڈ کرافٹ ایسوسیئشن کی مدد سے آٹوگراف کلیکٹر کلب آف انڈیا نے کیا ہے۔ نمائش میں لگے بہت سے فوٹو گراف و آٹوگراف کے درمیان جلی حرفوں میں لکھا ہے ’امن و سلامتی کے پیغام کے لیے‘۔ کلب کے صدر وینکٹیش داس اگروال کا کہنا ہے کہ تاریخ کی عظیم ہستیوں کے آٹوگراف ایسے ہیں جیسے فن مصوری میں برش کا ایک لازوال سٹروک ہو۔ تاہم اس سے زیادہ ان کی اہمیت اس نوعیت سے ہے کہ وہ تاریخ کا ایک اہم جز بن چکے ہیں۔ ہندوستان میں اس نوعیت کی یہ پہلی نمائش ہے جس میں مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو، بے نظیر بھٹو، یاسر عرفات، نیلسن منڈیلا، بل کلنٹن جیسے سیاسی رہنماؤں کے آٹوگراف جمع کیے گۓ ہیں۔ ادیبوں میں رابندر ناتھ ٹیگور، امرتا پریتم ، کیفی اعظمی، علی سردار جعفری جیسی شخصیات کے دستخطی نمونے پیش کیے گۓ ہیں۔ فنکاروں میں بمل رائے، سنڈی کرافرڈ ، مارلن مور، صوفیہ لارین، لاوریل اور ہارڈی جیسے عظیم فنکاروں کے آٹو گراف ان کی تصاویر کے ساتھ پیش کیے گۓ ہیں جبکہ کھلاڑیوں میں سر ڈان براڈمین، مائک ٹائسن، سچن تندولکر جیسی شخصیات شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||