تنوشری دتا دستبرار ہوگئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کی تنوشری دتا نے جو مِس انڈیا دو ہزار چار قرار پائی تھیں، میڈیا کے شدید دباؤ کے باعث اپنا جیتا ہوا اعزاز واپس کردیا ہے۔ انہوں نے اپنے دستخطوں کے ساتھ ایک حلفیہ بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ شادی شدہ نہیں ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے شہر میں ایک فلیٹ کرایے پر لینے کے لئے اپنے آپ کو شادی شدہ کہا تھا۔ خیال ہے کہ تنوشری دتا جو اب تک اخبار نویسوں کے سامنے آنے سے گریز کر رہی تھیں، کسی وقت پریس کانفرنس سے خطاب کریں گی۔ اس سے پہلے ہفتے کے روز ممبئی میں منعقد ہونے والے حسن کے مقابلے میں پہلی تینوں پوزیشنیں ممبئی کے حصہ میں آئیں۔ بائیس سالہ لکشمی پنڈت مِس انڈیا ورلڈ اور بیس سالہ سیالی بھگت مِس انڈیا ارتھ قرار دی گئیں۔ بھارت کے اخبار ’دی ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق ستاروں بھری اس رات میں انتیس حسیناؤں نے ’پونڈز فیمینا مِس انڈیا دو ہزار چار مقابلوں میں حصہ لیا۔
بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلوں میں بنگلور کی لڑکیاں چھائی رہیں تھی جبکہ اس بار ممبئی بازی لے گیا ہے۔
ایجنسی کے مطابق مِس انڈیا دو ہزار چار تنوشری دتا سٹیج اداکاری کرتی ہیں اور ملک کے اندر اور باہر ملک کئی مقابلوں میں کئی شو کر چکی ہیں۔ وہ پونا میں بی کام، سال دوم کی طالبہ ہیں۔ مقابلے کے ججوں میں اداکار مادھاون، سنجے دت، سیف علی، فردین خان، اداکارہ بپاشا باسو، گلوکار سونو نگم، ڈیزائنر ریتو بیری اور ہدایت کار فرح خان شامل تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||