بھارتی اداروں پر پابندیاں ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے ہندوستان کے بعض خلائی اور جوہری اداروں پرعائد جوہری پابندیاں واپس لے لی ہیں۔ اب ان اداروں کو امریکہ سے بغیر خصوصی لائسینس کے حساّس ٹیکنالوجی خریدنے کی اجازت ہوگی۔ امریکہ نے مئی انیس اٹھانوۓ میں بھارت پر اس وقت پابندی عائد کی تھی جب اس نے جوہری بم کا تجربہ کیا تھا۔ حال ہی میں وزیراعظم منموہن سنگھ امریکہ کے دورے پر گیے تھے۔ تبھی دونوں ملکوں نے جوہری توانائی کے شعبے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ نئی دلی میں امریکی سفیر ڈیویڈ ملفرڈ نے امید ظاہر کی ہے کہ تازہ فیصلے سے دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ تکنیک کی تجارت کو فروغ ملےگا۔ انکا کہنا تھا ’یہ قطعی طور پر صدر بش کے اس وعدے کا نتیجہ ہے کہ وہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان مشترکہ حکمت عملی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔‘ امریکہ نے اس طرح کی بھی تکنیک پر پابندی ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے متعلق یہ اندیشہ ہے کہ انکا استعمال جوہری ہتھیاروں کے لیے بھی ہوسکتا ہے لیکن انکا شمار جوہری عدم پھیلاؤ کی فہرست میں نہیں ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ہندوستان نے ابھی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں۔ اس فیصلے سے مہاراشٹر، راجستھان اور تمل ناڈو میں واقع جوہری توانائی کے اداروں کو فائدہ ہوگا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ یہ ادارے انٹر نیشنل اٹامک انرجی ایجینسی یعنی آئی اے ای اے کی نگرانی میں کام کر سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ خلائی سائنس سے متعلق انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن اور اس سے متعلقہ دیگر اداروں کو بھی فائدہ ہوگا۔ ہندوستان اور امریکہ سرد جنگ کے دوران ایک دوسرے کے حریف تھے لیکن حالیہ برسوں میں دونوں کےتعلقات بہتر ہوۓ ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||