BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 June, 2004, 15:45 GMT 20:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جبہ نہیں پہن سکتی‘
News image
برطانیہ میں سکول کی ایک پندرہ سالہ طالبہ ہائی کورٹ میں اپنے جبہ پہننے کا مقدمہ ہار گئی ہیں۔ ستمبر 2002 سے شبینہ بیگم کو برطانیہ کے شہر لیوٹن میں جبہ پہننے کی وجہ سے سکول سے معطل کردیا گیا تھا۔

شبینہ کے مطابق یہ ان کے مذہبی اور تعلیمی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ مگر ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ سکول کی یونیفارم پالیسی بالکل صحیح ہے کیونکہ اس کا مقصد سبھی طالب علموں کو ایک کثیرالثقافتی ماحول فراہم کرنا ہے۔

عدالت کے باہر سکول کے وکیل اقبال جاوید نے بتایا کہ سکول یونیفارم کیسا ہو یہ فیصلہ کافی لوگوں کے ساتھ صلح مشورے کے بعد کیا گیا تھا اور اب ان کی توجہ شبینہ کو اسکول میں واپس داخل کرنے پر ہے۔

’یونیفارم کو سبھی طالب علموں کی مذہبی اور ثقافتی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حال ہی میں علاقے کی مسجد کی کونسل نے بھی اسے مسلمان طالب علموں کے لۓ مناسب قرار دیا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ اسکول اور کونسل دونوں ہی کامیاب ہوئے ہیں۔‘

’اب ہم شبینہ کو اسکول کے تمام پہلوؤں میں دوبارہ شامل کرنے کی طرف توجہ دینا چاہتے ہیں تاکہ ان کی پڑھائی میں کوئی اور خلل نہ پڑے۔‘

 میرے خیال میں شلوار قمیض مسلمان (اور دیگر مزاہب کی) لڑکیوں کے لئے مناسب متبادل لباس ہے۔
جسٹس بینیٹ

مگر شبینہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے سے نہایت ناخوش ہیں اور شبینہ ڈنبیہ اسکول واپس نہ جانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مقامی تعلیمی ادارے کے ساتھ منگل کو ان کی بات چیت شروع ہونے کا امکان ہے۔

شبینہ کی درخواست خارج کرتے ہوئے جسٹس بینیٹ نے کہا کہ اسکول یونیفارم کی پالیسی صحیح تھی اور اس کا مقصد اسکول میں تمام مذاہب اور تہذیبوں کے طالب علموں کے لئے سازگار ماحول بنانا تھا۔

’شبینہ پر جو پابندیاں لگائی گئی تھیں وہ اسی مقصد کو پورا کرنے کی کوشش کا حصہ تھیں۔ اس میں شبینہ کے حقوق کی کوئی خلاف ورزی نہیں تھی۔ ساری باتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے، میرے خیال میں ان حالات میں یہ کہنا کہ شبینہ کو اس کے تعلیمی حقوق سے محروم کیا گیا ہے، غلط ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ اسکولوں کو جو ہدایت دی جاتی ہے اس کے مطابق انہیں طالب علموں کو صرف یونیفارم کی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر اسکول سے نکالے جانے کی صلاح نہیں دی جاتی۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر کوئی طالب علم مناسب یونیفارم پہننے سے انکار کر دے تو اسکول ایسا نہیں کر سکتے۔

ڈنبیہ اسکول کے ایک ہزار طالب علموں میں سے لگ بھگ 80 فیصد مسلمان ہیں۔

شبینہ کے وکیل ایوان سپنسر نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ سکول کا شبینہ کے منتخب اسلامی لباس پر پابندی لگانا اصل میں اسے جان بوجھ کر اسکول سے نکالنے کے برابر ہے اور برطانونی قانون اور یورپی انسانی حقوق کنونشن کے خلاف ہے۔

لیکن سکول کی طرف سے سامن برکس نے کہا کہ سکول چھوڑنے کا فیصلہ شبینہ کا اپنا تھا اور اس میں سکول کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ مسلمان لڑکیاں یونیفارم کی جگہ شلوار قمیض پہن کر اسکول آسکتی ہیں مگر جبہ کی وجہ سے خود شبینہ اور دوسرے طالب علموں کی حفاظت کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

شروع میں شبینہ شلوار قمیض پہن کر اسکول جایا کرتی تھی مگر مذہب میں اس کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی وجہ سے اس نے جبہ پہننے کا فیصلہ کیا۔ جبہ ایک لمبے چوغے یا گاؤن کی مانند ہے جس کے ساتھ وہ سر پر سکارف بھی پہنتی ہیں۔

جب شبینہ جبہ پہن کر پہلے دن سکول پہنچی تو اسے کپڑے بدل کر آنے کے لئے کہا گیا۔

جج کا کہنا تھا کہ اگرچہ کچھ مسلمانوں کے خیال میں صرف جبہ ہی عورتوں کے لۓ مناسب لباس ہے، کئی مسلمان شلوار قمیض کو بھی مناسب سمجھتے ہیں۔

’میرے خیال میں شلوار قمیض مسلمان (اور دیگر مزاہب کی) لڑکیوں کے لئے مناسب متبادل لباس ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد