بھارتی لڑکیاں ُحسن کی تلاش میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حسینہ عالم کے مقابلہ میں جب بھارت نے یکے بعد دیگرے تین برسوں تک یہ خطاب جیتا تو یہاں حسن کے معنی بدل گئے اور لڑکیوں میں ظاہری حسن اور خصوصی طور پر’سیکسی جسم‘ کی چاہ نے اپنی راہ بنا لی۔ اب صرف ماڈل اور فلمسٹار ہی نہیں متوسط طبقہ کی لڑکیاں بھی حسین نظر آنے کے لیے ’جِم‘ ( ورزش گاہ ) جاتی ہیں ، ڈائٹنگ کرتی ہیں اور پلاسٹک سرجری کے علاوہ سرجری کے ذریعہ جسم کے نشیب و فراز کو تبدیل کرنے سے نہیں ہچکچاتی ہیں۔ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعہ بدصورت عورت حسین بن سکتی ہے اور موٹی بھدی لڑکی نازک اندام حسینہ لیکن یہ سارا کمال دولت کا ہے۔ اگر آپ کی جیب بھاری ہے تو آپ کو حسین بننے کا حق ہے ورنہ نہیں ۔ ممبئی شہر میں اسی رجحان کے بعد سے ایسے کلینک اور ڈاکٹروں کی بھر مار ہو گئی ہے جو لاکھوں روپیہ لے کر لڑکیوں کو حسین بنانے کا دعوی کرتے ہیں ۔ان میں رنگ گورا کرنے ،ہونٹوں کو سیکسی بنانے ،کے علاوہ اپنی سینے کو بڑا بنانا اور کمر کے نچلے حصے کو چوڑا کرنا بھی شامل ہے ۔ کال سینٹر میں کام کرنے والی شاہینہ کے خیال میں خوبصورت دکھائی دینے میں کیا برائی ہے ؟ وہ خود ہر ماہ بیوٹی پارلر جاتی ہیں اور وہاں اپنی تنخواہ کا نصف سے زائد حصہ خرچ کر دیتی ہیں ۔اگر خدا نے انہیں حسین نہیں بنایا ہے تو کیا؟ وہ کوشش تو کر سکتی ہیں جس طرح ایک انسان اپنا باطن خوبصورت رکھنے کے لیے محنت کرتا ہے ۔ ریکھا نے حال ہی میں ایم بی اے کیا ہے۔ وہ بھی خود کو خوبصورت بنانے پر ہزاروں روپے خرچ کر چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مقابلہ کا زمانہ ہے اور اب کسی بھی دفتر میں آپ کو صرف آپ کی ڈگری اور قابلیت کی وجہ سے ملازمت نہیں ملتی ۔آپ کو ظاہری طور پر بھی حسین نظر آنا ہو گا۔ مصنوعی طریقہ سے چھاتیوں اور کمر کے نچلے حصہ کو بڑا کرنے کا علاج کافی مہنگا ہے۔اس پر ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک خرچ ہوتے ہیں۔ متوسط طبقہ کی لڑکیوں میں بھی اس علاج کا’ کریز‘ بڑھ گیا ہے اور کئی مائیں اس کے لیے خود اپنی لڑکیوں کو ڈاکٹر کے پا س لے جاتی ہیں ۔
کاسمیٹک اسکن لیزر تھیراپسٹ ڈاکٹر خلیل مقادم کا کہنا ہے کہ ان کے کلینک میں دو سال پہلے تک صرف فلم اسٹارز ، ماڈل اور بزنس کلاس کے لوگ آتے تھے لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ حسن کا نظریہ تبدیل ہو چکا ہے اور مائیں اپنی بیٹیوں کو لے کر ان کے پاس آتی ہیں تاکہ ظاہری طور پر انہیں حسین بنایا جا سکے تاکہ شادی کے رشتے جلدی آئیں ۔ سمیرہ خان اپنی دو بیٹیوں کے رشتوں کے لیے پریشان ہیں۔ ان کے مطابق لڑکے چاہے کالے بدصورت کیوں نہ ہوں انہیں لڑکیاں حسین چاہیئیں ۔ ڈاکٹر مقادم کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ سیاستداں بھی اب حسین نظر آنا پسند کرتے ہیں اور لاکھوں روپے اس پر خرچ کر رہے ہیں ۔دفاتر میں کام کرنے والی خواتین’ لنچ بریک‘ میں آتی ہیں اور جلد کو نکھارنے والا عمل کروا کر چلی جاتی ہیں ۔اس عمل کے لئے انہیں ہر ماہ آنا پڑتا ہے اور ایک بار میں پانچ چھ ہزار روپے اس پر خرچ ہوجاتے ہیں ۔ سیاہ رنگ کو بدلنے کے لیے ’میزو تھیراپی‘ کی جاتی ہے۔ اس طریقۃ علاج میں جلد میں انجکشن کے ذریعہ دوا داخل کی جاتی ہے ۔اس کے علاوہ چمڑی کو کھرچ کر نکال دیا جاتا ہے اور پھر ایک نومولود بچے کی طرح نئی چمڑی نکلتی ہے جس کی اگر صحیح ڈھنگ سے حفاظت کی جائے تو انسان پہلے سے زیادہ گورا ہو سکتا ہے۔ جنرل پریکٹیشنرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر سہاس پنگلے کے مطابق ممبئی شہر میں ایک اندازے کے مطابق بارہ ہزار رجسٹرڈ ڈاکٹرز ہیں لیکن اس سے زیادہ جعلی ڈاکٹر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ان پر نگاہ رکھنی چاہیے تاکہ حسین بننے کا خواب لے کر آنے والی لڑکیوں کے ساتھ کسی طرح کا دھوکا نہ ہو سکے ۔
ڈاکٹروں کے مطابق اس سارے علاج کے مضر اثرات بھی ہوتے ہیں۔ سینے اور کمر کے نچلے حصے کی سرجری سے کینسر کا خطرہ بھی رہتا ہے لیکن اس کے باوجود لڑکیاں یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار رہتی ہیں ۔ شیکھا اگروال کے لفظوں میں اگر کہا جائے تو ’زندگی ایک بار ہی ملتی ہے تو کیوں نہیں اسے بھر پور انداز میں جیا جائے اور اگر آپ کا ظاہر اچھا اور خوبصورت ہو گا تو دل بھی خوش رہے گا اور خود اعتمادی پیدا ہو گی‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||