علیگڑھ: حکومت بھی عدالت میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو بحال کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے الہ آباد ہائی کورٹ میں ایک خصوصی درخواست دی ہے۔ حکومت نے عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو غیر قانونی بتایا گیا تھا۔ انسانی وسائل اور وزارت تعلیم نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ کورٹ نے مقننہ کے دائرۂ اختیار میں بے جا مداخلت کی ہے۔ دلیل دی گئی ہے کہ خود یونیورسٹی نے کبھی بھی اقلیتی کردار کا مطالبہ نہیں کیا ہے بلکہ مسلم برادری نے اس کا مطالبہ کیا تھا اور آئینی طور انہیں اس کا حق حاصل ہے۔ حکومت نے اپنی درخواست میں یہ بھی کہا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی ادارے کا درجہ دینے کے لیے قانون میں ترمیم کی گئی تھی تاکہ اسے قانونی درجہ ملے لیکن عدالت نےاسے سراہنے کے بجائے غلط قرار دیدیا۔ مرکزی حکومت نے پچیس فروری کو ایک نوٹیفیکیشن جاری کر کے اے ایم یو میں مسلمانوں کے لیے پچاس فیصد نشستیں مخصوص کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے تحت مسلم یونیورسٹی میں پیشہ وارانہ کورسز میں مسلمانوں کے لیے پچاس فیصد سیٹیں مخصوص کردی گئی تھیں۔ مرکزی حکومت کے اس نوٹیفیکیشن کے خلاف ملائے شکلا نامی ایک طالب علم نےالہ آباد ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک درخواست دائر کی تھی جس کے نتیجے میں ہائی کورٹ کے ایک جج ارن ٹنڈن نے اپنے اہم فیصلے میں یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو غیر آئينی بتایا تھا اور اس لحاظ سے مسلمانوں کے لیے پچاس فیصد ریزرویشن کو بھی کالعدم قرار دیا تھا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے پہلے عدالت میں قانونی لڑائی لڑنے کا فیصلہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو حکومت سے کہا جائےگا کہ وہ اس کے لیے پارلیمنٹ میں ایک خصوصی بل لائے۔ | اسی بارے میں علیگڑھ: مسلمانوں کا کوٹہ نہیں05 October, 2005 | انڈیا بھارت: بچیوں کی تعلیم مفت 22 September, 2005 | انڈیا مدرسے: مالی معاملات پرمسودہ 01 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||