BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 November, 2003, 07:33 GMT 12:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دہشت گردی کچل دیں گے، شاہ فہد
شاہ فہد
شاہ فہد طویل عرصے سے علیل ہونے کے باوجود ملک کے حکمراں ہیں۔

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فہد نے کہا ہے کہ شدت پسندوں سے نمٹنے کے لئے آہنی ہاتھ استعمال کیا جائے گا۔

سنیچر کو دارالحکومت ریاض میں غیر ملکی عرب کارکنوں کے ایک رہائشی احاطے میں ہونے والے خودکش بم حملوں میں کم از کم سترہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

شاہ فہد کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنا آیا ہے جب امریکہ نے ایک بار پھر مسلم شدت پسندوں کے خلاف سعودی حکومت کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

لیکن عین اسی دوران سعودی حکومت نے یہ اشارے بھی دیئے ہیں کہ حکومت دہشت گردوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کے مطابق شاہ فہد نے کہا کہ جو بھی ملک کی سلامتی اور استحکام یا شہریوں اور مکینوں کی حفاظت کو جس سے بھی خطرہ ہوگا حکومت اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق شاہ فہد نے زور دیا کہ وہ دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے اور مجرمانہ اور بزدلانہ ہتھکنڈوں سے پوری قوت سے نمٹا جائے گا۔

شاہ فہد کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب دارالحکومت میں حفاظتی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں۔

دارالحکومت میں مغربی ممالک کے سفارتخانوں اور رہائشی احاطوں میں بھی ایسے حملوں سے نمٹنے کے لیے حفاظتی انتظامات سخت کیئے جارہے ہیں۔

امریکی سفارتخانہ بھی اب تک بند ہے اور سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ عام لوگوں کے لیے سفارتخانہ بدھ تک بند رہے۔

گزشتہ مئی میں ریاض میں ہونے والے خودکش بم دھماکوں کے بعد جن میں پینتیس افراد ہلاک ہوئے تھے، یہ دہشت گردی کی سب سے بڑی واردات تھی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد