مدرسے: مالی معاملات پرمسودہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست مہاراشٹر کی حکومت ایک مسودہ تیار کررہی ہے جس کے تحت یہ طے کیا جائے گا کہ ریاست کے مدارس کو کتنا اور کس طرح مالی تعاون دیا جائے۔ ریاست کے وزیر داخلہ اور نائب وزیر اعلی آر آر پاٹل نے اعلان کیا کہ مہاراشٹر میں بھی مدرسہ بورڈ بنایا جائے گا اور حکومت مدارس کو ایک لاکھ روپے کا فنڈ مہیا کرے گی لیکن اس کے بدلے مدرسہ کو اپنے یہاں ہندی ،انگریزی ، مراٹھی کی بھی تعلیم دینی ہو گی اور بورڈ فنڈ کا پورا حساب رکھے گا ۔ پاٹل کے اس بیان پر علماء کونسل ، عالم دین اور مدارس کے مہتم دو حصوں میں منقسم ہو گئے ہیں ۔ایک بڑا طبقہ اس کی سخت مخالفت کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح حکومت ان کی دینی تعلیم میں روڑے اٹکا رہی ہے اور مدارس پر قبضہ کرنے کی ایک سازش ہے ۔ رضا جامع مسجد پھول گلی کے پیش امام مولانا سید سراج اظہر نے بی بی سی سے اپنے خدشات کا اظہار کیا کہ یہ حکومت کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدرسوں میں دینی تعلیم دی جاتی ہے ۔فقہ ، شریعت ، عربی زبان اور قرآن شریف پڑھایا جاتا ہے اب حکومت اگر اپنا نصاب حاوی کر دے گی تو بچے دینی تعلیم سے دور ہو جائیں گے اور ان کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ مولانا کے مطابق ریاست میں ہر برس کالجوں سے لاکھوں طلباء ڈگریاں حاصل کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کو سرکاری ملازمت نہیں ملتی اگر واقعی حکومت مسلمانوں کی مدد کرنا چاہتی ہے تو پہلے ان نوجوانوں کو ملازمت دے جو سرکاری اداروں سے فارغ ہیں۔ مولانا سراج نے دعوی کیا کہ ان کے مدرسہ کے فارغ التحصیل طلباء نے عالم فاضل کے سند لینے کے بعد میسور اور گلبرگہ یونیورسٹی سے ڈگریاں حاصل کیں اور کئی کالجوں میں لیکچرار ہیں ۔ رضا اکیڈمی کے صدر سعید نوری کی نظر میں مدارس کو اگر مدد ملتی ہے تو اس میں برائی نہیں ہے۔
ان کے مطابق ہندؤوں کے وہ ادارے جہاں سنسکرت پڑھائی جاتی ہے وہاں حکومت مدد دیتی ہے اتر پردیش میں سنی مسلک کے دارالعلوم اشرفیہ (مبارکپور) بریلی میں دارالعلوم منظر اسلام اور بستی میں دارالعلوم فیض رسول ہیں جہاں حکومت کی گرانٹ لی جاتی ہے ۔ معروف صحافی خلیل زاہد حکومت کی اس امداد کو ’لولی پاپ‘ کہتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس سے بڑے اور سنگین مسائل ہیں۔حکومت نے ابھی تک سری کرشنا کمیشن کا نفاذ نہیں کیا ۔ بڑے وعدے کیے لیکن مسلمانوں کا پولیس فورس میں ملازمت کا تناسب نہیں بڑھایا ۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلم نوجوانوں کو جگہ نہیں دی جاتی ۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی لیڈر اور سابق پرنسپل سہیل لوکھنڈ والا حکومت کےاس اقدام سے خوش ہیں ان کا کہنا ہے کہ ملک کی چار ریاستوں اتر پردیش ، مدھیہ پردیش ، مغربی بنگال اور بہار میں مدارس بورڈ کے تحت چلتے ہیں اور مہاراشٹر میں ایک اندازے کے مطابق ساڑھے تین ہزار مدارس ہیں ۔مرکزی حکومت کی ایک اسکیم کے مطابق مدرسوں کو بورڈ کے ماتحت لے کر انہیں مالی تعاون دیا جائےگا۔ مہاراشٹر کے لیے پانچ لاکھ کا فنڈ ہے۔ کیا یہ فنڈ مدارس کے لیے پورا ہو سکے گا اس پر سہیل لوکھنڈ والا کا کہنا تھا کہ پہلے مدارس تیار تو ہوں اس کے بعد مسودہ کی تیاری میں ضرورت کا ذکر ہو گا تا کہ بجٹ میں اسے منظوری مل سکے ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||