بھارت: 50 ہزار برقعہ پوشوں کا اجتماع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے شہر حیدر آباد دکن میں خواتین کا پہلا اجتماع منعقد ہوا جس میں پچاس ہزار برقعہ پوش خواتین نے شرکت کر کے اپنے حقوق پر بحث کی۔ اس اجتماع کا اہتمام جماعت اسلامی ہندی نے کیا جس کا مقصد خواتین کے مسائل اور اسلامی شریعت میں ان کے حقوق پر بحث کرنا تھا۔ اتوار کو اختتام پذیر ہونے والی اس کانفرنس میں جہیز اور بھارت میں بچیوں کے قبل از پیدائش کے قتل جیسے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور عورتوں کو ان معاشرتی برائیوں کے خلاف جدوجہد کرنے کی تلقین کی گئی۔ کانفرنس کی کنوینر ناصرہ خانم نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد مسلمان عورتوں میں ان کے اسلامی حقوق کے متعلق شعور اور آگہی بیدار کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس کا دوسرا مقصد دیگر مذاہب میں دہشت گردی کے پراپیگنڈے کی وجہ سے اسلام کے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیاں دور کرنا تھا۔ اس دو روزہ کانفرنس کے دوران عورتوں کے بہت سے مسائل پر بحث کی گئی جن میں تعلیم، صحت، جہیز، جنسی طور پر ہراساں کیے جانے اور قبل از پیدائش قتل جیسے مسائل شامل تھے۔ اس شہر میں یہ برقعہ پوش خواتین کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔ مقررین نے جہیز مانگنے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لڑکیوں پر زور دیا کہ وہ جہیز کا مطالبہ کرنے والوں کے رشتوں سے انکار کر دیں کیونکہ یہ ایک غیر اسلامی رسم ہے۔ ایک مقرر نے کہا کہ لڑکیوں کو اس رسم کے خلاف جدوجہد کے ضمن میں جہیز دینے کی بجائے کم آمدنی والے شخص کے ساتھ شادی کرنے کو ترجیح دینی چاہیے۔ مغرب اور اسلام میں عورت کی آزادی کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے اسلامی یونیورسٹی ملائیشیا کی پروفیسر زینت کوثر نے کہا کہ اسلام میں عورتوں کو دیے گئے حقوق خدا کے دیے گئے حقوق ہیں جبکہ مغرب کی طرف سے دیے گئے حقوق انسانی تجربات پر مبنی ہیں جو غلطی سے پاک نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب تو ہم جنس پرستی کو بھی فروغ دے رہا ہے اور اسے انسانی حقوق کا معاملہ سمجھتا ہے جبکہ یہ ایک انسانی غلط کاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خیال بالکل غلط ہے کہ پردہ یا برقعہ عورتوں کی آزادی یا فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ ہے۔ کانفرنس میں منظور کی گئی قرارداد میں پیغمبر رسول کے بارے میں شائع کیے گئے کارٹونوں کی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ ان واقعات کو رونما ہونے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی قانون بنایا جائے۔ کانفرنس میں ایران کے خلاف ووٹ دینے پر بھارت کی حکومت پر بھی تنقید کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ حکومت بڑی طاقتوں کے دباؤ میں آ کر فیصلے کرنے کی بجائے ایک آزاد خارجہ پالیسی اپنائے۔ ایڈز کے مسئلے کے حوالے سے کانفرنس نے مطالبہ کیا کہ جسم فروشی اور عورتوں کی خرید و فروخت پر پابندی لگائی جائے اور گمراہ کن ٹیلیویژن پروگراموں اور فلموں کو سینسر کیا جائے۔ |
اسی بارے میں عورتوں کو میچ دیکھنے کی اجازت19 January, 2006 | آس پاس خواتین کا حملہ، 36 اہلکار ہلاک06 December, 2005 | آس پاس سعودی عرب میں خواتین امیدوار29 November, 2005 | آس پاس ہر 18 سیکنڈ میں ایک خاتون پرتشدد25 November, 2005 | آس پاس ’حمل کے دوران بھی گھریلو تشدد‘24 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||