بھارت میں ہڑتال کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں سرکاری بینکوں اور انشورنس کمپنیوں میں کام کرنے والے دس لاکھ افراد ادراوں کے ادغام کی پالیسی کے خلاف انتیس ستمبر سے احتجاجاً ہڑتال پر جارہے ہیں۔ حکومت نے ان اداروں کے ادغام کی حمایت کی ہے۔ ایک سو چوبیس ہوائی اڈوں کے تیس ہزار کے قریب کارکن بھی یونائٹیڈ فورم آف بینک یونین کی اس ہڑتال میں شریک ہوں گے۔ یہ کارکن حکومت کے نج کاری کے منصوبوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔ آل انڈیا بینک ایمپلائز ایسو سی ایشن یا اے آئی بی ای اے کا کہنا ہے کہ ان اداروں کا ملاپ ملازمتوں کے مواقعوں میں کمی لے آئے گا۔ اے آئی بی ای اے کے کمال بھٹاچاریہ نےخبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا کہ اس وقت ان اداروں کی برانچو ں کےدائرہ کار کو بڑھانے کی ضرورت ہے نا کہ انہیں ادغام کے نام پر کم کردیا جائے ۔ ’اس سلسلے میں سماجی پہلوؤوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے‘۔ بھارت میں سرکاری بینک ملک کی بینکاری کا چھیاسٹھ فیصد انتظام یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے تقریبًا پچانوے فیصد یعنی بینک اور انشورنس کمپنیوں میں کام کرنے والے ایک اعشاریہ تین ملین ملازمین کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اس سے قبل مارچ میں ہونے والی ہڑتال میں دس لاکھ کارکن شریک ہوئے تھے۔ اس مرتبہ یہ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ اس ہڑتال میں نجی اور غیر ملکی بینکوں کے بھی کچھ اراکان کے شریک ہونے کا امکان ہے۔ کارکن اس سلسلے میں ائر ٹریفک کے سوا ہوائی اڈوں کی تمام سروسز کو بند کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||