BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 September, 2005, 12:11 GMT 17:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت: ہڑتال سے زندگی متاثر

ائر پورٹ
ائر ٹریفک کا شعبہ اس ہڑتال سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے
بھارت میں ائرپورٹ اتھارٹی آف انڈیا اور بینک ملازمین کی ملک گیر ہڑتال سے شعبہ شہری ہوابازی اور بینکوں کا کام کاج بری طرح متاثر ہوا ہے۔

اس ہڑتال کا سب سے زیادہ اثر ائر ٹریفک پر پڑا ہے جس کے سبب درجنوں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ بیمہ کمپنیوں اور بینکوں میں کام رکنے سے تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

ملک میں پہلی بار ائرپورٹ اتھارٹی آف انڈیا کے تقریباً بیس ہزار ملازم ہڑتال پرگئے ہیں۔ حکومت نے ممبئی اور دلی ائر پورٹ کی نجکاری کا فیصلہ کیا ہےاور یہ ہڑتال اسی کی مخالفت میں کی گئی ہے۔ دیگر شعبے کےایک لاکھ سے زائد ملازمین بھی بعض سرکاری کمپنیوں کی نجکاری اور حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے خلاف ہڑتال پر ہیں۔

پرائیویٹ ہوائی کمپنیوں نے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں اور ہڑتال کا اثر تقریباً تمام ہوائی اڈوں پر دیکھاگیا ہے۔ حیدرآباد سے جانے والے بیشتر ہوائی جہاز کھڑے رہے جبکہ کولکتہ کے لیے صرف انڈین ائر لائنز کی ہی پروازیں جا سکیں باقی سبھی کمپنیوں کی پروازیں مختلف ہوائی اڈوں پر منسوخ کرنی پڑی ہیں۔ صبح کے وقت دلی ائر پورٹ پرائر ٹریفک بہت ہی سست تھا۔

ہڑتال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے فضائیہ اور بحری عملے کو طلب کیا ہے لیکن جس پیمانے پر پروازوں کی آمد و رفت میں خلل پڑا ہے، فوج کے اس عملے سےکوئی خاص مدد نہیں مل سکی ہے۔ ائر ٹریفک کنٹرولر اسٹاف نے اس ہڑتال میں حصّہ نہیں لیا ہے اور وہ فضائیہ و بحری حکام کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

 ملک میں پہلی بار ائرپورٹ اتھارٹی آف انڈیا کے تقریباً بیس ہزار ملازم ہڑتال پرگئے ہیں۔ حکومت نے ممبئی اور دلی ائر پورٹ کی نجکاری کا فیصلہ کیا ہےاور یہ ہڑتال اسی کی مخالفت میں کی گئی ہے۔

بینک اور بیمہ کمپنیوں میں کام کاج رکنے سے تجارتی و صنعتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ ہڑتال کا سب سے زیادہ اثر کولکتہ اور کیرالہ میں ہے جہاں عام زندگی رک سی گئی ہے۔ ان ریاستوں میں سکول اور سرکاری دفاتر پوری طرح بند ہیں اور ٹیکسی اور بسيں بھی سڑکوں پر موجود نہیں۔ بعض علاقوں میں ریل گاڑیوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔

مرکز میں کانگریس کی قیادت میں یو پی اے حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد مزدور یونیونوں کی جانب سے یہ پہلی ملک گیر ہڑتال ہے۔ ائر پورٹ اتھارٹی کے جنرل سیکرٹری ایم این گھوشال کا کہنا ہے کہ’ نجکاری کے نام پر حکومت ائر پورٹوں کو نجی کمپنیوں کے ہاتھ بیچنا چاہتی ہے جبکہ سرکاری ملازم یہ کام خود کرسکتے ہیں۔ ہر برس حکومت کو کئی سو کروڑ روپے کا فائدہ ہوتا ہے اور حکومت کے نئے قدم سے یہ فائدہ نجی کمپنیوں کو ہوگا‘۔

ہڑتال کا سب سے زیادہ اثر کولکتہ اور کیرالہ میں ہے جہاں عام زندگی رک سی گئی ہے۔ ان ریاستوں میں سکول اور سرکاری دفاتر پوری طرح بند ہیں اور ٹیکسی اور بسيں بھی سڑکوں پر موجود نہیں۔ بعض علاقوں میں ریل گاڑیوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔

تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ نجی کاری کا فیصلہ ہوائی اڈوں کی بہتری کے لیے کیا گیا ہے تاکہ وہ بین الاقوامی معیار پر پورا اتر سکیں۔ مستقبل میں پروازوں میں اضافہ ہوگا جس کے لیے بہتر سہولیات کی ضرورت ہے۔

ہندوستان میں اقتصادی اصلاحات کے عمل کے بعد اقتصادی سرگرمیوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ آج ہی کابینہ نے ائرانڈیا کو مزید تینتالیس ہوائی جہاز خریدنے کو منظوری دی ہے اور موجودہ ہوائی اڈے نہ صرف نا کافی ہیں بلکہ انہیں جدید بنانے کی بھی سخت ضرورت ہے۔

حکومت یہ کام نجی شعبے کو دینا چاہتی ہے کیونکہ پچاس برس کے سرکاری کنٹرول کے بعد حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اب اس میں نجی زمرے کی شمولیت ضروری ہے لیکن بائیں بازو اور مزدور یونینز اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی نےآج کی ہڑتال کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بائیں بازو کی جماعتیں آئندہ برس کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اس طرح کی غیر ضروری ہڑتال کرہی ہیں۔ بی جے پی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس ہڑتال سے کئی ارب روپے کا نقصان ہوا ہے اور وہ ان جماعتوں سے وصول کیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد