سعودی بادشاہ کے لیے بڑا چیلنج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’چار سال پہلے میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں میں شاہ فہد کی بادشاہت کی بیسویں سالگرہ کی تقریب میں موجود تھا‘۔ اس تقریب میں میں بن بلائے گیا تھا۔ میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر کے قافلے کے ساتھ سعودی عرب پہنچا تھا اور پھر رپورٹنگ کے لیے وہیں رُک گیا۔ سعودیوں کے لیے وہ عجیب وقت تھا۔گیارہ ستمبر کے حملوں کو صرف ایک ماہ ہوا تھا اور ان کو یہ قبول کرنا مشکل لگ رہا تھا کہ گیارہ ستمبر کے انیس میں سے پندرہ خودکش حملہ آوروں کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ سعودی اس تلخ حقیقت کو تسلیم نہیں کرنا چاہتے تھے اور بہت سے لوگوں نے مجھے بتایا کہ یہ سب عربوں کو بدنام کرنے لے لیے ایک سازش تھی۔ ملک کے وزیر داخلہ شہزادہ نائف نے یہ تک کہا کہ یہ ایک ’تیسری طاقت‘ کا کام تھا، جس سے ان کا اشارہ اسرائیل کی طرف تھا۔ یہ تھا وہ سیاسی اور سماجی ماحول جس میں شاہ فہد کے بادشاہت کی بیسویں سالگرہ منائی گئی۔ ریاض کے ایک روایتی ماحول میں اس تقریب میں خصوص مہمانوں کو اونٹ سواروں کے کارنامے دیکھنے کو ملے۔ جنوب سے آئے ہوئے قبائلی
روایتی رقص اور تلوار بازی کی نمائش دیکھنے کو ملی۔ ملازم مہمانوں کو چھوٹی پیالیوں میں تازہ الائچی والی عربی کافی ڈال کر دے رہے تھے۔ یہ ان عربوں کے روایتی صحرائی تہذیب کی ایسی مثال تھی کہ مجھے لگا کہ پچھلے اسی برس میں کچھ نہیں بدلا اور یہ وہی ماحول ہے جس میں ابن سعود نے اس سر زمین کے مختلف فریقوں کو متحد کر کے مملکت کی بنیاد ڈالی تھی۔ آج کل کی دنیا میں سعودی عرب وہ واحد ملک ہے جس کا نام اس کے بانی خاندان پر رکھا گیا ہو۔ اس کی حکومت اب بھی اسی خاندان کے افراد چلاتے ہیں۔ بادشاہ، وزیر اعظم، وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کے عہدے اسی خاندان کے پاس ہیں اور ملک کے بیشتر اہم عہدے ابن سعود کے بیٹوں، پوتوں اور پڑ پوتوں کے پاس رہتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگار یہ سوال پوچھتے رہتے ہیں کہ آخر سعودی عرب اس طرح کب تک چل سکے گا؟ اکیسویں صدی میں اس قدامت پسند قبائلی نظام کا کس طرح گزارہ ہوگا؟ اس موضوع پر بہت سی کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ شاید یہ مملکت اس کے ناقدین کے توقعات سے کہیں زیادہ عرصہ قائم رہ سکے۔ کیوں؟ اول تو اس لیے کہ سعودی عرب کے پاس تیل کی آمدن ہے اور دوسرا یہ کہ اب تک شاہی خاندان دنیا کی نظر میں متحدہ ہے۔ اس کے اندر پیسے یا اقتدار پر جو بھی اختلافات ہوں وہ ان کو خاندان کے اندر ہی رکھ سکی ہے۔ توقع ہے کہ اب نئے بادشاہ عبداللہ ملک میں کچھ اصلاحات بھی متعارف کرائیں گے جو وہ بطور ولی عہد نہیں کر سکتے تھے۔ اور یہ اصلاحات انتہائی ضروری ہو گئی ہیں۔ شاہی خاندان کے کچھ افراد کے اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ وہ قومی خزانے پر بہت بڑا بوجھ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے ملازمتوں اور روزگار پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لیکن سعودی عرب میں حکمرانی جو بھی کرے اس ملک میں اہم مسئلہ اصلاح پسند قوتوں اور بنیاد پرستوں کے درمیان کشمکش کا ہے۔ یہ دونوں نظریاتی گروپ اس معاشرے میں موجود ہیں۔ اس کی ایک مثال میں نے ریاض میں ایک بڑے برطانوی ڈیپارٹمنٹ سٹور کے افتتاح کے موقع پر دیکھی۔ لند کے نائٹس برج علاقے کا معروف اور مہنگا ڈیپارٹمنٹ سٹور ’ہاروی نکلز‘ کی ایک شاخ ریاض میں کھولی گئی تو لوگوں نے اس میں بڑی دلچسپی لی۔ میں سٹور کے اندر ان لوگوں کی فلم بنانے لگا تو سعودی اخلاقی پولیس یعنی مجھنے روکنے آگئے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ ’سعودی عرب میں فلم بنانا منع ہے‘ اور مجھ سے میرا کیمرا مانگ لیا۔ ان دونوں کو میں نے کچھ دیر پہلے ایک دکان میں دکاندار کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ وہ فوراً وہاں بجنے والی موسیقی بند کر دے۔ دکاندار نے موسیقی بند کر دی لیکن جیسے ہی وہ آگے بڑھ گئے اس نے پھر سے موسیقی چلا دی۔ وہ مجھ سے کیمرا مانگ ہی رہے تھے کہ اس سٹور کا انچارج نوجوان شہزادہ وہاں سے گزرا، اس نے حالات کا اندازہ لگاتے ہوئے جلدی سے پولیس والوں کو وہاں سے جانے کو کہا۔ یہ واضح تھا کہ اس شہزادے کو یہ بات بالکل مناسب نہیں لگی کہ سٹور کے افتتاح پر وہ لوگوں کو پریشان کر رہے تھے۔ وہ چاہتا ہوگا کہ گاہک سٹور میں خریداری کریں نا کہ متووں کے ڈر سے خوفزدہ رہیں۔ اس واقع کو کئی سال گزر گئے ہیں۔ ہاروی نکلز اب تک ریاض میں ہے، اور پولیس والے اب بھی سعودی عرب میں ہیں۔ قدیم اور جدید کا یہ تصادم جاری ہے اور اسی کو سنبھالنا شاہ عبداللہ کا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||