بھارت: پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی مرکزی کابینہ نے بائیں بازو کی مخالفت کے باوجود پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے- پٹرولیم کے وزیر منی شنکر آیر نے کابینہ کی اقتصادی امور کی کمیٹی کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ پٹرول کی قیمت میں ڈھائی روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر کے اضافے کی منظوری دی گئي ہے۔ تاہم رسوئی گیس اور کیروسین کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئي ہے۔ گزشتہ نومبر سے پٹرولیم کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گيا ہے جب کا بین الاقوامی قیمتوں ميں 20 فی صد سے زيادہ کا اضافہ ہو چکا ہے۔ ہندوستان اپنی ضروریات کا 70 فیصد پٹرول درآمد کرتا ہے ۔ مسٹر آیر نے بتایا کہ بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافے کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نا گزیر ہو گیا تھا ۔ اضافہ نہ کیے جانے کے سبب سرکاری ملکیت کے تیل صاف کرنے کے کارخانوں کو بھی زبردست مالی خسارے کا سامنا تھا۔ حکومت نے گزشتہ مہینوں میں قیمتوں میں اضافہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن حکومت کے اتحادی بائیں محاذ کی مخالفت کے سبب ان سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ کمیونسٹ جماعتوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے خاص طور پر ڈیزل مہنگا کئے جانے سے روز مرہ کی اشیاکی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب زیارہ کمیشن کے مطالبے پر زور دینے کے لئے پٹرول پمپ مالکان پورے ملک میں کل نصف رات سے چوبیس گھنٹے کے لئے ہڑتال پر ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||