BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 November, 2005, 04:59 GMT 09:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہر 18 سیکنڈ میں ایک خاتون پرتشدد
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا ایک اشتہار
ایمنسٹی انٹرنیشنل گھریلو تشدد کے خلاف مہم چلا رہی ہے
گھریلو تشدد کے بارے میں اقوام متحدہ کے عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او کے پہلے عالمی مطالعاتی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر چھ میں سے ایک خاتون کو اپنے خاوند یا اپنے مرد ساتھی کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ہے اور ہر اٹھارہ سیکنڈ میں ایک خاتون تشدد کا شکار ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ مسئلہ دنیا بھر کے معاشروں میں موجود ہے اور اسکی جڑیں نہایت گہری ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا گھریلو تشدد کے بارے میں یہ مطالعہ جاپان، برازیل، ایتھوپیا، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ سمیت دس ممالک میں چوبیس ہزار خواتین کے سروے پر مبنی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے تحقیق کاروں کو دیے گئے بیانات میں بنگلہ دیش کی ایک خاتون کہتی ہیں کہ ایک دن جب انہوں نے اپنے خاوند سے گھر دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ میں بازارِ حسن آ رہا ہوں۔ ’جب میں نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا تو ایک دم اس نے میری دائیں آنکھ پر گھونسا مارا۔ مجھے بالوں سے پکڑ کر ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں گھسیٹتا رہا اور لاتیں اور گھونسے مارتا رہا۔ وہ اس پر بھی مطمئن نہیں ہوا اور اپنی بیلٹ نکال کر مجھے مارنے لگا۔ بیلٹ کی مار صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے یہ مار کھائی ہو‘۔

بنگلہ دیش کی ایک دوسری خاتون نے بتایا کہ اس کے اندامِ نہانی میں رسولی ہے۔ ’اس کے باوجود میرا شوہر مجھ سے زبردستی ملاپ کرتا ہے۔ جب یہ ہوتا ہے تو مجھے بہت درد ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ خون بھی رسنا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ مجھے آپریشن بھی نہیں کروانے دیتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میرا آپریشن ہو گیا تو وہ مجھ سے ملاپ نہیں کر پائے گا‘۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ گھریلو تشدد سامنے نہیں دکھائی دیتا لیکن خواتین کے صحت پر اس کا سب سے زیادہ اثر ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ دنیا کے ہر ممالک میں ہے۔

تشدد کی مکرو شکل
 میرے اندامِ نہانی میں رسولی ہے۔ اس کے باوجود میرا شوہر مجھ سے زبردستی ملاپ کرتا ہے۔ جب یہ ہوتا ہے تو مجھے بہت درد ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ خون بھی رسنا شروع ہو جاتا ہے۔ وہ مجھے آپریشن بھی نہیں کروانے دیتا کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میرا آپریشن ہو گیا تو وہ مجھ سے ملاپ نہیں کر پائے گا
ایک بنگلہ دیشی عورت

جاپان میں اس سروے میں شامل ہونے والی تیرہ فیصد خواتین نے گھریلو تشدد کا اعتراف کیا، جبکہ ایتھوپیا میں یہ تعداد بڑھ کر پچاس فیصد ہوگئی۔

اس سروے کے مطابق آپ دنیا میں کہیں بھی رہ رہی ہوں لیکن اگر آپ خاتون ہیں اور آپ پر حملہ ہوا ہو تو عام طور پر یہ آپ کے پارٹنر نے کیا ہوگا۔ اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ اس مطالعے سے یہ مسئلہ دنیا کے سامنے آئےگا تاکہ اس کا حل نکل سکے۔

اس سروے کی کوآرڈینیٹر کلوڈیا گارسیا مورینو کہتی ہیں: ’ہم بات کررہے ہیں گلا گھونٹے کی، مُکُے مارنے کی، گھسیٹنے کی، جلانے کی۔‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ سروے میں شامل پچاس فیصد خواتین نے ’جسمانی چوٹ‘ کی اطلاع دی۔

کئی خواتین نے بتایا کہ حمل کے دوران ان کے پارٹنر نے تشدد کیا۔ اقوام متحدہ کے اس مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ گھریلو تشدد کا جسمانی چوٹ سے کہیں زیادہ برا اثر پڑتا ہے۔

اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ گھریلو تشدد کے واقعات سامنے نہیں آتے جس سے یہ مسئلہ خواتین کی زندگی میں مزید برا ثابت ہوتا ہے۔ اس مطالعے میں شامل پچاس فیصد خواتین نے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات کے بارے میں انہوں نے کسی سے بات نہیں کی۔

اقوام متحدہ کے اس مطالعے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بعض معاشروں میں گھریلو تشدد قابل قبول فعل ہے۔ کچھ خواتین نے خود یہ بات کہی کہ انہیں مارنے پیٹنے کا ان کے شوہروں کا فیصلہ صحیح تھا۔

پاکستان خواتین کی ایک غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کی ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر نگار احمد کہتی ہیں کہ پاکستان میں غیر موثر قوانین خواتین کے خلاف تشدد کی بڑی وجہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اصل میں عورت کا پاکستان میں جو مقام ہے اور جو معاشی حیثیت ہے یعنی کہ وہ مرد پر انحصار کرتی ہے اور معاشرتی طور پر علیحدہ ہونے سے جھجکتی ہے اور بچوں اور گھر کو بچانے کی وجہ سے ہر بات سہہ لیتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی مرد دلیری سے تشدد کرتا ہے اسے یقین ہوتا ہے کہ اسے اس طرح کے قوانین سے چھوٹ مل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قوانین ہیں تو سہی لیکن یہ ناکافی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک جرم کرنے والا مطمئن رہے گا کہ وہ یہ کر کے بچ جائے گا اس طرح ہی ہوتا رہے گا۔

ادھر بھارت میں خواتین کے قومی کمیشن کی چیئرپرسن گریجا ویاض نے کہا ہے کہ قانون سازی صرف اسی وقت رویوں میں تبدیلی لا سکتی ہے جب اس کے بارے میں آگاہی پیدا کی جائے۔ عورتوں پر تشدد کے بارے میں کلکتے میں ایک رپورٹ کے مطابق کوئی ستر فیصد شادی شدہ عورتیں مار پیٹ کا نشانہ بنتی ہیں۔

66گھریلو تشدد پر بل
پنجاب اسمبلی میں قانون سازی پر خواتین متحد
66شاعرہ کا قتل
شوہر کے تشدد سےافغان شاعرہ کی موت
66بیوی پر شدید تشدد
ایک شوہر نے مبینہ طور پر بیوی کی ناک کاٹ دی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد