’حمل کے دوران بھی گھریلو تشدد‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گھریلو تشدد کے بارے میں اقوام متحدہ کے ایک نئے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین کی زندگی میں تشدد کی یہ سب سے عام قسم ہے، یہاں تک کہ ریپ سے بھی زیادہ۔ صحت عامہ سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا گھریلو تشدد کے بارے میں یہ مطالعہ جاپان، برازیل، ایتھوپیا اور نیوزی لینڈ سمیت دس ممالک میں چوبیس ہزار خواتین کے سروے پر مبنی ہے۔ مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ گھریلو تشدد سامنے نہیں دکھائی دیتا لیکن خواتین کے صحت پر اس کا سب سے زیادہ اثر ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ دنیا کے ہر ممالک میں ہے۔ جاپان میں اس سروے میں شامل ہونے والی تیرہ فیصد خواتین نے گھریلو تشدد کا اعتراف کیا، جبکہ ایتھوپیا میں یہ تعداد بڑھ کر پچاس فیصد ہوگئی۔ اس سروے کے مطابق آپ دنیا میں کہیں بھی رہ رہی ہوں لیکن اگر آپ خاتون ہیں اور آپ پر حملہ ہوا ہو تو عام طور پر یہ آپ کے پارٹنر نے کیا ہوگا۔ اقوام متحدہ کا خیال ہے کہ اس مطالعے سے یہ مسئلہ دنیا کے سامنے آئےگا تاکہ اس کا حل نکل سکے۔ اس سروے کی کوآرڈینیٹر کلوڈیا گارسیا مورینو کہتی ہیں: ’ہم بات کررہے ہیں گلا گھونٹے کی، مُکُے مارنے کی، گھسیٹنے کی، جلانے کی۔‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ سروے میں شامل پچاس فیصد خواتین نے ’جسمانی چوٹ‘ کی اطلاع دی۔ کئی خواتین نے بتایا کہ حمل کے دوران ان کے پارٹنر نے تشدد کیا۔ اقوام متحدہ کے اس مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ گھریلو تشدد کا جسمانی چوٹ سے کہیں زیادہ برا اثر پڑتا ہے۔ اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ گھریلو تشدد کے واقعات سامنے نہیں آتے جس سے یہ مسئلہ خواتین کی زندگی میں مزید برا ثابت ہوتا ہے۔ اس مطالعے میں شامل پچاس فیصد خواتین نے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات کے بارے میں انہوں نے کسی سے بات نہیں کی۔ اقوام متحدہ کے اس مطالعے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بعض معاشروں میں گھریلو تشدد قابل قبول فعل ہے۔ کچھ خواتین نے خود یہ بات کہی کہ انہیں مارنے پیٹنے کا ان کے شوہروں کا فیصلہ صحیح تھا۔ |
اسی بارے میں خواتین ارا کین اسمبلی کا اتحاد22 October, 2003 | صفحۂ اول گھریلو تشدد: بلا امتیاز 31.05.2003 | صفحۂ اول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||