جلوۂ حسن پر یہودی ناراض | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہودی آباد کار تنازعات کا مرکز رہے ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک فلسطینی علاقوں میں یہودیوں کی موجودگی کو ناجائز تصور کرتے ہیں اور اخبارات میں وزیراعظم ایریل شیرون کے اس منصوبے کا بھی بہت چرچا رہا ہے کہ جس کے تحت غزہ اور غرب اردن کے کچھ حصوں سے یہودیوں کو نکالنے کی بات کی جاتی رہی ہے۔ تاہم سنیچر کو غرب اردن میں ایک واقعہ کے باعث یہودی آبادکار سیخ پا ہو گئے۔ اس برانگیختگی کی وجہ ’مِس سماریا‘ نامی مقابلۂ حسن تھا۔ اس مقابلے کا مقصد ایریل اور ملحقہ علاقوں سے حسین ترین نوجوان لڑکی کا انتخاب تھا۔ مقابلے کے آخری مرحلے میں پیراکی کا لباس اور اونچی ایڑھی والے جوتے پہنے بیس نوجوان حسینائیں ایک دوسرے کے مدِمقابل آئیں اور ان میں سے کامیاب رہنے والی حسینہ کو تل ابیب کی ماڈلنگ ایجنسی کا کنٹریکٹ دیا جانا تھا۔ مقابلے کے منتظم اونر اوسٹر جو مقامی فوٹوگرافر بھی ہیں‘ مذہبی قدامت پسندوں کی مخالفت کے باوجود مقابلہ منعقد کرانے کی کوشش کرتے رہے تھے۔ مقابلے کی تشہیری مہم کے دوران استعمال کئے جانے والے پوسٹروں کو زیادہ دیر تک لوگوں کی نگاہوں کے سانے رہنےکا موقع نہیں مل سکا تھا کیونکہ انہیں مذہبی قدامت پسند یہودیوں نے غیر مہذب کہتے ہوئے پھاڑ ڈالا تھا۔
اونر اوسٹر نے بتایا کہ مذہبی عناصر نے ناخوشگوار ردِعمل کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ’ایک آدمی میری دکان میں آیا اور کہنے لگا کہ میں اسرائیلی لڑکیوں کی معصومیت اور پوترتا کا تحفظ نہیں کر رہا ہوں‘۔ ایریل، عرب اردن کے مقبوضہ علاقے میں ایک سیکولر آبادی ہے لیکن اس کے قریب چنگ قدامت پسند آبادیاں بھی واقع ہیں جن میں سے ایک نام ایمانوئل ہے۔ ایمانوئل کے لوگ مسلح اور مشکوک ہونے کے علاوہ ایریل میں خواتین کی تقریبات سے سخت نالاں بھی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||