شاہ فہد کو سپرد خاک کر دیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب کے شاہ فہد بن عبدالعزیز کوسعودی دارالحکومت ریاض میں دفنا دیا گیا ہے ان کا انتقال پیر یکم اگست کو ہوا تھا۔ ان کے جنازے میں سعودی شاہی خاندان اور دنیا بھر کے عالمی رہنماؤں نے شرکت کی۔ شاہ فہد کی نمازِ جنازہ ریاض کی مرکزی مسجد میں ادا کی گئی۔ ان کے جسدِ خاکی کو ایک ایمبولنس کے ذریعے مسجد تک لایا گیا۔ شاہ فہد کے کفن پر کتھئی رنگ کی عبا ڈالی گئی تھی۔ نمازِ جنازہ کے بعد انہیں ایک عوامی قبرستان میں ایک بے نشان قبر میں دفنا دیا گیا۔ جنازے میں شرکت کے لیے عرب رہنماؤں میں سب سے پہلے فلسطینی رہنما محمود عباس سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض پہنچے تھے۔ان کے علاوہ اردن کے بادشاہ اور مصر، لبنان، یمن، عراق اور الجزائر کے صدور ان رسومات میں شریک ہوئے۔ پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف ، فرانس کے صدر ژاک شیراک اور برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ چارلس نے بھی اس سلسلے میں سعودی عرب پہنچے۔ سعودی عرب کی مملکت میں ان کے جنازے کے موقع پر عام تعطیل نہیں تھی اور تجارتی مراکز اور سرکاری دفاتر نے حسب معمول کام جاری رکھا۔ سعودی پرچم کو بھی سر نگوں نہیں کیا گیا کیونکہ اس پر کلمہ اسلام لکھا ہوا ہے۔ شاہ فہد کے انتقال کے بعد دنیا بھر کے ممالک سے تعزیتی پیغامات بھیجے گئے ہیں۔ ولی عہد شہزادہ عبداللہ ملک کے نئے بادشاہ بن گئے ہیں اور وہ بدھ کو ایک سرکاری تقریب میں باقاعدہ شاہی منصب سنبھالیں گے۔ شاہ فہد 1982 میں سعودی عرب کے بادشاہ بنے تھے۔ شاہ فہد نے دس سال پہلے دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کے بعد خود کو روزمرہ کے حکومتی معاملات سے علیحدہ کر لیا تھا اور اختیارات اپنے سوتیلے بھائی ولی عہد شہزادہ عبداللہ کو منتقل کر دیے تھے۔ شاہ فہد 1923 میں پیدا ہوئے اور 1975 میں ولی عہد بننے سے پہلے سعودی عرب کے وزیر تعلیم رہے۔ شاہ فہد 1982 میں اپنے بھائی شاہ خالد کی وفات کے بعد سعودی عرب کے بادشاہ بنے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||