شاہ فہد: سوانح حیات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شاہ فہد کے عہد میں سعودی عرب کے برطانیہ اور امریکہ سے قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ داخلی طور پر انہیں تیل سے آمدنی میں کمی اور معاشرے میں بڑھتے ہوئے انتشار کا سامنا رہا۔ شاہ فہد سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز کے سات بیٹوں میں سے ایک تھے۔ وہ انیس سو بیاسی میں تخت نشین ہوئے۔
نوجوانی میں ان کی ایک آزاد نوجوان کی شہرت تھی جس پر شراب نوشی، عورتوں کے دلدادہ ہونے اور جوا کھیلنے کے الزامات لگتے رہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار مانٹی کارلو میں جوا کھیلتے ہوئے انہوں نے ایک رات میں ساٹھ لاکھ ڈالر ہارے۔ انیس سو پچاس کی دہائی میں وہ حکومت کا حصہ بنے۔ شاہ بننے تک انہیں امور ریاست میں کافی تجربہ ہو چکا تھا۔ وہ وزیر تعلیم بھی رہے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے خواتین میں خواندگی کے اضافے کے لیے اقدامات کیے۔ شاہ فہد داخلی سلامتی کے معاملات کو بخوبی سمجھتے تھے اور انہیں معلوم تھا کہ بادشاہت کو اندرونی خطرات سے کس طرح بچانا ہے۔ شاہ فہد بحیثیت سفارتکار بھی اچھی شہرت رکھتے تھے اور انہیں شاہی خاندان کے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کی اہمیت کا بھی احساس تھا۔ خوشحالی کا دور اس زمانے میں مذاق کیا جاتا تھا کہ سعودی عرب میں لوگ کیڈلک گاڑی کا ایش ٹرے بھر جائے تو گاڑی بدل لیتے تھے۔
دولت کی یہ فراوانی زیادہ دیر تک نہیں چل سکی۔ انیس سو اسی کی دہائی کے اوائل میں جب شاہ فہد نے اقتدار سنبھالا تو تیل کے محصولات گرنا شروع ہو چکے تھے۔ سعودی عرب ایک فلاحی مملکت تھی جہاں کہا جاتا تھا کہ ریاست گود سے قبر تک اپنے شہریوں کا خیال رکھتی ہے۔ بدلتے حالات کی وجہ سے شاہ فہد کو مجبوراً ریاست کے اخراجات کم کرنے پڑے۔ ان کے اقتدار کو بیرونی عوامل کا بھی سامنا رہا۔ داخلی اور خارجی خطرات انیس سو چھپیاسی میں انہوں نے اپنے لیے خادم حرمین شریفین کا لقب اپنایا۔ انیس سو نوے میں عراق نے کویت میں اپنی فوجیں داخل کر دیں۔ شاہ فہد نے اپنے تحفظ کے لیے مغربی ممالک کی افواج کو اپنی سر زمین پر آنے کی اجازت دے دی۔ انہوں نے سعودی عرب کے عوام سے کہا تھا کہ غیر ملکی افواج سعودی عرب کی فوج کے ساتھ مل کر جنگی مشقیں کر رہی ہیں اور ان کا ملک میں قیام عارضی ہے۔ لیکن جنگ ختم ہونے کے بعد بھی امریکی فوج سعودی عرب میں موجود رہی۔ انیس سو چھیانوے میں سعودی عرب میں امریکی فوج کے ایک دفتر میں بم دھماکے میں انیس افراد مارے گئے۔ یہ بظاہر عوام کی ناراضگی کا پہلا اظہار تھا۔ بہت سے سعودیوں اور دوسرے ممالک میں رہنے والے مسلمانوں اسلام کی جائے پیدائش پر امریکی فوج کی موجودگی سے ناخوش تھے۔ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں نے اس تاثر کو مضبوط کیا۔ اسامہ بن لادن نے اکثر سعودی عرب سے غیر مسلموں کا نکالنے کی بات کی تھی۔ وقفے وقفے سے شاہی خاندان کی مخالف عوامی تحریکیں سر اٹھاتی رہیں۔ دریں اثنا خلیج جنگ کی وجہ سے ریاست کے اخراجات بہت بڑھ چکے تھے اور شہریوں کے لیے بہت سی مراعات ختم کرنی پڑیں۔ شاہ فہد کی صحت اس اقتصادی، سیاسی اور فوجی بحران سے نمٹنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔ جانشین انہوں نے اپنے سوتیلے بھائی شہزادہ عبداللہ کو اپنا جانشین مقرر کر دیا۔ شہزادہ عبداللہ نیشنل گارڈ کے سربراہ ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شاہ فہد کے مقابلے میں کم امریکہ نواز ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||