سعودی عرب میں خواتین امیدوار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب میں پہلی مرتبہ خواتین نے بطور ووٹرز اور بطور امیدوار انتخابات میں حصہ لیا ہے۔ سعودی عرب کے شہر جدہ میں چیمبر آف کامرس کے بورڈ کی بارہ نشستوں پر سترہ عورتوں اور چوون مرد امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے۔ ان نشستوں پر چار روز تک ووٹنگ جاری رہے گی۔ خواتین امیدواروں کے لیے ہفتے اور اتوار کے دن ووٹنگ ہوئی جبکہ مرد امیدواروں کے لیے ووٹنگ پیر کو ہوئی اور منگل تک جاری رہے گی۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ آزادی پسندوں کا کہنا ہے کہ خواتین کا اس طرح امیدوار بننا اور ووٹنگ کے لیے آنا ترقی کی ایک علامت ہے۔ راجر ہارڈی جو مشرقِ وسطیٰ کے امور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار ہیں کہتے ہیں اس انتخاب کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ سعودی عرب ایک قدامت پسند ملک تصور کیا جاتا ہے جہاں خواتین کی زندگیاں کئی لحاظ سے بہت محدود ہیں اور ان پر پابندیاں ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ خواتین امیدواروں کے لیے ووٹنگ کے لیے آنے والوں کی تعداد کم تھی لیکن خواتین امیدواروں کی حمایتی اس سے زیادہ متاثر نہیں ہیں۔ ان کو یہ بھی امید ہے کہ کچھ مرد ووٹر بھی ان کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ سعودی بادشاہت میں ووٹنگ ایک نئی چیز ہے اور کئی سعودی افراد کی نگاہ میں جو اصلاحات کے حامی ہیں، ترقی کی رفتار کافی سست رہی ہے۔ شاہ عبداللہ نے سعودی معاشرے میں خواتین کی ترقی کو دو ہزار پانچ سے دو ہزار نو کے ترقیاتی منصوبے میں ترجیح مقرر کیا ہے۔ لیکن حکام کا کہنا ہے کہ یہ ترقی اسلام کے اصولوں سے متصادم نہیں بلکہ ہم آہنگ ہونی چاہیے۔ | اسی بارے میں ’عرب ممالک جمہوریت بڑھائیں‘21 June, 2005 | صفحۂ اول سعودی بادشاہ کے لیے بڑا چیلنج06 August, 2005 | آس پاس سعودی عرب کی ’سزا‘ میں تاخیر01 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||