بھارت: پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی مرکزی کابینہ نے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر دفاع پرنب مکھرجی نے کابینہ کی میٹنگ کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ پٹرول کی قیمتوں میں تین روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمتوں میں دو روپے فی لیٹر کا اضافہ کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لیکن قدرتی گیس اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل حکومت نے جون کے مہینے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس اضافے پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے نائب صدر مختار عباس نقوی نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ " گزشتہ ایک برس میں پٹرول کی قیمتوں میں تقریبا 11 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمتوں میں 10 روپے کے قریب اضافہ کیا جا چکا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا براہ راست اثر عام ضرورت کی اشیا پر پڑے گا اور اس سے مجموی طور پر تمام چیزيں مہنگی ہونگیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے میں بائيں بازو کی جماعتیں اعتراض کرتی رہی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اگر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تو روز مرہ کی چیزوں کی قیمتیوں میں بھی مزید اضافہ ہو جائے گا۔ فی الوقت بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکی ہے۔ تیل کی کمپنیاں سرکاری کنٹرول میں ہیں اور قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اب تک حکومت بڑے پیمانے پر سبسڈی دیتی رہی ہے۔ لیکن اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافے کے سبب یہ سبسڈی اب حکومت کے لئے بہت بڑا بوجھ بن چکی ہے۔ حکومت نے حزب اختلاف کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اس اضافے کے باوجود تیل کی کمپنیوں کو زبردست خسارے کا سامنا ہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو یہ کمپنیاں دیوالیہ ہو جائيں گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||